يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ – سورۃ نمبر 83 المطففين آیت نمبر 6
sulemansubhani نے Sunday، 8 December 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ ۞
ترجمہ:
جب سب لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے.
المطففین : ٦ میں فرمایا ہے : جب سب لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس دن کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :
قیامت کے دن گرمی کی شدت سے پسینہ آنے کے مختلف احوال
حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے المطففین : ٦ کی تفسیر میں فرمایا : حتیٰ کہ اس دن ایک شخص اپنے پسینہ میں آدھے کا نوں تک ڈوب جائے گا۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٣٨، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٣٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٤٧٨)
حضرت مقدار بن الاسود (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سورج کو لوگوں کے قریب کردیا جائے گا حتیٰ کہ وہ ان سے ایک میل کی مقدار پر ہوگا ( سلیم بن عامر نے کہا : میں نہیں جانتا کہ اس میل سے کیا مراد ہے) پھر لوگ اپنے اعمال کے اعتبار سے اپنے پسینہ میں ہوں گے، کسی کے ٹخنوں تک پسینہ ہوگا اور کسی کے گھنٹوں تک پسینہ ہوگا اور کسی کو کھوں تک پسینہ ہوگا اور بعض وہ لوگ ہوں گے کہ پسینہ ان کی لگام بنا ہوا ہوگا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا۔
( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٦٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٤٢١، مسند احمد ج ٦ ص ٤۔ ١٣ المعجم الکبیر ج ٢٠ ص ٦٠٢، صحیح ابن رقم الحدیث : ٧٣٣٠)
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کا دن مومن پر آسان کردیا جائے گا حتیٰ کہ جتنے وقت میں وہ دنیا میں فرض نماز پڑھتا تھا اس سے بھی کم وقت میں وہ دن اس پر گزر جائے گا۔
( مسند احمد ج ٣ ص ٧٥، مسند ابو یعلیٰ ، رقم الحدیث : ١٣٩٠، صحیح ابن حبان رقمالحدیث : ٧٣٣٤)
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : مومن پر قیامت کا دن فرض نماز کے وقت کی مقدار آسان کردیا جائے گا۔
اور اس پر دلیل قرآن مجید کی یہ آیات ہیں :
اَ لَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللہ ِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ۔ (یونس : ٦٢۔ ٦٣)
سنو ! اولیاء اللہ پر ( قیامت کے دن) نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غم گین ہوں گے۔ جو لوگ ایمان لائے اور وہ ( اللہ سے) ڈرتے رہتے تھے۔
اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم اور اپنے جود اور لطف سے ہمیں بھی ان مقرب لوگوں کے گروہ میں شامل کرلے۔
اس سے پہلے صحیح البخاری (٤٩٣٨) کے حوالے سے گزر چکا ہے کہ میدان حشر میں لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ اپنی قبروں سے نکل کر کھڑے ہوں گے، دوسرا قول یہ ہے : لوگ ایک دوسرے سے اپنے دنیاوی حقوق لینے کے لیے کھڑے ہوں گے اور ایک قول یہ ہے کہ لوگ اللہ کے سامنے فیصلہ کے لیے کھڑے ہوں گے۔
مخلوق کی تعظیم کے لیے قیام کی ممانعت میں احادیث اور آثار
اللہ کے سامنے جو بندے کھڑے ہوں گے وہ تعظیم عبویت کے لیے کھڑے ہوں گے، رہا بندوں کا بندوں کے سامنے کھڑا ہونا، سو اس میں اختلاف ہے۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جائز نہیں ہے اور بعض احادیث سے اس کا جواز معلوم ہوتا ہے، عدم جواز کی احادیث حسب ذیل ہیں :
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ کوئی محبوب نہیں تھا اور صحابہ آپ کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوتے تھے کیونکہ ان کو علم تھا کہ آپ کو یہ پسند نہیں ہے۔
(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٧٥٤ )
