خلافت حضرت ابو بکر کا اہلسنت کے نزدیک قطعی ہونے کا منہج و اسلوب

تحریر: اسد الطحاوی

________________________________________________

تمہید:
اس تحریر کو  لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ جب اہلسنت کے ائمہ کی تصریحات میں کچھ لوگ ائمہ کے اس کلام کہ
  ”نبی اکرمﷺ سے اپنے خلیفہ یا خلفاء کے بارے کوئی نص وارد نہیں فرمائی ”
ایسی تصریحات کو پڑھ کر اس غلط فہمی میں جا گرتے ہیں کہ اسکا مطلب چونکہ نص وارد نہیں تو افضلیت حضرت  ابو بکر ؓ یا شیخین  کی افضلیت قطعی نہیں ۔
جبکہ ائمہ اہلسنت  کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ نبی کی زبان مبارک سے تو نص کےطور پر قول وارد اس لیے نہ ہوا کیونکہ نبی اکرمﷺ اللہ کے حکم سے جانتے تھے کہ اس امت کے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیقؓ ہی منتخب ہونگے جبکہ تقدیر پر اللہ کے حکم سے نبی اکرمﷺ مطلع ہو چکے تھے ۔ اس لیے انہوں نے واضح اعلان نہ فرمایا۔ کیونکہ حضور اکرمﷺ یہ جانتے تھے کہ صحابہ کرامؓ منشاء خدا اور منشاء رسول پر خود ہی جمع ہو جائیں گے۔تو یہ موقف اہلسنت اللہ  کی طرف سے پہلے سے منتخب کردہ مانتے ہیں ۔ اس لیے امر خدا فرمان رسول ؓ کی بنسبت زیادہ قطعی ہوتا ہے ۔
اہل سنت  کے پاس حضرت ابو بکرصدیقؓ کی خلافت اور  فرمان رسولﷺ اتنے مضبوط اور جید ہیں ۔ لیکن بر صغیر میں  ہمارے خطباء اور  پیشہ ور نقیبوں نے اہلسنت کے سٹیج استعمال کرتے ہوئے ”محبت اہل بیت” کے لیبل میں  حضرت مولا علیؓ  کے فضائل میں مناکیر اور غیر ثابت روایات اتنی تعداد میں سنائی ہیں۔ کہ اب وہ  ہر ایسی روایت جو حضرت علیؓ کی جزوی فضیلت پر ہو اسکو بیان کرکے مولا علی ؓ کی افضلیت اور حق خلافت کا اعلان کرنے سے نہیں کتراتے۔
اور ہماری بھولی بھالی عوام  ”محبت اہل بیت” کے لیبل میں ہر مال قبول کر رہی ہے ۔ اور یہ سلسلہ بریلویوں کی پیری فقیری  اور درباری سلسلہ کے زریعہ  پھیلانے کا آغاز کیا تھا ۔ جبکہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بارے  نبی اکرمﷺ کے جو فرمان مروی ہوئے ہیں افضلیت و خلافت کے اہل ہونے کے اسکے باوجود اہلسنت کا موقف ہے ۔ کہ نبی اکرمﷺ نے واضح نص کے طور پر اپنے خلیفہ کا کوئی اعلان نہیں فرمایا تھا ۔ بلکہ انہوں نے جید اشاروں سے حضرت ابو بکرؓ  کا نام فرمایا تھا۔  اتنی احتیاط کی ہے اہلسنت نے ۔ اگر ایسی روایات جو مولا علیؓ کے لیے ہوتی تو اہل تفضیل تو اہلسنت کو  مقابل ایسی روایات کو نقص قطعی بنانے سے بھی پچھے نہ رہتے ۔

________________________________________________
اس موقف کو اب ہم ایک مشہور روایت  کے تحت ائمہ اہلسنت کے منہج سے سمجھاتے ہیں :

