أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَؕ ۞

ترجمہ:

جب اس پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو اور کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کے قصے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب اس پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کے قصے ہیں۔ ہرگز نہیں ! بلکہ ان کے ( برے) کاموں نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا۔ بیشک وہ اس دن اپنے رب (کے دیدار) سے محروم ہوں گے۔ پھر بیشک وہ ضرور دوزخ میں پہنچیں گے۔ پھر ( ان سے) کہا جائے گا : یہ ہے وہ عذاب جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔ بیشک نیکوکاروں کا صحیفہ اعمال ضرور علیین میں ہے۔ اور آپ کیا سمجھتے کہ علیین کیا ہے ؟۔ وہ مہر لگایا ہوا صحیفہ ہے۔ جس پر اللہ کے مقرب بندے گواہ ہیں۔ ( المطففین : ٢١۔ ١٣)

” اساطیر “ کا معنی

المطففین : ١٣ میں ” اساطیر “ کا لفظ ہے، یہ ” اسطورۃ “ کی جمع ہے، اس کا معنی ہے : من گھڑت لکھی ہوئی کہانیاں، وہ جھوٹی خبر جس کے متعلق یہ اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھی ہوئی ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 83 المطففين آیت نمبر 13