حضرت معاویہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے باہر آئے، ہم آپ کے لیے کھڑے ہوگئے تو آپ نے فرمایا : اس طرح نہ کھڑے ہو جس طرح بعض عجمی بعض عجمیوں کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٢٣٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٣٦، مسند احمد ج ٥ ص ٢٥٣ )
قیام تعظیم کی ممانعت کے محامل
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو قیام کو ناپسند فرماتے تھے، اس کی وجوہ بیان کرتے ہوئے ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں :
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) متکبرین اور جابروں کی عادت کی مخالفت کرنے کے لیے اپنے لیے قیام کو ناپسند فرماتے تھے، بلکہ آپ نے عام عربوں کی عادت پر قائم رہنے کو اختیار فرمایا کہ وہ اپنے کھڑے ہونے، بیٹھنے، کھانے پینے، لباس پہننے، چلنے اور باقی کاموں میں تکلف نہیں کرتے تھے کیونکہ روایت ہے، آپ نے فرمایا : میں اور میری امت کے متقین تکلف سے بری ہیں۔
( احیاء العلوم ج ٢ ص ١٧٠، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
علامہ زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ نے لکھا ہے کہ العراقی نے کہا ہے کہ اس حدیث کو امام داراقطنی نے ” الافراد “ میں حضرت زبیر بن عوام (رض) سے روایت کیا ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔
(اتحاف السادۃ المتقین ج ٦ ص ٢٤٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت، کشف الخفاء ج ١ ص ٢٠٥)
علامہ طیبی نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ کراہیت کی وجہ یہ ہو کہ آپ کی محبت کا تقاضا اتحاد تھا، جو تکلف نہ کرنے کا موجب ہے اور امام ابو حامد نے کہا ہے کہ جب اتحاد مکمل ہوجاتا ہے تو ان کے درمیان صحبت کے حقوق میں تخفیف ہوجاتی ہے اور قیام اور عذر پیش کرنا اور حمد وثناء کرنا، ہرچند کہ صحبت کے حقوق میں سے ہیں لیکن ان کے ضمن میں ایک قسم کی اجنبیت اور تکلف ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کسی کی تعظیم کے لیے قیام کرنے یا قیام نہ کرنے کا حکم، زمانہ، اشخاص اور احوال کے اختلاف سے مختلف ہوتا ہے۔
سنن ترمذی اور سنن ابو دائود کی جس حدیث میں یہ ارشاد ہے : جو شخص اس سے خوش ہو کہ لوگ اس کے سامنے کھڑے رہیں، اس کو چاہیے کہ وہ دوزخ میں اپنے بیٹھنے کی جگہ بنا لے، یہ وعید اس شخص کے لیے ہے جو اپنی بڑائی کو ظاہر کرنے کے لیے یہ چاہتا ہو کہ لوگ اس کے سامنے کھڑے رہیں، لیکن جب وہ اپنی بڑائی کو طلب نہ کرے اور لوگ از خود طلب ثواب کے لیے اس کے سامنے کھڑے ہوں یا اپنی تواضع کے اظہار کے لیے کھڑے ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
نیز سنن ابو دائود میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے باہر آئے تو ہم آپ ( کی تعظیم) کے لیے کھڑے ہوگئے، آپ نے فرمایا : تم اس طرح نہ کھڑے ہو جس طرح عجمی ایک دوسرے کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، یعنی لوگ ان کے مال اور ان کے منصب کی وجہ سے ان کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوتے تھے، جب کہ صرف علم اور تقویٰ کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔ ( مرقاۃ المفاتیح ج ٨ ص ٤٧٧۔ ٤٧٥، مکتبہ حقانیہ، پشاور)
اصحاب ِ فضلیت کی تعظیم کے لیے قیام کے استحسان میں احادیث اور آثار
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب بنو قریظہ حضرت سعد بن معاذ (رض) کے فیصلہ کو ماننے پر تیار ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد (رض) کو بلوایا، وہ قریب سے ایک دراز گوش پر سوار ہو کر آئے، جب وہ قریب آگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو۔ الحدیث۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٢٦٢۔ ٤١٢١۔ ٣٨٠٤۔ ٣٠٤٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٥٨ )
