شان حضرت علی قرآن پاک سے
قرآن پاک میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام براہ راست ذکر نہیں ہوا، لیکن مفسرین اور علماء نے کئی آیات کو ان کی شان اور فضیلت کے ساتھ منسوب کیا ہے۔ ان آیات کو ان کے ایمان، قربانی، شجاعت، اور تقویٰ کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے۔ ذیل میں ان آیات کی تفصیل دی جا رہی ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مصداق سمجھی جاتی ہیں:
—
1. سورہ البقرہ (2:207)
> “وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْرِى نَفْسَهُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ”
ترجمہ: “اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں۔”
یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مکہ میں ہجرت کی رات نبی اکرم ﷺ کے بستر پر سو کر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تاکہ رسول اللہ ﷺ بخیر و عافیت مدینہ روانہ ہو سکیں۔
—
2. سورہ المائدہ (5:55)
> “إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُمْ رَٰكِعُونَ”
ترجمہ: “تمہارے ولی صرف اللہ، اس کے رسول، اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔”
مفسرین کے مطابق، یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی جب انہوں نے نماز کے دوران رکوع کی حالت میں ایک فقیر کو اپنی انگوٹھی صدقہ کر دی۔
—
3. سورہ الأحزاب (33:33)
> “إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ ٱلرِّجْسَ أَهْلَ ٱلْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا”
ترجمہ: “اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت، تم سے ہر طرح کی ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔”
یہ آیت اہلِ بیت کی فضیلت کے بارے میں ہے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اہلِ بیت میں شامل ہیں۔ اس آیت کو “آیتِ تطہیر” کہا جاتا ہے۔
—
4. سورہ الإنسان (76:8-9)
> “وَيُطْعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ ٱللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَآءً وَلَا شُكُورًا”
ترجمہ: “اور یہ لوگ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم، اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔”
مفسرین کے مطابق، یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، اور ان کے اہلِ خانہ نے اپنی افطاری مسکین، یتیم، اور قیدی کو دے دی تھی۔
—
5. سورہ آل عمران (3:61)
> “فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ”
ترجمہ: “پھر جو کوئی اس بارے میں تم سے جھگڑا کرے بعد اس کے کہ تمہارے پاس علم آ چکا ہو، تو کہہ دو کہ آؤ! ہم اپنے بیٹوں، اپنی عورتوں اور اپنی جانوں کو بلاتے ہیں۔”
یہ آیت واقعہ مباہلہ کے بارے میں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان اہلبیت میں جو مباہلہ کے لئے موجود تھے میں شامل ہیں
—
6. سورہ التوبہ (9:119)
> “يَا أَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَكُونُواْ مَعَ ٱلصَّٰدِقِينَ”
ترجمہ: “اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔”
مفسرین نے اس آیت کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صداقت اور حق پرستی کے ساتھ منسوب کیا ہے۔
—
7. سورہ النحل (16:90)
> “إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَـٰنِ”
ترجمہ: “بے شک اللہ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے۔”
حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی خلافت میں عدل و انصاف کے اعلیٰ معیار کے لیے مشہور تھے، اور ان کے کردار کو اس آیت کا عملی نمونہ سمجھا جاتا ہے۔
—
8. سورہ الحج (22:41)
> “ٱلَّذِينَ إِن مَّكَّنَّـٰهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ أَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَمَرُواْ بِٱلْمَعْرُوفِ وَنَهَوْاْ عَنِ ٱلْمُنكَرِ”
ترجمہ: “یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں تو نماز قائم کریں، زکوٰۃ دیں، اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔”
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت اس آیت کے اصولوں پر مبنی تھی، اور انہوں نے عدل و انصاف کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔
—
خلاصہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایمان، شجاعت، سخاوت، اور عدل کی وجہ سے کئی آیات کو ان کی شان میں سمجھا جاتا ہے۔ ان آیات کی تفسیر سے ان کی عظیم شخصیت، قربانیوں اور دین اسلام میں ان کے بلند مقام کا اظہار ہوتا ہے۔