نبی اکرمﷺ سے مروی  فرما ن مبارک روایت کرتے ہیں اما م مسلم اپنی سند سے ؛
حدثنا عبيد الله بن سعيد ، حدثنا يزيد بن هارون ، اخبرنا إبراهيم بن سعد ، حدثنا صالح بن كيسان ، عن الزهري ، عن عروة ، عن عائشة ، قالت: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه: ” ادعي لي ابا بكر اباك، واخاك، حتى اكتب كتابا، فإني اخاف ان يتمنى متمن، ويقول قائل انا اولى، ويابى الله والمؤمنون إلا ابا بكر

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے (آخری) مرض کے دوران میں مجھ سے فرمایا؛اپنے والد ابو بکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں، مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہنے والا کہے گا: میں زیادہ حقدار ہوں “جبکہ اللہ بھی ابو بکر کے سوا (کسی اور کی جانشینی) سے انکار فرماتا ہے اور مومن بھی۔”
[صحیح مسلم، برقم: 6181]

________________________________________________

امام بیھقی مذکورہ روایت کے ساتھ دیگر روایات بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
وإنما لم ينص عليه نصا لا يحتمل غيره والله أعلم
اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس پر واضح طور پر نص کیوں نہیں کی(یعنی بطور خلافت نبی اکرمﷺ صحابہ کو  اعلان نہ فرمایا ) جو کسی اور بات کی گنجائش نہ رکھتی ہو،

پھر حضور اکرمﷺ کے اس فعل کی شرح فرماتے ہوئے امام بیھقی کہتے ہیں ؛
لأنه علم بإعلام الله إياه أن المسلمين يجتمعون عليه، وأن خلافته تنعقد بإجماعهم على بيعته، وقد دل كتاب الله عز وجل على إمامة أبي بكر ومن بعده من الخلفاء

کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع پا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم تھا کہ مسلمان ان پر متفق ہوں گے اور ان کی خلافت مسلمانوں کے ان پر اتفاق اور بیعت سے قائم ہوگی۔ اللہ عز و جل کی کتاب نے حضرت ابو بکر اور ان کے بعد خلفاء کی امامت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
[الاعتقاد للبیھقی، ص۳۴۱]

________________________________________________

اسی طرح امام الآجری ؒ اس روایت کے تحت باب قائم کرتے ہی:
باب ذكر بيان تقدمة أبي بكر رضي الله عنه على جميع الصحابة
باب: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تمام صحابہ پر برتری کا بیان
[الشريعة، برقم: 1291]

اور  یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت مولا علیؓ کے فضائل کی تعداد زیادہ ہیں ۔ توفقط اس امر کو بنیاد بنا کر لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جسکے فضائل زیادہ ہیں تو گویہ افضل   ہونے اور خلافت کا حق رکھنے کا بھی وہی حقدار ہے ۔
جبکہ یہ منھج نہ ہی قرآن میں ہے اور نہ ہی فرمان رسولﷺ میں ہے اور نہ ہی صحابہ کرامؓ میں یہ کوئی یہ اجتہاد تھا کہ جس صحابی  کے فضائل زیادہ ہوں تو وہ خلافت کا حقدار یا صحابہ میں سب سے بہتر ہوگا۔ بلکہ صحابہ کرام ؓ  اور ائمہ اہلسنت  نے  فضائل کی مقدار کو مد نظر نہیں رکھا بلکہ فضائل کی نوعیت کو مد نظر رکھتے ہیں ۔

