بنو الاشعر یا بنو الاشعری
اشعری قبیلہ ایک مشہور عرب قبیلہ ہے جس کی جڑیں یمن سے ملتی ہیں۔ یہ قبیلہ “بنو الاشعر” یا “بنو الاشعری” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اشعری قبیلہ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کی نسبت سے زیادہ مشہور ہوا، جو نبی اکرم ﷺ کے مشہور صحابہ میں سے تھے اور اسلام کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
نسب اور پس منظر
اشعری قبیلے کا نسب نبی نوح علیہ السلام کے بیٹے سام کی نسل سے بتایا جاتا ہے، اور ان کا اصل تعلق قبیلہ ازد سے ہے۔ قبیلہ ازد یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا، اور اشعری قبیلہ اسی قبیلے کی ایک شاخ ہے۔
اہم خصوصیات
1. حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ:
حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ اس قبیلے کی سب سے نمایاں شخصیت ہیں۔ آپ نہایت علم و فضل والے صحابی تھے اور قرآن کی تلاوت میں شہرت رکھتے تھے۔
آپ کو عراق کے شہر کوفہ اور بصرہ کا گورنر مقرر کیا گیا تھا اور فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔
2. یمن کا تعلق:
اشعری قبیلہ یمن سے تعلق رکھتا تھا اور اسلام قبول کرنے والے ابتدائی قبائل میں شامل تھا۔
3. اسلامی خدمات:
اشعری قبیلے نے اسلام کی اشاعت میں بھرپور حصہ لیا اور مختلف علاقوں میں اسلامی فتوحات کا حصہ بنے۔
اس قبیلے کے افراد نے علم، فقہ، اور روایت حدیث کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
اشعری قبیلے کی نمایاں خصوصیات
اشعری لوگ اپنی شجاعت، علم، اور مہمان نوازی کے لیے مشہور تھے۔
ان کا تعلق عربی زبان اور ادب کے فروغ سے بھی تھا۔
اہم روایات
اسلامی تاریخ میں اس قبیلے کا ذکر متعدد مرتبہ آیا ہے، اور ان کی وفاداری اور اسلام کے لیے قربانیوں کو ہمیشہ سراہا گیا۔
اشعری قبیلہ کے متعلق کئی احادیث موجود ہیں، جن میں ان کے ایمان، اتحاد، اور نیک صفات کی تعریف کی گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے اخلاص اور دین کے لیے محبت کو سراہا۔ ذیل میں اشعری قبیلے کے بارے میں چند مشہور احادیث پیش کی جا رہی ہیں:
1. اشعری قبیلے کی باہمی محبت اور سخاوت
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اشعری لوگ جب کسی غزوہ میں یا کسی مشکل وقت میں کھانے پینے کی قلت کا شکار ہوتے ہیں تو جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے، اسے ایک کپڑے میں جمع کرتے ہیں اور پھر برابر تقسیم کرتے ہیں۔ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔”
(صحیح بخاری: 2486، صحیح مسلم: 2500)
یہ حدیث اشعری قبیلے کی باہمی محبت، تعاون اور سخاوت کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔
—
2. اشعری قبیلے کی قرآنی تلاوت کی تعریف
حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
“ابو موسیٰ کو داؤد علیہ السلام کے خاندان کی خوش الحانی میں سے حصہ دیا گیا ہے۔”
(صحیح بخاری: 5048، صحیح مسلم: 793)
یہ حدیث نہ صرف حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کی قرآنی تلاوت کی خوبصورتی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ اشعری قبیلہ قرآن سے گہری محبت رکھتا تھا۔
—
3. اشعری قبیلے کے ایمان کی گواہی
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“میں نے یمن والوں کے دلوں کو نرم اور ایمان کو مضبوط پایا، اور اشعری لوگ ان میں سے ہیں۔”
(صحیح بخاری: 4388)
یہ حدیث اشعری قبیلے کے ایمان اور نیکی کی تعریف ہے۔
—
4. اشعری قبیلے کی رسول اللہ ﷺ سے قربت
حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اشعری قبیلہ میری امت کے بہترین لوگوں میں سے ہے۔”
(مسند احمد)
—
5. رسول اللہ ﷺ کا اشعری قبیلے کے لیے دعا کرنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَشْعَرِيِّينَ، وَلْيَدَاهُمْ، وَلِسِعَايَاهُمْ.”
(ترجمہ: “اے اللہ! اشعری قبیلے کو بخش دے، ان کے ہاتھوں کو برکت دے اور ان کے کاموں کو قبول فرما۔”)
(مسند احمد)
—
خلاصہ
نبی اکرم ﷺ نے اشعری قبیلے کی سخاوت، ایمان، قرآنی تلاوت، اور اتحاد کی بارہا تعریف کی ہے۔ یہ احادیث اس قبیلے کی عظمت اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کی قربت کو ظاہر کرتی ہیں۔