فرمان امام شافعی: جنگ صفین میں حضرت معاویہ حضرت علی کے برابر اور انکے پر غالب آجاتے 
تحریر: اسد الطحاوی

امام بیھقی امام شافعی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں:
قال الشافعي: والحرب «يوم صفين» قائمة، ومعاوية يقاتل جادا في أيامه كلها منتصفا أو مستعليا، وعلي يقول لأسير من أصحاب معاوية: لا أقتلك صبرا؛ إني أخاف الله رب العالمين.
وإنما أراد به بعض العراقيين حيث يزعم أن الأسير من أهل البغي يقتل إذا كانت له فئة يرجع إليها (1) يقاتل جادا في أيامه كلها منتصفا أو مستعليا – يعني يساويه مرة في الغلبة في الحرب ويعلوه أخرى، وعلي يقول لأسير من أصحابه: لا أقتلك صبرا؛ إني أخاف الله رب العالمين.
قال الشافعي في خلال كلامه:
وقلت له: علي بن أبي طالب ولي قتال المتأولين فلم يقصص من دم ولا مال أصيب في التأويل.
وفي كل هذا دلالة على أن الشافعي رحمه الله كان يعتقد في «علي» رضي الله عنه أنه كان محقا في قتاله من خرج عليه، وأن «معاوية» ومن قاتله لم يخرجوا بالبغي من الإيمان؛ لأن الله تعالى سمى الطائفتين جميعا: مؤمنين، والآية عامة. وجرى علي، رضي الله عنه، في قتالهم مجرى قتال (2) الإمام العادل من خرج من طاعته من المؤمنين، وسار بسيرته في قتالهم، وقصد به حملهم على الرجوع إلى الطاعة، كما قال الله تعالى: {فقاتلوا التي تبغي حتى تفيء إلى أمر الله
امام شافعی نے کہا کہ صفین کی جنگ میں معاویہ رضی اللہ عنہ پوری شدت سے لڑ رہے تھے، کبھی علی رضی اللہ عنہ کے برابر آتے اور کبھی ان پر غالب آ جاتے۔ علی رضی اللہ عنہ ایک قیدی سے کہتے ہیں: میں تمہیں صبر کے ساتھ قتل نہیں کروں گا، مجھے اللہ کا خوف ہے۔
امام شافعی نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کبھی علی رضی اللہ عنہ کے برابر لڑتے اور کبھی ان سے آگے نکل جاتے۔
یہاں اس بیان میں بعض عراقیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو یہ مانتے ہیں کہ اگر کسی اسیر کا تعلق اہل بغاوت سے ہو اور اس کے پاس کوئی ایسی جماعت ہو جس کی طرف وہ واپس جا سکتا ہو، تو اسے قتل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد، شافعی نے ذکر کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے اسیر سے کہا: میں تمہیں صبر سے قتل نہیں کروں گا، میں اللہ سے ڈرتا ہوں، رب العالمین سے۔
امام شافعی نے اپنے بیان میں مزید کہا: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے جنگ کی جو ان کے خلاف اٹھے تھے، اور ان کا خون یا مال اس لیے نہیں لیا گیا کیونکہ وہ لوگوں کے ایمان میں بغاوت نہیں سمجھتے تھے۔(یعنی شرعی طور پر باغی نہ تھے بلکہ صورتا باغی تھے ) امام  شافعی رحمہ اللہ کا یہ عقیدہ تھا کہ علی رضی اللہ عنہ کا جنگ کرنا درست تھا اور معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے پیروکاروں کی جنگ کو ایمان سے خروج نہیں سمجھا گیا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کو مؤمنین کے طور پر ذکر کیا ہے، اور یہ آیت عمومی ہے۔
علی رضی اللہ عنہ کا جنگ میں رویہ ایک عادل امام کی طرح تھے ، جو اپنے پیروکاروں کے خلاف بغاوت کرنے والوں سے لڑتا ہے، اور ان کی جنگ کا مقصد انہیں طاعت کی طرف واپس لانا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور ان لوگوں سے لڑو جو بغاوت کریں یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف واپس آ جائیں
[مناقب الشافعی للبیھقی ، ص447]