جیسا کہ مذکورہ  روایت کے تحت   امام ابو نعیم صفہانی علیہ الرحمہ (المتوفى: 430ه) فرماتے ہیں ؛
لْآيَةَ فَهَؤُلَاءِ وَأَشْبَاهُهُمْ مِمَّنْ لَمْ نَذْكُرْهُمْ مِنْ أَهْلِ الشَّجَاعَةِ وَالنَّجْدَةِ. فَإِذَا شَرَكَهُ فِي الشَّجَاعَةِ جَمَاعَةٌ فَلَيْسَ أَحَدٌ أَوْلَى بِالْفَضْلِ مِنَ الْآخَرِ، مِنْ أَنَّ الَّذِيَ ذَكَرْتُهُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْفَضَائِلِ مَقْبُولٌ، وَمَا أَسْنَدْتُهُ مِنَ الْمَنَاقِبِ وَالْفَضَائِلِ مِمَّا لَمْ نَذْكُرْهَا أَكْثَرُ وَأَوْفَرُ مِنْهَا، اخْتُصَّ بِهَا دُونِ كُلِّ أَحَدٍ، وَمِنْهَا مَا شُورِكَ فِيهَا. وَأَمَّا الْخَصْلَةُ الَّتِي اخْتُصَّ بِهَا الصِّدِّيقُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا يَشْرَكُهُ فِيهَا أَحَدٌ. فَمِنْ ذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ» رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَاهُ
آیت کی یہ تشریح ہے کہ یہ اور ان جیسے دیگر بہادری اور شجاعت والے لوگوں میں شامل ہیں جن کا ہم نے ذکر نہیں کیا۔ اگر کئی لوگ شجاعت میں شریک ہوں تو ان میں سے کسی ایک کو دوسرے پر برتری حاصل نہیں ہوگی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل جو ہم نے ذکر کیے ہیں، وہ مقبول ہیں، اور جو ہم نے ان کی مناقب اور فضائل بیان کیے ہیں، وہ ان سے زیادہ اور وسیع ہیں، اور ان میں سے کچھ میں انہیں دوسروں پر خصوصی فضیلت حاصل ہے۔
لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وہ خصوصیت جو کسی اور میں نہیں پائی جاتی، ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہے: “اللہ اور مومن ابو بکر کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے” رضی اللہ عنہ اور اللہ ان سے راضی ہو۔
[كتاب الإمامة والرد على الرافضة للأصبهاني،برقم:39]

________________________________________________

اسی طرح امام ابن حبان مذکورہ روایت کے تحت جو باب باندھتے ہیں وہ درج ذیل ہے ؛
ذكر إشارة المصطفى صلى الله عليه وسلم إلى ما أشار به في أبي بكر رضي الله عنه
نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو اشارے فرمائے، اسکا ذکر
[صحیح ابن حبان]

امام نووی شارح مسلم مذکورہ روایت کے تحت فرماتے ہیں  :
هذا الحديث دلالة ظاهرة لفضل أبي بكر الصديق رضي الله عنه وإخبار منه صلى الله عليه وسلم بما سيقع في المستقبل بعد وفاته وأن المسلمين يأبون عقد الخلافة لغيره وفيه إشارة إلى أنه سيقع نزاع ووقع كل ذلك
یہ حدیث واضح دلیل ہے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس بات کی خبر ہے جو ان کی وفات کے بعد مستقبل میں واقع ہوگی کہ مسلمان کسی اور کے لیے خلافت کا عقد قبول نہیں کریں گے اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اختلافات ہوں گے اور یہ سب کچھ واقع ہوا۔
[شرح صحيح مسلم بن الحجاج للنووی ،ج11وص51]

________________________________________________

امام ابو فضل ابن عراقی  علیہ الرحمہ مذکورہ روایت کے تحت فرماتے ہیں:
وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ  صْغَرَ مِنْ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – بِسَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ، وَبُويِعَ بَعْدَ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – بِالْخِلَافَةِ، وَأَشَارَ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – إلَى ذَلِكَ بِأُمُورٍ مِنْهَا  قَوْلُهُ: «يَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إلَّا أَبَا بَكْرٍ»
حضرت ابو بکر صدیقؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دو یا تین سال چھوٹے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کے لیے منتخب ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی طرف کچھ اشارات فرمائے تھے، جن میں سے ایک یہ تھا : “اللہ اور مومن ابو بکر کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے”،
[طرح التثريب في شرح التقريب، ص 70]