حضرت کعب بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری توبہ قبول ہونے کا اعلان کردیا ( الیٰ قولہ) تو حضرت طلحہ بن عبید اللہ کھڑے ہوئے اور درڑتے ہوئے آئے حتیٰ کہ مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی اور اللہ کی قسم ! حضرت طلحہ کے علاوہ مہاجرین میں سے کوئی کھڑا نہیں ہوا تھا۔
(صحیح مسلم کتاب التوبہ۔۔۔۔ باب ٩۔ رقم حدیث الباب : ٥٣۔ رقم بلا تکرار : ٢٧٦٩۔ الرقم المسلسل : ٦٨٨٣، شعب الایمان رقم الحدیث : ١٧٦٨ )
حضرت عمر بن السائب بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہوئے تھے ؟ اسی اثناء میں آپ کے رضاعی والد آگئے، آپ نے ان کے بیٹھنے کے لیے اپنا کپڑا بچھایا، سو وہ اس پر بیٹھ گئے، پھر آپ کی رضاعی والدہ آگئیں تو آپ نے اس کپڑے کو دوسری جانب سے ان کے لیے پھاڑ دیا، وہ اس پر بیٹھ گئیں، پھر آپ کے رضاعی بھائی آگئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے لیے کھڑے ہوگئے اور ان کو اپنے سامنے بٹھایا۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥١٤٥ )
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ حضرت زید بن حارثہ مدینہ میں آئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دن میرے حجرے میں تھے، انہوں نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف برہنہ پشت کھڑے ہوگئے اور چادر گھسیٹتے ہوئے گئے، اللہ کی قسم ! میں نے اس سے پہلے نہ اس کے بعد کبھی آپ کو برہنہ پشت دیکھا، آپ نے ان کو گلے لگایا اور ان کو بوسہ دیا۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٧٣٢، کتاب الضعفاء للعقیلی ج ٤ ص ٤٢٨ )
حضرت عائشہ ام المؤمنین (رض) بیان کرتی ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اٹھنے اور بیٹھنے میں اور آپ کی سیرت میں حضرت فاطمہ بن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر آپ کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا، جب وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتیں تو آپ ان کے لیے کھڑے ہوجاتے، ان کو بوسہ دیتے اور ان کو اپنی مجلس میں بٹھاتے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ اپنی مجلس سے کھڑی ہوجاتیں، آ کو بوسہ دیتیں اور آپ کو اپنی مجلس میں بٹھاتیں۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٨٧٢، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٢١٧، الادب المفرد للبخاری رقم الحدیث : ١٩٩٩، مسند احمد ج ٨ ص ٢٨٢، شعب الایمان رقم الحدیث : ٨٩٢٧ )
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے کلام فرماتے تھے پس جب آپ کھڑے ہوتے تو ہم بھی کھڑے ہوجاتے حتیٰ کہ ہم دیکھتے کہ آپ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے حجرہ میں تشریف لے جاتے۔ ( شعب الایمان ج ٦ ص ٤٦٧۔ رقم الحدیث : ٨٩٣٠، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٠ ھ)
حضرت عکرمہ بن ابی جہل (رض) نیک مسلمانوں سے تھے، جب وہ یمن سے لوٹ کر آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف کھڑے ہوگئے، ان کو گلے لگایا اور فرمایا : مہاجر سوار کو خوش آمدید ہو۔
(اسد الغابہ ج ٤ ص ٦٨۔ رقم الحدیث : ٣٧٤١، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) جب حبشہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کی، آپ نے ان کو گلے لگایا اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔
(اسد الغابہ ج ١ ص ٥٤٢، بیروت، الاصابہ ج ١ ص ٥٩٣، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے اجلال اور تعظیم سے یہ ہے کہ جس مسلمان کے سفید بال ہوں اس کا اکرام کیا جائے ( بزرگوں کی تعظیم کی جائے) اور جو قرآن کا حافظ عالم ہو اور اس میں غلو نہ کرتا ہو اور اس سے بےوفائی نہ کرتا ہو ( عالم با عمل ہو) اس کی تعظیم کی جائے اور سلطان عادل کی تعظیم کی جائے۔
(سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٨٤٣ )
