ابوسفیان بن حرب کب مسلمان ہوئے؟
کتب سیرت میں فتح مکہ سے پہلے ابوسفیان کے مدینہ طیبہ جانے اور حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور دیگر اکابر صحابہ کرام سے ملاقاتوں کا ذکر اور اس کی تفصیلات ہیں ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران رات کو ابوسفیان میرے ہی پاس رہا۔ اور صبح کو میں اس کو لے کر محبوب کبریاء ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور ﷺ نے ابو سفیان کو دیکھتے ہی فرمایا کہ اے ابوسفیان تجھ کو خرابی ہو کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ تو خدا کی وحدانیت کو جانے ابوسفیان نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس قدر حلیم اور کریم اور رشتہ کے ملانے والے ہیں بیشک میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ اگر خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہوتا تو ضرور مجھ کو کچھ نفع پہنچاتا کیونکہ میں اس کی پوجا کرتا تھا رحمت کونین  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس ہے تجھ پر اے ابوسفیان : کیا تیرے واسطے ابھی وہ وقت نہیں آیا۔ کہ تو میری رسالت کا اقرار کرے ابوسفیان نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس قدر حکیم و کریم اور رشتہ کا خیال اور پاس کرنے والے ہیں ۔ قسم ہے خدا کی اس
بات سے اس وقت تک دل میں کچھ ہے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تجھ کوخرابی ہو گردن کے مارے جانے سے پہلے اسلام قبول کرلے ۔ اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دے۔ پس ابوسفیان نے گواہی دی۔ اور اسلام قبول کیا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ابوسفیان فخر کو دوست رکھتا ہے اس کے واسطے کوئی ایسی بات کر دیجئے ۔ جس میں اس کو فخر ہو تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قَالَ نَعَمْ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنْ ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنْ وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَهُوَ آمِن
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ، جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوگا اس کو امن ہے۔ اور جو اپنا دروازہ بند کرے گا اس کو امن ہے اور جو مسجد حرام میں داخل ہو گا اس کو امن ہے۔
[ سیرت ابن هشام: 403/2][الروض الانف : 212/7]
جوامع السيره : صفحه 182][السيرة النبويه لابن كثير : 549/3]
صحیح بخاری کی روایت نمبر 4280 سے بھی تائید ہوتی ہے کہ ابوسفیان بن حرب فتح مکہ سے پہلے اسلام لے تھے۔
صفدر مجید