أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِؕ ۞

ترجمہ:

پھر آپ نے کیا سمجھا روز جزاء کیا ہے ؟

اس آیت میں دوبارہ فرمایا ہے : آپ نے کیا سمجھا کہ روز ِجزاء کیا ہے، کیونکہ پہلی بار کا خطاب اہل دوزخ کے لیے ہے اور دوسری بار کا خطاب اہل جنت کے لیے ہے، گویا کہ فرمایا : آپ نے کیا سمجھا کہ فجاز کے ساتھ قیامت کے دن کیا معاملہ کیا جائے گا اور ابرار کے ساتھ قیامت کے دن کیا معاملہ کیا جائے گا اور ” یوم الدین “ کا دو بار ذکر اس کی اہمیت اور تعظیم کی وجہ سے کیا گیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 18