عالم باعمل یا کسی بزرگ متقی کی آمد پر کھڑے ہوجانا بھی اس کی تعظیم ہے، اسی طرح کسی عادل حاکم کے لیے کھڑے ہونا بھی اس کی تعظیم ہے۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں سے ان کے حسب مراتب سلوک کرو۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٨٤٢ )
یعنی فساق فجاز کی تعظیم کے لیے کھڑے نہ ہو اور علماء دین اور مشائخ عظام اور اپنے والدین کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو۔
حضرت ابن السرح (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کیا اور ہمارے بڑوں کا حق نہیں پہچانا پس وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
(سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٩٤٣، مسند احمد ج ٢ ص ٢٢٢، المستدرک ج ٤ ص ١٧٨، کنز العمال رقم الحدیث : ٥٩٨٠)
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کیا اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہیں کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال ج ٦ ص ٢٠٩٨، المکتبۃ الاثریہ، سانگلہ ہل، پاکستان)
ان احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ جو شخص بڑا ہو اس کی تعظیم اور توقیر کرنی چاہیے، خواہ وہ عمر کے اعتبار سے بڑا ہو یا علم و فضل کے اعتبار سے بڑا ہو یا زہد وتقویٰ کے لحاظ سے بڑا ہو اور اس کے آنے پر کھڑے ہوجانا بھی اس کی تعظیم و توقیر ہے۔
اصحاب ِ فضلیت کی تعظیم کے لیے قیام میں فقہاء مالکیہ کے مؤقف
حافظ ابوبکر محمد بن عبد اللہ ابن العربی مالکی متوفی ٥٤٣ ھ لکھتے ہیں :
جس شخص کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ متکبر شخص ہے اور اس کے لیے قیام کیا جائے تو وہ خوش ہوتا ہے، اس کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا مکروہ ہے یا وہ اپنے دل میں اس کا بڑا مرتبہ سمجھتا ہے تو اس کے لیے تعظیماً قیام کرنا مکروہ ہے، البتہ اولاد کا والد کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا، یا شاگرد کا استاد کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا یا کسی نیک دوست یا منعم کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا صحیح ہے، صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد بن معاذ کو بلواکر فرمایا : اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ان کے مرتبہ کے اظہار کے لیے تھا اور حضرت معاذ خود کو بڑا نہیں سمجھتے تھے، اس لیے یہ قیام جائز اور مستحسن ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی شخص کو کسی شخص سے جائز امید ہو یا آنے والا شخص اس کی کسی پریشانی کو دور کر دے تو اس کی تعظیم کے لیے قیام کرنا جائز ہے۔ ( عارضۃ الاوذی ج ٥ ص ١٥٦، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٨ ھ)
علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :
قیام تعظیمی میں اختلاف ہے، اگر کوئی شخص اپنے آپ کو تعظیم کا مستحق سمجھتا ہو اور اس کا منتظر ہو کہ اس کے لیے قیام کیا جائے تو اس کے لیے قیام کرنا ممنوع ہے اور اگر کسی کے آنے سے خوشی ہو اور دیگر صحیح اسباب کی وجہ سے قیام کیا جائے تو پھر جائز ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ٢٢٠، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
اصحاب ِ فضلیت کی تعظیم کے لیے قیام میں فقہاء شافعیہ کا مؤقف
علامہ یحییٰ بن شرف نواوی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں :
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد بن معاذ کے لیے فرمایا : ” اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو “ اس ارشاد میں اصحاب فضلیت کی تکریم ہے، اور جب وہ آئیں تو ان کے آنے پر کھڑے ہونے کی تعلیم اور تلقین ہے، جمہور علماء نے اس حدیث سے قیام تعظیم کو ثابت کیا ہے۔ قاضی عیاض مالکی نے کہا ہے کہ یہ وہ قیام نہیں ہے جو ممنوع ہے، جو قیام ممنوع ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص بیٹھا ہوا اور جب تک وہ بیٹھا رہے لوگ اس کی تعظیم کے لیے کھڑے رہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اصحاب ِفضلیت جب آئیں تو ان کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونا مستحب ہے، اس کے ثبوت میں بہت احادیث ہیں اور اس کی ممانعت میں کوئی صحیح اور صریح حدیث نہیں ہے اور میں نے اس مسئلہ میں ایک رسالہ لکھا ہے جس میں احادیث اور عباداتِ علماء کو جمع کیا ہے اور ماتعین کے توہمات کا ازالہ کیا جائے۔
(صحیح مسلم، شرح النودی ج ٨ ص ٤٨٨٨، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ، الاذکار ج ١ ص ٣٠٩۔ ٣٠٨، مکتبہ نزار مصطفیٰ مکرمکرمہ، ١٤١٧ ھ)
حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :
علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ حضرت سعد کی حدیث سے ثابت ہوا کہ سربراہ مملکت کو مسلمان بزرگ کی تعظیم کا حکم دینا چاہیے اور سربراہ مملکت کی مجلس میں ارباب فضلیت کی تکریم کرنا اور ان کے لیے قیام کرنا مشروع ہے اور تمام لوگوں پر لازم کیا ہے کہ وہ اپنے بزرگ کے آنے پر اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوں۔ علامہ ابن الحاج مالکی قیام تعظیم کا انکار کرتے ہیں، اور علامہ نواوی کے دلائل کا رد کرتے ہیں، حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس طویل بحث کو نقل کیا ہے اور آخر میں ان کے درمیان محاکمہ کر کے یہ لکھا ہے :
اگر قیام کے ترک کرنے پر کوئی خرابی یا شر مرتب ہو تو قیام کو ترک کرنا ممنوع ہے یا اس سے کسی کی توہین ہوتی ہو تو بھی قیام کو ترک کرنا ممنوع ہے اور علامہ عبد السلام نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے اور حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بعض محققین سے نقل کر کے یہ لکھا ہے کہ اگر عجمیوں کی طرح قیام کی عادت بنا لی جائے ( کہ ایک شخص بیٹھا ہو اور دوسرے اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوں) تو پھر یہ قیام ممنوع ہے، اور اگر کوئی شخص سفر سے آئے یا حاکم کے لیے اس کی حکومت کی مجلس میں قیام کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، میں کہتا ہوں کہ اسی کے ساتھ علامہ ابن الحاج کی توجیہات کو بھی ملا لیا جائے کہ جس شخص کو کوئی نعمت ملی ہو تو اس کو مبارک باد دینے کے لیے قیام کرنا، یا کسی عاجز کی مدد کے لیے کھڑے ہونا یا مجلس میں توسیع کے لیے کھڑے ہونا، سو قیام کی یہ تمام صورتیں جائز ہیں۔ ( فتح الباری ج ١٢ ص ٣٢٣۔ ٣١٨، ملخصا، دارالفکر، بیروت، ١٤٢٠ ھ)
اصحاب ِ فضلیت کی تعظیم کے لیے قیام میں فقہاء احناف کا مؤقف
حافظ بدر الدین محمود بن احمد عینی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :
حضرت سعد بن معاذ (رض) کی حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ سربراہ مملکت یا حاکم کو کسی مسلمان بزرگ کی تعظیم کا حکم دینا چاہیے، اور سربراہ ملک کی مجلس میں ارباب فضلیت کی تکریم کرنی چاہیے اور ان کے لیے تعظیماً قیام کرنا چاہیے اور عام لوگوں کو ان کے لیے کھڑے ہونے کا حکم دینا چاہیے اور حضرت معاویہ کی حدیث میں جو ارشاد ہے کہ جس کو اپنے لیے قیام سے خوشی ہو، وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے، یہ وعید متکبرین کی طرف راجع ہے یا ان لوگوں کی طرف رجع ہے جو اپنے لیے نہ اٹھنے پر ناراض ہوتے ہوں۔ ( حافظ ابن حجر عسقلانی نے کا ہے کہ مسند احمد ج ٦ ص ١٤٢ میں ہے کہ اپنے سردار حضرت سعد کی طرف کھڑے ہو اور اس کو سواری سے اتارو اور اس حدیث کی سند حسن ہے۔ فتح الباری ج ١٢ ص ٣١٩) علامہ عینی ان کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بعض علماء نے کہا ہے کہ آپ نے حضرت سعد کی طرف کھڑے ہونے کا حکم ان کو سواری سے اتارنے کے لیے دیا تھا کیونکہ وہ بیمار تھے، بعض علماء کا قول بعید ہے۔ ( عمدۃ القاری ج ١٤ ص ٤٠١۔ ٤٠٠، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)