________________________________________________

امام ملا علی قاری علیہ الرحمہ  امام بیھقی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں :
وقال البيهقي: وقد حكى سفيان بن عيينة عن أهل العلم، قيل: إن النبي، عليه الصلاة والسلام، أراد أن يكتب استخلاف أبي بكر، رضي الله عنه، ثم ترك ذلك اعتمادا على ما علمه من تقدير الله تعالى. وذلك كما هم في أول مرضه حين قال: وارأساه، ثم ترك الكتاب، وقال: يأبي الله والمؤمنون إلا أبا بكر،
امام بیہقی فرماتے ہیں: سفیان بن عیینہ نے اہل علم سے روایت کیا ہے۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی جانشینی و خلافت کا لکھنے کا ارادہ فرمایا، پھر اس ارادے کو چھوڑ دیا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے علم پر  یقین تھا (کہ اللہ نے حضرت ابو بکر کو منتخب کر لیا تو میرا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں )۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے ابتدائی دنوں میں فرمایا: “وارأساه” (میرے سر کا درد)، پھر کتابت کو چھوڑ دیا اور فرمایا: “اللہ اور مومن ابو بکر کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے”۔
[عمدة القاري شرح صحيح البخاريم،ج2،ص171]

________________________________________________

اسی طرح امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ اس روایت کے تحت شرح میں لکھتے ہیں :
قوله عن يحيى بن سعيد هو الأنصاري والسند كله مدنيون وقد تقدم ما يتعلق بالسند في كتاب كفارة المرض وتقدم الكثير من فوائد المتن هناك قوله فأعهد أي أعين القائم بالأمر بعدي هذا هو الذي فهمه البخاري فترجم به وإن كان العهد أعم من ذلك لكن وقع في رواية عروة عن عائشة بلفظ ادعي لي أباك وأخاك حتى أكتب كتابا وقال في آخره ويأبى الله والمؤمنون إلا أبا بكر وفي رواية لمسلم ادعي لي أبا بكر أكتب كتابا فإني أخاف أن يتمنى متمن ويأبى الله والمؤمنون إلا أبا بكر وفي رواية للبزار معاذ الله أن تختلف الناس على أبي بكر فهذا يرشد إلى أن المراد الخلافة وأفرط المهلب فقال فيه دليل قاطع في خلافة أبي بكر والعجب أنه قرر بعد ذلك أنه ثبت أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يستخلف الحديث الثاني
یہ بیان یحییٰ بن سعید انصاری کے بارے میں ہے، اور اس سند میں سب مدنی (مدینہ منورہ کے) راوی ہیں۔ اس سند سے متعلق تفصیل کتاب کفارہ المرض میں بیان ہو چکی ہے اور متن کے بہت سے فوائد بھی وہاں ذکر ہو چکے ہیں۔
یہاں قول “فأعهد” یعنی میں اپنے بعد کے قائم مقام کو مقرر کر دوں، یہی وہ مطلب ہے جو امام بخاری نے سمجھا اور اسی پر باب قائم کیا، اگرچہ عہد کا مطلب اس سے وسیع ہے۔ تاہم، عروہ کی روایت میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ “میرے والد اور بھائی کو بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں” اور آخر میں فرمایا “اللہ اور مومن ابو بکر کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے”۔ مسلم کی روایت میں ہے کہ “ابو بکر کو بلاؤ تاکہ میں تحریر لکھ دوں، کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کوئی اور آرزو نہ کرے اور اللہ اور مومن ابو بکر کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے”۔ بزار کی روایت میں ہے “اللہ کی پناہ کہ لوگ ابو بکر پر اختلاف کریں”، اس سے مراد خلافت کی طرف اشارہ ہے۔
مہلب نے اس میں حضرت ابو بکر کی خلافت پر قاطع دلیل قرار دی، حالانکہ تعجب کی بات ہے کہ انہوں نے بعد میں ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا۔
[فتح الباري، برقم؛ 7217]

