جنگ صفین میں تحکیم
تحکیم کا مسئلہ جنگِ صفین کے دوران ایک اہم اور پیچیدہ تنازعہ تھا۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب جنگ میں دونوں طرف کی فوجوں میں زیادہ خونریزی ہونے لگی اور ایک ممکنہ فیصلہ کن جنگ کی صورت میں مسلمانوں کی صفوں میں مزید انتشار کا خدشہ تھا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے، تحکیم (یعنی کسی متنازعہ مسئلے کے حل کے لیے کسی ثالث کو منتخب کرنا) کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے نے جنگ کی نوعیت بدل دی اور بعد میں اس نے مزید اختلافات اور پیچیدگیاں پیدا کیں۔
تحکیم کا پس منظر:
جنگِ صفین میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی فوج اور حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی فوج کے درمیان شدید لڑائی ہو رہی تھی۔ دونوں طرف کی فوجوں میں ایک دوسرے کے قتل کا سلسلہ جاری تھا، اور یہ جنگ ایک طویل اور خونریزی والی صورت اختیار کر چکی تھی۔ اس دوران جب جنگ کی شدت بڑھ گئی اور دونوں طرف کے لوگ بے شمار جانی نقصان کا شکار ہوئے، تو کچھ لوگ اس بات پر متفق ہوئے کہ جنگ کے اختتام کے لیے کسی تیسرے فریق کو ثالث مقرر کیا جائے تاکہ اس تنازعہ کا حل نکل سکے اور مزید خونریزی سے بچا جا سکے۔
تحکیم کا عمل:
تحکیم کے عمل کی تجویز حضرت عمرو بن عاص (جو حضرت معاویہؓ کے نمائندے تھے) اور حضرت ابو موسی اشعری (جو حضرت علیؓ کے نمائندے تھے) نے دی تھی۔ دونوں طرف کے نمائندوں کا انتخاب کر کے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وہ اس جنگ کا فیصلہ کریں گے۔
تحکیم کے اصول:
1. ثالث کا انتخاب: دونوں طرف کے نمایندے فیصلہ کریں گے کہ کون سی بات اسلامی شریعت کے مطابق ہے اور جنگ کا خاتمہ کس طرح ممکن ہے۔
2. اللہ کے حکم کی پیروی: اس میں یہ بنیادی اصول تھا کہ دونوں فریقوں کو اسلامی شریعت کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوگا۔
تحکیم کا مسئلہ اور اس کے اثرات:
تحکیم کا مسئلہ جنگِ صفین کے بعد ایک تنازعے کی صورت اختیار کر گیا کیونکہ اس فیصلے سے کچھ افراد نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ آیا جنگ کے معاملے میں انسانوں کی ثالثی کا اختیار ہے یا صرف اللہ کا حکم نافذ ہونا چاہیے۔
خوارج کا ردعمل:
تحکیم کے فیصلے کے بعد خوارج (جو پہلے حضرت علیؓ کے حامی تھے) نے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ خوارج کا کہنا تھا کہ اللہ کا حکم انسانوں کی ثالثی سے بالاتر ہے، اور کسی انسان کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اللہ کے حکم کو رد کرے یا اس کے بارے میں فیصلے کرے۔ ان کا موقف تھا کہ حضرت علیؓ نے اللہ کے حکم کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کے فیصلے کو انسانوں کے درمیان تقسیم کیا، جسے وہ کفر سمجھتے تھے۔ اس وجہ سے خوارج نے حضرت علیؓ سے اپنے تعلقات توڑ لیے اور ان کے خلاف بغاوت کر دی۔
حضرت علیؓ کا موقف:
حضرت علیؓ نے تحکیم کے فیصلے کو تسلیم کیا، لیکن اس کے بعد یہ محسوس کیا کہ اس فیصلے نے گروہی تقسیم اور اختلافات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حضرت علیؓ نے یہ واضح کیا کہ تحکیم کا مقصد خونریزی روکنا تھا، اور ان کے مطابق، یہ فیصلہ اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا تھا تاکہ امت مسلمہ میں تصادم کو روکا جا سکے۔
نتیجہ:
تحکیم کے نتیجے میں جنگ کا فوری خاتمہ نہ ہو سکا، بلکہ اس نے فرقہ واریت اور اختلافات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اس دوران حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے پیروکاروں کے درمیان تعلقات میں تلخی بڑھ گئی، اور خوارج نے حضرت علیؓ کے خلاف اپنی بغاوت کا آغاز کیا۔ تحکیم کا مسئلہ نہ صرف سیاسی اعتبار سے بلکہ مذہبی طور پر بھی ایک سنگین سوال بن گیا تھا، جس نے مسلمانوں کے درمیان مزید انتشار پیدا کیا۔