میں کہتا ہوں کہ علامہ عینی نے اس روایت کو اس لیے بعید کہا ہے کہ مسند احمد کی حدیث کی سند ضعیف ہے اور حافظ ابن حجر کا اس کی سند کو حسن کہنا ان کا تسامح ہے، اس حدیث کی سند کی تحقیق کرتے ہوئے علامہ شعب الارنؤوط لکھتے ہیں :
اس حدیث کی سند میں ضعیف ہے، اس حدیث کی سند میں عمرو بن علقمہ ہے، اس سے اس کے بیٹے محمد کے سوا اور کسی نے حدیث روایت نہیں کی، اور ابن حبان کے سوا اور کسی نے اس کی توثیق نہیں کی، سو وہ مجہول روای ہے۔
( حاشیہ مسند احمد ج ٤٢ ص ٣٠، رقم الحدیث : ٢٥٠٩٧، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢١ ھ)
تا ہم اگر اس حدیث کی سند حسن بھی ہو پھر بھی اس حدیث میں جو قید ہے ( اس کو سواری سے اتارو) وہ صحیح بخاری کے اطلاق کے معارض نہیں ہوسکتی کیونکہ تعارض اس وقت ہوتا ہے جب وہ حدیثیں ایک درجہ کی ہوں اور صحیح اور حسن ایک درجہ کی حدیثیں نہیں ہیں۔
علامہ حسین بن منصور اوزجندی المعروف بہ قاضی خاں حنفی المتوفی ٥٩٢ ھ لکھتے ہیں :
کچھ لوگ مصاحف سے دیکھ کر قرآن مجید پڑھ رہے تھے یا ایک شخص قرآن مجید پڑھ رہا تھا، پھر ان کے پاس اصحاب فضلیت بزرگوں میں سے کوئی شخص آیا تو قرآن مجید پڑھنے والوں میں سے ایک شخص کھڑا ہوگیا، فقہاء نے کہا ہے کہ اگر آنے والا عالم ہے یا اس کا والد ہے یا اس کا وہ استاد ہے جس نے اس کو علم سکھایا ہے تو اس کی وجہ سے اس کا قیام کرنا جائز ہے اور کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔ ( فتاویٰ قاضی خاں ج ٢ ص ٤٢٢ علی ھامش النہدیہ، مصر، فتاویٰ ہندیہ ج ٥ ص ٣١٦، جو لاق، مصر، ١٣١٠ ھ)
علامہ سید محمد امین بن عمر بن عبد العزیز شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :
جو شخص مسجد میں بیٹھا ہوا ہو یا جو شخص قرآن مجید پڑھ رہا ہو اور اس حال میں اس کے پاس ایسا شخص آئے جو تعظیم کا مستحق ہو تو اس کی تعظیم کے لیے قیام کرنا جائز ہے۔ علامہ ابن دھبان نے کہا : بلکہ میں کہتا ہوں کہ یہ قیام مستحب ہے، کیونکہ اس قیام کو ترک کرنے سے کینہ، بغض اور عداوت پیدا ہوتی ہے، خصوصاً اس جگہ جہاں قیام کرنے کا معمول ہو، اور اس پر جو وعید ہے اس کا محل ترکوں اور عجمیوں کا قیام ہے (جس میں ایک شخص بیٹھا ہوا اور دوسرے اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوں)
میں کہتا ہوں کہ اس کی تایید اس سے ہوتی ہے کہ ” عنایۃ “ وغیرہا میں شیخ حکیم ابوالقاسم سے منقول ہے کہ جب ان کے پاس کوئی غنی آتا تو وہ اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاتے اور جب ان کے پاس فقراء اور طالب علم آتے تو وہ ان کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے، ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا : غنی مجھ سے تعظیم کی توقع رکھتا ہے، اگر میں اس کی تعظیم نہ کروں تو ضرر ہوگا اور فقراء اور طلبہ مجھ سے صرف سلام کا جواب چاہتے ہیں اور یہ کہ میں ان سے علمی باتیں کروں، اس کی پوری تفصیل علامہ شرنبلالی کے رسالہ میں ہے۔
البتہ دنیا حاصل کرنے کے لیے اپنے نفس کو ذلیل کرنا حرام ہے، حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ جس نے کسی دولت مند شخص کے لیے عاجزی کی اور اپنے آپ کو ذلیل کیا اور اس کی تعظیم اس سے طمع کی وجہ سے کی، اس کی دو تہائی مروت اور نصف دین جاتا رہے گا۔ ( شعب الایمان ج ٦ ص ٢٩٩۔ رقم الحدیث : ٨٢٣٢)
والدین پر رحمت کے لیے ان کے سر پر بوسا دیا جائے، اپنے بھائی پر شفقت کے لیے اس کی پیشانی پر بوسا دیا جائے مؤمنین کی تعظیم کے لیے ان کے ہاتھ پر بوسا دیا جائے، حضرت عمر (رض) صبح اور شام مصحف کو بوسا دیتے تھے۔ ( درمختار) کسی کی تعظیم کے لیے زمین کو بوسا دینا حرام ہے۔ ( الدرالمختار و دارالمختار ج ٩ ص ٤٦٩۔ ٤٦٨، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٩ ھ)
القرآن – سورۃ نمبر 83 المطففين آیت نمبر 6