نیز دوسری تصنیف نے امام بیھقی نے امام شافعی تک اپنی مکمل سند درج ذیل بیان کی ہے اس قول کی :
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، الخ۔۔۔۔
(سندہ صحیح)

اور امام شافعی کے قول کی مزید یہ شرح بھی کی:
وَقِيلَ مُنْتَصِفًا عِنْدَ نَفْسِهِ لِدَعْوَاهُ أَنَّهُ يَطْلُبُ دَمَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ,
وَمُسْتَعْلِيًا عِنْدَ غَيْرِهِ لِعِلْمِهِمْ بِأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ بَرِيئًا مِنْ دَمِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ،
ایک دوسری وضاحت یہ بھی ہے کہ “منتصفاً” (برابری کی حالت میں) کا مطلب ان کی اپنی نظر میں ہے کیونکہ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ عثمان (رضی اللہ عنہ) کے خون کا بدلہ لینے کے لیے جنگ کر رہے ہیں، اور “مستعلیاً” (غالب آنے کی حالت میں) کا مطلب دوسروں کی نظر میں ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ علی (رضی اللہ عنہ) عثمان (رضی اللہ عنہ) کے خون سے بری ہیں۔ لیکن پہلی وضاحت زیادہ درست ہے  (یعنی میدان جنگ میں حضرت معاویہ برابر یا غالب آجاتے حضرت علی پر)
[السنن الكبرى برقم: 16754]

اس سے کئی نکات امام شافعی کے عقیدے کے واضح ہوتے ہیں :

1۔ امام شافعی دونوں گروہ کو مومنین کا گروہ سمجھتے تھے جیسا کہ قرآن کی نص وارد ہے ۔

2۔ حضرت علی کا موقف قرب الی حق سمجھتے تھے اور انکا جنگ کرنا بھی

3۔ حضرت علی کا اپنے مخالفین کے قتل سے اجتناب کی کوشش کرنے اور انکے مال نہ لوٹنے پر یہ اجتہاد بیان کیا کیونکہ یہ شرعی یعنی دینی طور پر خارجی نہ تھے (جیسا کہ خوارج تھے) بلکہ یہ اجتہاد کے سبب سے تھے یعنی صورتا باغی

4۔ حضرت معاویہ جبکہ حضرت علی کے برابر طاقت یا ان پر غالب آکر لڑ رہے تھے۔ (کیونکہ حضرت معاویہ نے قصاص کے مطالبے پر جنگ میں شامل تھے۔ جبکہ حضرت علی بطور خلیفہ شامل تھے جن پر اپنی قوم پر نرمی کرنا شرعی طور پر واجب تھا جبکہ مخالف شرعی باغی نہ تھے )

اور یہی اہلسنت کا موقف ہے ۔
یہاں نہ ہی ظلم و فسق کا اطلاق ہوگا اور نہ ہی خروج ایمان کا !