________________________________________________

امام قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ اس روایت کے تحت نقل کرتے ہیں:
وأما غلو الشيعة بقولهم: فإن علياً – رضى الله عنه – وصىُّ رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ فباطل لا أصل له. وأما الصديق – رضى الله عنه – إذا أثبتنا ولايته باتفاق الصحابة عليه على وجه يوجب إمامته، فإن المحققين من أئمتنا أنكروا أن يكون ذلك بنص قاطع منه – عليه الصلاة والسلام – على إمامته. وقالوا: لو كان النص عند الصحابة لم يقع منها ما وقع عند إمامته والعقد له، ولا كان ما كان من الاختلاف، فدل ذلك على أنه رأى منهم وقع فيه تردد من طائفة ثم أستقر الأمر فانجزم الرأى عليه ويجعل هؤلاء ما وقع فى هذا الحديث: ” ويأبى الله والمؤمنون إلا أبا بكر ” مع ما وقع من أمثاله من الظواهر التى لا تبلغ النص الجلى القاطع الذى لا يسوغ خلافه ولا الاجتهاد معه۔
اور جہاں تک شیعہ کے اس قول کا تعلق ہے کہ علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی تھے، تو یہ باطل ہے اور اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اور جہاں تک صدیق رضی اللہ عنہ کا معاملہ ہے، اگر ہم ان کی ولایت کو صحابہ کے اتفاق سے ثابت کرتے ہیں جو ان کی امامت کو واجب بناتا ہے، تو ہمارے محققین ائمہ نے انکار کیا ہے کہ یہ کوئی قاطع نص ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی امامت پر کیا ہو۔ انہوں نے کہا: اگر صحابہ کے پاس کوئی نص ہوتی تو ان کی امامت اور خلافت کے وقت جو کچھ ہوا وہ نہ ہوتا، اور نہ ہی کوئی اختلاف ہوتا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صحابہ کی رائے تھی جس میں ابتدا میں کچھ تردد تھا، پھر بات مستحکم ہو گئی اور سب نے اس پر اتفاق کر لیا۔ اور اس حدیث “اللہ اور مومنین ابوبکر کے سوا کسی اور کو قبول نہیں کرتے” اور اس جیسے دیگر ظواہر کو نص قطعی نہیں مانا گیا، جس کے خلاف نہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی اجتہاد کی گنجائش ہے۔

پھر امام قاضی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
. قال القاضى: فى هذا الحديث حجة لأهل السنة أن النبى – عليه الصلاة والسلام – لم يستخلف أبا بكر ولا نص عليه، خلافاً لابن أخت عبد الواحد بن زيد من قوله بالنص على أبى بكر، وخلافاً لمن يقول بالنص على غيره. ولو كان نصاً لما خفى عن الأنصار فى طلبهم الخلافة فيه، ولا على غيرهم من قريش ممن طلبها أولاً لنفسه إذا كانوا ممن لا يليق بهم خلافه ما عهده رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وإنما تخالفوا فيما وكل إلى اجتهادهم
قاضی نے کہا: اس حدیث میں اہل سنت کے لیے دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر کو خلیفہ مقرر نہیں کیا اور نہ ہی ان پر نص کیا، عبد الواحد بن زید کے بھانجے کے برخلاف جو ابوبکر پر نص کے قائل تھے، اور ان لوگوں کے برخلاف جو کسی اور پر نص کے قائل ہیں۔ اگر یہ نص ہوتی تو انصار پر خلافت کے مطالبہ میں مخفی نہ رہتی، اور نہ ہی قریش کے ان لوگوں پر جو پہلے اپنے لیے خلافت کا مطالبہ کرتے تھے، کیونکہ وہ ایسے نہیں تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نص کے خلاف کریں۔ اختلاف صرف اس بات میں ہوا جو ان کے اجتہاد پر موقوف تھی۔
[شَرْحُ صَحِيح مُسْلِمِ لِلقَاضِى عِيَاض، ج7،ص388]

