*حافظہ کو تیز کرنے کا بہترین علاج*

قال علي بن خشرم : ما رأيت بيد وكيع كتابا قط ، إنما هو حفظ ، فسألته عن أدوية الحفظ ، فقال : إن علمتك الدواء استعملته ؟ قلت : إي والله . قال : ترك المعاصي ما جربت مثله للحفظ .
(سیر اعلام النبلاء)
مفھوم۔ علی بن خشرم کہتے ہیں میں نے کبھی بھی امام وکیع علیہ الرحمہ کے ہاتھ میں کتاب نہیں دیکھی۔ وہ حافظ تھے (سب کچھ حافظہ سے بیان فرماتے) تو میں نے ان سے حفظ کی دوا کے بارے میں پوچھا ( کہ حافظہ کیسے تیز ہوتا ہے؟) تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں تجھے دعا سکھاوں تو، تو استعمال کرے گا؟ تو میں نے کہا ہاں اللہ تعالی کی قسم (ضرور استعمال کروں گا) تو انہوں نے فرمایا۔ گناہوں کو چھوڑ دو میں نے حفظ کے لئے اس سے زیادہ کسی شیئ کو مجرب نہیں پایا۔

امام وکیع علیہ الرحمہ نے یہی وصیت امام شافعی علیہ الرحمہ کو بھی فرمائی تھی جب انہوں نے سوء حفظ کی شکایت کی۔ فرماتے ہیں۔
شَكَوْتُ إلَى وَكِيعٍ سُوءَ حِفْظِي – فَأرْشَدَنِي إلَى تَرْكِ المعَاصي
وَأخْبَرَنِي بأَنَّ العِلْمَ نُورٌ -ونورُ الله لا يهدى لعاصي.

اسی طرح امام علی بن حشرم کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ میں نے امام وکیع علیہ الرحمہ سے قلة حفظ کی شکایت کی۔ تو انہوں نے فرمایا۔
استعن على الحفظ بقلة الذنوب۔

(شعب الایمان للبیہقی۔ رقم 1604 جلد 3 صفحہ 244)

ابو الحسن محمد شعیب خان
14 مئی 2020