أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡاَبۡرَارِ لَفِىۡ عِلِّيِّيۡنَؕ ۞

ترجمہ:

بیشک نیکو کاروں کا صحیفہ اعمال ضرور علیین میں ہے۔

المطففین : ٢١۔ ١٨ میں فرمایا : بیشک نیکو کاروں کا صحیفہ اعمال ضرور علیین میں ہے۔ اور آپ کیا سمجھے کہ علیین کیا ہے ؟۔ وہ مہر لگایا ہوا صحیفہ ہے۔ جس پر اللہ کے مقرب بندے گواہ ہیں۔

علیین اور مؤمنوں کے صحائف کے متعلق احادیث اور آثار

نیکو کاروں کا صحیفہ علیین میں بلند جگہ رکھا ہوا ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : وہ صحیفہ ٔ اعمال جنت میں ہے، ان سے دوسری روایت یہ ہے کہ وہ آسمان میں اللہ کی کتاب میں ہے، مجاہد اور قتادہ نے کہا : ساتویں آسمان میں مؤمنین کی روحیں ہیں، ضحاک سے ایک روایت ہے کہ وہ سدرۃ المنتہی ہے، جس پر اللہ کے تمام احکام ختم ہوجاتے ہیں اور اس سے تجاوز نہیں کرتے۔

ایک قول یہ ہے کہ علیین فرشتوں کی صفت ہے اور اس سے مراد ملائکہ مقربین ہیں۔

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علیین والے ضرور، جنت کو فلاں مقام سے دیکھ رہے ہیں، پس جب اہل علیین میں سے کوئی شخص جھانکتا ہے تو اس کے چہرے کی روشنی سے جنت روشن ہوجاتی ہے، پس جتنی کہتے ہیں : یہ کیسا نور ہے ؟ تو کہا جائے گا : علیین والوں میں سے ایک شخص نے جھانکا تھا اور وہ لوگ ابرار، اطاعت گزار اور اصحاب صدق ہیں۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٩٨٧)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اہل جنت اہل علیین کو اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح چمکتے ہوئے ستارہ کو آسمان کے کنارے میں دیکھا جاتا ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٢٥٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٣١۔ ٢٨٣٠)

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور آپ کیا سمجھے کہ علیین کیا ہے ؟۔ یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو علیین کے متعلق کس نے خبر دی، اس میں علیین کے بلند مرتبہ کی تعظیم کی طرف اشارہ ہے۔

 

القرآن – سورۃ نمبر 83 المطففين آیت نمبر 18