________________________________________________

یعنی یہ روایت اہلسنت کے لیے حجت اس اعتبار سے ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ کی خلافت منتخب ہونا  اللہ کی طرف سے امر تھا ۔ اور حق تھا اور یہ روافض کے ان خیالات کا رد کرتی ہے کہ اس امر میں مولا علیؓ کا حق چھین لیا گیا یا ان کے ساتھ نا  انصافی ہوئی ۔ جنکا دعویٰ ہے کہ مولا علی  اللہ و رسولؓ کی طرف سے منصوص خلیفہ تھے۔ جبکہ حضور کے فرمان میں کہیں بھی نص وارد نہیں کسی بھی خلیفہ کے بارے۔ جبکہ کچھ صحابہ نے حضور کے فرمان کو بطور نص ہونے پر متعدد صحابہ کرامؓ کی خلافت پر قیاس کیا ہے لیکن یہ امر صحیح نہیں ۔ فرمان رسولﷺ میں کوئی نصوص نہیں ۔
اور اسکی وجہ حضور اکرمﷺ کا تقدیر میں  حضرت ابو بکر کی خلافت پر صحابہ کا منتخب ہونا جانتے تھے ۔ اس لیے غیب کی خبر فرمائی کہ اللہ اور مومنین حضرت ابو بکر کے سوا کسی پر راضی نہ ہونگے۔

________________________________________________

اسی طرح   شارح بخاری امام قسطلانی مالکی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
قوموا عني ولا ينبغي عندي التنازع ففيه التصريح بأنه من قوله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لا من قول ابن عباس، والظاهر أن هذا الكتاب الذي أراده إنما هو في النص على خلافة أبي بكر، لكنهم لما تنازعوا واشتدّ مرضه -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عدل عن ذلك معوّلاً على ما أصله من استخلافه في الصلاة. وعند مسلم عن عائشة أنه -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قال: “ادعي لي أبا بكر وأخاك أكتب كتابًا فإني أخاف أن يتمنى متمنٍّ ويقول قائل: أنا أولى ويأبى الله والمؤمنون إلا أبا بكر”. وعند البزار من حديثها لما اشتد وجعه عليه الصلاة والسلام قال: “ائتوني بدواة وكتف أو قرطاس أكتب لأبي بكر كتابًا لا يختلف الناس عليه” ثم قال: “معاذ الله أن يختلف الناس على أبي بكر” فهذا نص صريح فيما ذكرناه وأنه -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إنما ترك كتابًا معوّلاً على أنه لا يقع إلا كذلك وهذا يبطل قول من قال: إنه كتاب بزيادة أحكام وتعليم
مجھ سے اٹھ جاؤ، میرے پاس جھگڑا کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے، نہ کہ ابن عباس کا۔ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کتاب سے مراد ابوبکر کی خلافت پر نص کرنا تھا، لیکن جب صحابہ میں جھگڑا ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی، تو انہوں نے اس سے رجوع کر لیا اور نماز میں ابوبکر کو خلیفہ بنانے پر اعتماد کر لیا۔
امام مسلم نےحضرت  عائشہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ابوبکر اور اپنے بھائی کو بلاؤ، میں ایک صحیفہ  لکھوں گا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کوئی خواہش کرے گا اور کوئی کہے گا کہ میں زیادہ حق رکھتا ہوں، حالانکہ اللہ اور مومنین ابوبکر کے سوا کسی کو قبول نہیں کرتے۔”
اور بزار نےحضرت  عائشہ سے روایت کیا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی، تو انہوں نے فرمایا: “میرے پاس دوات اور کندھا یا کاغذ لاؤ، میں ابوبکر کے لئے ایک صحیفہ لکھوں گا تاکہ لوگ ان کے معاملے میں اختلاف نہ کریں” پھر فرمایا: “اللہ نہ کرے کہ لوگ ابوبکر پر اختلاف کریں”۔ یہ صریح نص ہے اس بارے میں جو ہم نے ذکر کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کتاب اس اعتماد کے ساتھ چھوڑ دی کہ ایسا ہی ہوگا۔ یہ ان لوگوں کے قول کو باطل کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ یہ کتاب اضافی احکام اور تعلیمات کے بارے میں تھی۔
[إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري ، ج5،ص169]

________________________________________________

نوٹ:
یعنی نبی اکرمﷺ اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر پر مطلع ہو چکے تھے تو اعلان کرنے کی ضرورت نہ تھی نص کے طور پر کیونکہ اختلاف کی صورت میں بھی آخر میں صحابہ کرامؓ مراد خدا اور مراد نبیؓ پر ہی فیصلہ کرینگے۔

________________________________________________

اسی طرح   مفر اہلسنت امام ابن کثیر علیہ الرحمہ مذکورہ روایت کے تحت فرماتے ہیں:
فَصْلٌ وَمَنْ تَأَمَّلَ مَا ذَكَرْنَاهُ ظَهَرَ لَهُ إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ الْمُهَاجِرِينَ مِنْهُمْ وَالْأَنْصَارِ عَلَى تَقْدِيمِ أَبى بكر، وَظهر برهَان قَوْله عَلَيْهِ السَّلَام: ” يَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ “. وَظَهَرَ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنُصَّ عَلَى الْخِلَافَةِ عَيْنًا لِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، لَا لِأَبِي بَكْرٍ، كَمَا قَدْ زَعَمَهُ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ، وَلَا لَعَلِّي كَمَا تَقوله طَائِفَة من الرَّافِضَةِ. وَلَكِنْ أَشَارَ إِشَارَةً قَوِيَّةً يَفْهَمُهَا كُلُّ ذِي لُبٍّ وَعَقْلٍ إِلَى الصِّدِّيقِ كَمَا قَدَّمْنَا وسنذكره وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.
فصل: جو کوئی اس بات پر غور کرے جو ہم نے ذکر کیا، اسے مہاجرین اور انصار میں سے تمام صحابہ کاحضرت  ابوبکر کی تقدیم پر اجماع نظر آئے گا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ثابت ہوگا: “اللہ اور مومن ابوبکر کے سوا کسی کو قبول نہیں کرتے۔”
اور اسے یہ بھی واضح ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کو خلافت کے لیے نامزد نہیں کیا، نہ حضرت  ابوبکر کو، جیسا کہ اہل سنت کے ایک گروہ نے دعوی کیا ہے، اور نہ حضرت علی کو، جیسا کہ رافضی گروہ کہتا ہے۔
بلکہ انہوں(رسولﷺ) نے ایک مضبوط اشارہ کیا، جسے ہر سمجھدار اور عقل مند شخص حضرت  ابوبکر کے حق میں سمجھ سکتا ہے، جیسا کہ ہم نے پیش کیا ہے اور ذکر کریں گے، الحمد اللہ!
[السيرة النبوية، ج4،ص496]

________________________________________________

خلاصہ تحقیق:
نبی اکرمﷺ کے فرمان میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کو بطور نص خلیفہ کا اعلان نہ ہونا اہلسنت کے نزدیک اس بات کو مستلزم نہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت  قطعی نہیں بلکہ اہلسنت کے نزدیک حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت فرمان رسولﷺ کے مطابق اللہ کا فیصلہ تھا اور اللہ نے اپنی غیبی اخبار سے اعلان کر دیا تھا کہ اللہ اور مومنین سوائے حضرت ابو بکر  کے علاوہ کسی پر راضی نہ ہونگے امر خلافت کے لیے !
یعنی یہ خلافت ضرور بلضرور حضرت ابو بکر کو ملنی تھی ۔اور اس میں اللہ و مومنین اور حضور کی مرضی شامل تھی۔ اس لیے انہوں نے اسکا اعلان کا پہلے فیصلہ کیا تھا لیکن پھر اپنے اجتہاد سے اس امر کو ترک کر دیا تھا۔ کہ وہ اعلان کریں کیونکہ  نبی کریمﷺ کو جو خدشہ تھا کہ امت میں اختلاف نہ ہو لیکن وہ اللہ کے حکم سے وہ مطلع ہو گئے تھے کہ صحابہ کرامؓ حضرت ابو بکر  کی خلافت پر جمع ہو جائیں گے تو انہوں نے اعلان کا اراردہ ترک فرما دیا۔

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی ✍️