نیز شوافع کا ہاں متاخرین میں امام کا درجہ رکھنے والے فقیہ امام ابن حجر مکی علیہ الرحمہ
حضرت علی رضی اللہ کا قاتلین حضرت عثمان حضرت معاویہ کے حوالے نہ کرنے پر تاویل احسن کرتے ہوئے کہتے  اہلسنت کا موقف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ومن اعتقاد أهل السنة والجماعة أن ما جرى بين معاوية وعلي رضي الله عنهما من الحروب فلم يكن لمنازعة معاوية لعلي في الخلافة للإجماع على حقيتها لعلي كما مر فلم تهج الفتنة بسببها وإنما هاجت بسبب أن معاوية ومن معه طلبوا من علي تسليم قتلة عثمان إليهم لكون معاوية ابن عمه فامتنع علي ظنا منه أن تسليمهم إليهم على الفور مع كثرة عشائرهم واختلاطهم بعسكر علي يؤدي إلى اضطراب وتزلزل في أمر الخلافة التي بها انتظام كلمة أهل الإسلام سيما وهي في ابتدائها لم يستحكم الأمر فيها فرأى علي رضي الله عنه أن تأخير تسليمهم أصوب إلى أن يرسخ قدمه في الخلافة ويتحقق التمكن من الأمور فيها على وجهها ويتم له انتظام شملها واتفاق كلمة المسلمين ثم بعد ذلك يلتقطهم واحدا فواحدا ويسلمهم إليهم ويدل لذلك أن بعض قتلته عزم على الخروج على علي ومقاتلته لما نادى يوم الجمل بأن يخرج عنه قتلة عثمان وأيضا فالذين تمالؤا على قتل عثمان كانوا جموعا كثيرة كما علم مما قدمته في قصة محاصرتهم له إلى أن قتله بعضهم جمع من أهل مصر قيل سبعمائة وقيل ألف وقيل خمسمائة وجمع من الكوفة وجمع من الكوفة وجمع من البصرة وغيرهم قدموا كلهم المدينة وجرى منهم ما جرى بل ورد أنهم هم وعشائرهم نحو من عشرة آلاف فهذا هو الحامل لعلي رضي الله عنه على الكف عن تسليمهم لتعذره كما عرفت ويحتمل أن عليا رضي الله عنه رأى أن قتلة عثمان بغاة حملهم على قتله   تأويل فاسد استحلوا به دمه رضي الله تعالى عنه
اہل سنت والجماعت کے عقائد میں سے یہ ہے کہ جو جنگیں حضرت معاویہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے درمیان ہوئیں، وہ خلافت کے لیے حضرت معاویہ کی حضرت علی سے نزاع کی وجہ سے نہیں تھیں، کیونکہ خلافت کا حق حضرت علی کے لیے اجماعی طور پر تسلیم شدہ تھا، جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔ اس لیے فتنہ خلافت کی وجہ سے نہیں بھڑکا، بلکہ یہ فتنہ اس وجہ سے بھڑکا کہ حضرت معاویہ اور ان کے ساتھیوں نے حضرت علی سے مطالبہ کیا کہ حضرت عثمان کے قاتلوں کو ان کے حوالے کیا جائے، کیونکہ حضرت معاویہ حضرت عثمان کے چچا زاد بھائی تھے۔
حضرت علی نے اس مطالبے کو فوراً پورا کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ ان کا گمان تھا کہ قاتلوں کو فوراً ان کے حوالے کرنا، جبکہ ان کے قبیلے اور حمایتی حضرت علی کے لشکر میں شامل تھے، خلافت کے امور میں افراتفری اور بے ترتیبی پیدا کر سکتا ہے۔ خاص طور پر جب خلافت ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی اور اس کی بنیاد مستحکم نہیں ہوئی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ مناسب سمجھا کہ قاتلوں کو حوالگی میں تاخیر کی جائے تاکہ خلافت کے امور مضبوط ہو جائیں، مسلمانوں کے درمیان اتحاد قائم ہو، اور خلافت کے معاملات مکمل طور پر قابو میں آ جائیں۔ پھر اس کے بعد وہ قاتلوں کو ایک ایک کر کے پکڑ کر ان کے حوالے کر دیں۔
اس بات کی دلیل یہ ہے کہ جب حضرت علی نے جنگ جمل کے دن یہ اعلان کیا کہ حضرت عثمان کے قاتل ان کے لشکر سے نکل جائیں، تو ان میں سے بعض نے حضرت علی کے خلاف خروج اور جنگ کا ارادہ کر لیا۔ مزید یہ کہ حضرت عثمان کے قتل میں شامل افراد کی تعداد بہت زیادہ تھی، جیسا کہ ان کے محاصرہ کے واقعے سے معلوم ہوتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق، ان کے قاتلوں میں سات سو، بعض کے مطابق ایک ہزار، اور بعض کے مطابق پانچ سو افراد شامل تھے۔ یہ لوگ مصر، کوفہ، بصرہ، اور دیگر علاقوں سے مدینہ پہنچے تھے اور انہی میں سے بعض نے حضرت عثمان کو قتل کیا۔ یہاں تک کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ ان کے قاتلوں اور ان کے حمایتیوں کی تعداد دس ہزار کے قریب تھی۔
یہی وہ وجہ تھی جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قاتلوں کو فوراً حوالے کرنے سے باز رکھا، کیونکہ یہ عمل اس وقت ممکن نہیں تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت علی نے حضرت عثمان کے قاتلوں کو باغی سمجھا ہو جو ان کے قتل کے ذمہ دار تھے۔ ہ ایک فاسد تاویل تھی جس کے ذریعے انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کو حلال سمجھا۔
[الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة ، ج2، ص623]

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی