میلاد رسولﷺ پر سب سے پہلی کتاب لکھنے والے  محدث!
تحریر: اسد الطحاوی

تاریخ اسلام میں میلاد رسولﷺ کے موضوع پر سب سے پہلے کتاب لکھنے کی سعادت جن دو  محدثین  کو  ہوئی انکا   مکمل نام اور کنیت  اور حالات و علمی حیثیت کی تفصیل پیش کرینگے اس مضمون میں ۔
کیونکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ میلاد رسولﷺ کی تائید میں کس درجہ کے علماء و فقہاء ہیں اور میلاد رسولﷺ کو بدعت کہہ کر ٹھکرانے والے کون ہیں ۔

پہلے محدث:
امام أحمد بْن مَعَدّ بْن عيسى بْن وكيل، الزّاهد أبو العبّاس، التُّجَيْبيّ، الأُقْلِيشيّ، ثمّ الدّانيّ  (489 – 550ھ)

امام ذھبی آپکے بارے فرماتے ہیں:
أحمد بْن مَعَدّ بْن عيسى بْن وكيل، الزّاهد أبو العبّاس، التُّجَيْبيّ، الأُقْلِيشيّ، ثمّ الدّانيّ. [المتوفى: 550 هـ]
سَمِعَ أَبَاهُ أبا بَكْر، وليس بالمشهور، وسمع صِهْره طارق بْن يَعيش، وأبا العبّاس بْن عيسى، وتلمذ له، وأبا الوليد ابن الدّبّاغ، وجماعة، وحجّ، فسمع بمكَّة من الكَرُوخيّ. وكان من الأئمَّة والعلماء العاملين، لَهُ عدَّة مصنَّفات، روى عَنْهُ الوزير أبو بَكْر بْن سُفْيان، وغيره، وكان كثير البكاء، والخشْية، والعُزُوب عَن الدّنيا، عارِفًا باللّغة، والعربيَّة، والحديث، كبير القدْر، سَمِعَ الكثير بالإسكندريَّة من السِّلَفيّ.

احمد بن معد بن عیسی بن وکیل، زاہد ابو العباس، التجیبی، الاقلیشی، پھر الدانی (متوفی: 550 ہجری)۔ انہوں نے اپنے والد ابو بکر سے سماع کیا ، جو زیادہ مشہور نہیں تھے، اور اپنے سسر طارق بن یعیش، ابو العباس بن عیسی، اور ابو الولید ابن دباغ سے بھی سماع کیا۔ وہ ان کے شاگرد رہے۔ انہوں نے حج کیا اور مکہ مکرمہ میں کَروخی سے حدیث کا سماع کیا۔
وہ علم و عمل کے میدان کے امام اور بڑے علماء میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی کئی تصنیفات تھیں۔ ان سے وزیر ابو بکر بن سفیان اور دیگر نے روایت کی۔ وہ بہت زیادہ روتے اور اللہ کا خوف رکھتے تھے، دنیا سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے تھے، اور لغت، عربی زبان، اور حدیث میں ماہر تھے۔ ان کا مقام بہت بڑا تھا۔ انہوں نے اسکندریہ میں السلفی سے بہت سا علم حاصل کیا۔
[تاریخ الاسلام ، برقم: 575]

مزید یہ کہ ان کے منہج و اسلوب پر ایک عرب محقق نے کتاب تصنیف کی ہے ۔ اور انہوں نے اپنی تحقیق  میں جب انکی کتب کا تذکرہ کیا تو
۹ نمبر پر انکی کتاب بنام “الدُّر المنظَّم في مولد النَّبي الأعظم” کا تذکرہ کیا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے اندلسی محدث
کچھ محدثین کی آراء یہ بھی ہے کہ میلاد رسولﷺ کے باب میں سب سے پہلے تصنیف لکھنے والے محدث
امام   ابو العباس العزفي  (المتوفى سنة 633) یہ بھی  ہم زمان تھے ۔ اور اندلسی تھے ۔ 
اور یہ محدث اور فقیہ تھے۔ جب انکے دور میں اندلس میں حضرت عیسیٰ   کے پیدائش کی خوشی  زور و شور سے عیسائیوں کی طرف سے کی جاتی تھی۔  وہ  لوگ مسلمانوں کے بچوں کو مدعو کرتے اور انکو تحائف اور دیگر کھانے کی اشیاء فراہم کرتے ۔ اور دعوت  عام ہوتی  تھی۔
تو  امام ابو  اعباس  عزفی  جو کہ خود اپنی ایک ریاست رکھتے تھے اور حاکم تھے انہوں نے اندلس میں اپنا یہ مشن جاری کیا کہ ہم عیسائیوں کے مقابل  حضور اکرمﷺ کا میلاد منائیں گے۔ اور اپنے بچوں کے دلوں میں نبی کریمﷺ کی محبت کو بڑھائیں گے۔ کہ لوگوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ رسولﷺ کب پیدا ہوئے تھے ۔

امام ذھبی علیہ الرحمہ نے انکے ترجمہ میں خاص بیان کیا ہے کہ انہوں نے میلاد رسولﷺ  پر کتاب تصنیف کی تھی ۔  جو بہت عمدہ تھی
(نوٹ: اس سے امام ذھبی علیہ الرحمہ کا موقف بھی معلوم ہو گیا کہ  وہ بھی میلاد  رسولﷺ کو جائزہ قرار دینے والوں میں سے تھے )

جیسا کہ آپ لکھتے ہیں :
أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن أَحْمَد اللَّخْميّ، الفقيه المحدثُ الرئيسُ أَبُو الْعَبَّاس ابْن الخطيب أَبِي عَبْد اللَّه اللَّخْميّ السَّبْتيُّ المعروفُ بالعَزَفي. [المتوفى: 633 هـ]
سَمِعَ الكثيرَ من أَبِي مُحَمَّد بْن عُبَيْد اللَّه الحَجْريِّ. وأجازَ لَهُ ابْن بَشْكُوال، وطائفةٌ. وله تواليفُ حسنةٌ. وكانَ ذا فضلٍ، وصلاحٍ، وجلالةٍ، وإتقانٍ.
أجاز لَهُ أَبُو القاسم بْن حُبَيْش، وأَبُو مُحَمَّد بْن فِيرُّه الشاطبيُّ، وعَبْد الحقّ مصنف ” الأحكام “، وعبد الجليل القصري.
وألف في الحديث أجزاء مفيدة. وهو والدُ صاحبِ سَبْتَة.
قَالَ لي أَبُو القاسم بْن عمرانَ: أخبرني عَنْهُ الوزير أَبُو عَبْد اللَّه مُحَمَّد بْن أَبِي عامر الأَشعريُّ المالقيُّ، وأَبُو بَكْر مُحَمَّد بْن محمدٍ المومنائيّ، وأَبُو الْحُسَيْن بْن أَبِي الربيع، وغيرُهم.
قلت: وقد صنَّفَ كتابًا فِي مولدِ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ وجوَّده. وكان إمامًا ذا فنونٍ.
وقد ذكرَه ابنُ مسدي فِي ” مُعجمه ” وأوضح نسبه، فقال: أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن عَلِيّ بْن سُلَيْمَان بْن أَبِي عَزَفة، مكينُ المكانةِ فِي العلم والديانة، لَهُ عنايةٌ بالحديث، معلنٌ فِي فُتياه مذهبَ مالكٍ، وربما خالفه. وكان معُتمدَ بلدِه بفقهه وسنده. لَهُ الجاهُ والمالُ. سَمِعَ من ابْن غاز، ومن أَبِي عبد اللَّه بْن زَرْقون لمّا وَليَ قضاء سَبْتَة، ومن السُّهَيْليّ، وجماعة لمّا وفدوا إلى مَرَّاكِش. وكانَ فصيحًا لَسِنًا، وعلى الرواية مؤتمنًا. قَالَ لي: إنه وُلِد سنة تسعٍ وخمسين، أخبرنا أبو العباس، قال: أخبرنا أَبِي أَبُو عَبْد اللَّه بْن أَبِي عزفة، قال أخبرنا القاضي عياضٌ فذكر حديثًا.
قلت: روى عَنْهُ جماعةٌ.
ماتَ فِي رمضان، وله ستٌ وسبعون سنة.

احمد بن محمد بن احمد اللخمی، فقیہ، محدث، رئیس ابو العباس ابن الخطيب ابو عبد اللہ اللخمی السبتی، جو عزفی کے نام سے مشہور ہیں  (متوفی: 633ھ)
انہوں نے ابو محمد بن عبید اللہ الحجری سے بہت سا علم حاصل کیا اور ابن بشکوال اور دیگر علماء نے انہیں اجازت دی۔ ان کی کئی بہترین تصنیفات ہیں اور وہ فضل، صلاح، عظمت، اور علمی مہارت کے حامل تھے۔
انہیں ابو القاسم بن حُبیش، ابو محمد بن فیرُّہ الشاطبی، عبد الحق صاحب “الاحکام”، اور عبد الجلیل القصری نے بھی اجازت دی۔ انہوں نے حدیث پر مفید کتابیں تصنیف کیں۔ وہ سبتی (سبتہ) شہر کے صاحب (والی) کے والد تھے۔
ابو القاسم بن عمران نے ان کے بارے میں کہا: مجھے وزیر ابو عبد اللہ محمد بن ابی عامر الاشعری المالقی، ابو بکر محمد بن محمد المؤمنائی، ابو الحسین بن ابی الربیع اور دیگر نے ان کی معلومات دیں۔
میں (الذھبی) کہتا ہوں: انہوں نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک کتاب تصنیف کی جو بہت عمدہ تھی۔ وہ ایک امام تھے جو کئی فنون میں مہارت رکھتے تھے۔
ابن مسدی نے اپنی کتاب “معجم” میں ان کا نسب واضح کیا اور کہا: احمد بن محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن محمد بن علی بن سلیمان بن ابی عزفہ، علم اور دین میں ممتاز مقام کے حامل تھے، حدیث کے علم میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے، اور فتویٰ میں امام مالک کے مذہب کا اعلان کرتے، لیکن کبھی کبھار ان سے اختلاف بھی کرتے۔ وہ اپنے شہر کے فقہی علوم اور سند میں معتمد تھے اور ان کے پاس عزت اور دولت بھی تھی۔
انہوں نے ابن غاز، ابو عبد اللہ بن زرقون (جب وہ قاضی سبتہ تھے)، اور السہیلی سے بھی سماع کیا جب وہ مراكش آئے۔ وہ فصیح اور زبان کے ماہر تھے، اور روایت میں قابلِ اعتماد تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پیدائش 559 ہجری میں ہوئی۔ ان کے والد ابو عبد اللہ ابن ابی عزفہ نے ان سے قاضی عیاض کا ذکر کیا اور ایک حدیث سنائی۔
ان سے کئی لوگوں نے روایت کی اور وہ رمضان میں 76 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔
[تاریخ الاسلام ، برقم: 156]

یہ اپنی زندگی میں میلاد کی کتاب کو مکمل نہ لکھ سکے ۔ اور انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ اس کتاب کو مکمل کرنا اور اپنی ریاست میں اندلس میں میلاد رسولﷺ کو جاری و ساری کرنا
چناچہ انکے بیٹے جو کہ فقیہ و محدث تھے ۔

امام ذھبی انکی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
العزفي صاحب سبتة الفقيه، وهذا لقب له، أبو القاسم محمد ابن صاحب سَبْتَة الفقيه أبي الْعَبَّاس أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن أَحْمَد، اللّخْميّ، السّبْتيّ العَزَفيّ. [الوفاة: 671 – 680 هـ]
حكم على بلد سَبْتَة بعد أَبِيهِ فِي سنة ثلاث وثلاثين وستمائة، فحدثني أبو الصّفا خليل بْن أَيْبَك الكاتب أنّ الإِمَام أَبَا حيّان حدّثه أن أَبَا القاسم هَذَا لم يؤدِّ طاعة لأحدٍ من ملوك المغرب، وساسَ بلدة أحسن سياسة بحيث لم يختلف عليه اثنان، ولم يتسمَّ بألقاب الملوك، إنّما يُقَالُ الفقيه وكان أبيض، رَبْعه، ذا شَيْبَة، شَهْمًا، عاقلًا، داهية، سائسًا لا يدخل سَبْتَة غريب إلّا بضامنٍ، ولا يخرج إلّا بإذن، ولا قتْل ولا قطْع إلّا فِي حدّ، ولا يدخل أحدٌ بلده راكبًا، وكان متواضعًا، قريبًا، يمرّ فِي الأزقَّة، ويسلّم ويسأل العامّة عن أحوالهم،
ويؤانس صبيانهم ويسألهم عمّا يشتغلون به من علمٍ أو صنعة، بقي الغرباء يرغبون فِي بلده، ويشترون به العقار، وكان عسكره أَهْل بلده قد جعلهم يتعلّمون الرَّمي وأجرى عليهم رِزقًا ولهم صنائع، وكان له مراكب يقاتل بها، وصاهر بني الرنداحي رؤساء البحر، وكانوا شجعانًا أجلادًا، فقوي أمره،

العزفی صاحبِ سبتیہ، جو کہ ان کا لقب ہے، ابو القاسم محمد بن صاحبِ سبتیہ الفقیہ ابو العباس احمد بن محمد بن احمد اللخمی السبتی العزفی تھے۔ [وفات: 671-680 ھ]
انہوں نے اپنے والد کی وفات کے بعد 633 ہجری میں سبتہ کے شہر پر حکومت کی۔ مجھے ابو الصفا خلیل بن ایبک نے بتایا کہ امام ابو حیان نے ان سے ذکر کیا کہ ابو القاسم نے کبھی بھی مملکت مغرب کے کسی بادشاہ کی اطاعت نہیں کی۔ انہوں نے اپنی ریاست کو بہترین طریقے سے سنبھالا، یہاں تک کہ ان کے فیصلوں پر کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ وہ بادشاہوں کے القاب اختیار نہیں کرتے تھے، بلکہ انہیں “فقیہ” کہا جاتا تھا۔
وہ سفید رنگت والے، درمیانی قامت کے، بزرگ اور زیرک انسان تھے۔ انتہائی ہوشیار، سمجھدار اور مدبر حکمران تھے۔ ان کے شہر میں کوئی اجنبی بغیر ضامن کے داخل نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہی کسی کو بغیر اجازت کے باہر جانے کی اجازت تھی۔ ان کے دور میں سبتہ میں قتل یا قطع عضو صرف شرعی حد کے مطابق ہوتا تھا۔ کوئی بھی ان کے شہر میں سوار ہو کر داخل نہیں ہوتا تھا۔
ابو القاسم بہت متواضع اور قریب الوصول تھے۔ وہ اکثر گلیوں میں گھومتے، لوگوں کو سلام کرتے اور ان کے احوال دریافت کرتے تھے۔ وہ بچوں سے بھی انسیت رکھتے اور ان سے یہ پوچھتے کہ وہ کیا علم یا ہنر سیکھ رہے ہیں۔ ان کی حکومت کے دوران غیر ملکی لوگ ان کے شہر میں آ کر زمین خریدنے کے خواہشمند ہوتے تھے۔
ان کی فوج ان کے اپنے شہر کے لوگ تھے جنہیں انہوں نے تیر اندازی سکھائی تھی اور ان کے لیے رزق مقرر کیا تھا۔ ان کی فوج کے افراد کے پاس مختلف ہنر بھی تھے۔ ان کے پاس بحری جنگ کے لیے کشتیاں بھی تھیں اور وہ بنی الرنداحی کے بہادر جنگجوؤں کے ساتھ رشتہ داری میں تھے، جنہوں نے ان کی قوت کو مزید بڑھایا۔

پھر امام ذھبی انکے میلاد رسولﷺ کے تعلق سے فرماتے ہیں:
حدَّث عن أَبِيهِ، وكان أَبُوهُ عالمًا بالحديث، وحدَّث أيضًا عن أبي القاسم بْن بَقِيّ، وأبي الرَّبِيع بْن سالم، كتب إِلَيَّ بالإجازة وألف كتاب ” الدّرّ المنظّم فِي المولد المعظّم “، وكان يعمل بسَبْتَة المولد بخلاف سائر الأندلس، فإنّه لا يُعمل فيها سوى ميلاد عِيسَى تَبَعًا للنّصارى إِلَى أن قَالَ: وله نظْم.
قلت: امتدّت أيّام دولته وشاخ وبقي إِلَى سنة بضعٍ وسبعين وستّمائة.

ابو القاسم نے اپنے والد سے حدیث سنی، جو خود بھی حدیث کے عالم تھے۔ انہوں نے ابو القاسم بن بقی اور ابو الربیع بن سالم سے بھی روایت کی۔ انہوں نے مجھے بھی اجازت نامہ تحریر کیا اور “الدر المنظم فی المولد المعظم” نامی کتاب تصنیف کی۔ وہ سبتہ میں میلاد النبی مناتے تھے، جبکہ اندلس کے باقی علاقوں میں صرف حضرت عیسیٰ کا میلاد منایا جاتا تھا، جو کہ نصاریٰ کی پیروی تھی۔
میں کہتا ہوں کہ ان کی حکومت کا زمانہ طویل رہا اور وہ بڑھاپے تک زندہ رہے، یہاں تک کہ 670 ہجری کے بعد کے کچھ سالوں تک ان کی زندگی جاری رہی۔
[تاریخ الاسلام، برقم: 584]

اسی طرح امام صلاح الدین  صفدی (المتوفى: 764ھ)  انکے بارے کہتے ہیں :
(ابن الخطيب العزفي)
أحمد بن محمد بن أحمد اللخمي الفقيه المحدث الرئيس أبو العباس بن الخطيب أبي عبد الله السبتي المعروف بالعزفي بالعين مفتوحة والزاي مفتوحة والفاء سمع الكثير وأجاز له ابن بشكوال وكان ذا فضل وصلاح صنف كتابا في مولد النبي صلى الله عليه وسلم وجوده وكان ذا فنون وألف في الحديث أجزاء مفيدة وتوفي سنة ثلاث وثلاثين وست مائة

ابن الخطيب العزفی، احمد بن محمد بن احمد اللخمی، فقیہ، محدث اور رئیس تھے۔ ان کا لقب ابو العباس تھا اور وہ خطیب ابو عبد اللہ السبتی کے بیٹے تھے، جو کہ “العزفی” کے نام سے مشہور تھے۔ انہوں نے بہت زیادہ علم حاصل کیا اورامام  ابن بشکوال سے اجازت بھی پائی۔
وہ ایک فاضل اور نیک شخص تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد شریف کے بارے میں ایک کتاب لکھی، جو بہت عمدہ تھی۔ وہ مختلف علوم میں مہارت رکھتے تھے اور حدیث کے بارے میں کئی مفید حصے تحریر کیے۔ ان کا انتقال 633 ہجری میں ہوا۔
[الوافي بالوفيات، برقم:۳]

امت کے اتنے بڑے بڑے محدثین  اور انکے عمل مولد اور تصانیف کی تعریف و مدح کرنے والے امام ذھبی و امام ابن حجر عسقلانی کے شیخ امام صلاح الدین صفدی جیسے حفاظ ہیں ۔
معلوم ہوا کہ میلاد رسولﷺ منانے والے  جمہور امت میں مختلف  علاقوں کے مختلف ائمہ کے دل میں اللہ نے میلاد رسولﷺ  کا خیال ڈالا۔
جیسا کہ اندلس میں انکی خوش قسمتی تھی ۔
اور
عرب میں شاہ  مظفر  کی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلفی علماء بھی اب میلاد رسول کو منانے لگ گئے ہیں جن میں سے ایک مشہور عالم شیخ ابن بادیس ہیں۔

سلفی علماء کے ایک معتبر عالم گزرے ماضی قریب کے جنکا جزائر سے تعلق تھا۔

الشیخ عبد الحميد بن باديس (1307-1358ھ)
یہ میلاد رسول مناتے تھے اور اسکی تلقین بھی کرتے تھے۔
علامہ ابن باز نے جب اس مسلہ پر انکا رد کیا تو ابکی تصنیف سے شیخ ابن بادیس کے جو دلائل نقل کیے وہ بہت متاثر کن  اور عاشقان مصطفی کے لیے بڑے نفیس ہیں

جیسا کہ علامہ ابن باز انکا فتوی نقل کرتے ہیں:
بسم اللّه الرّحمن الرّحيم، وعلى اسم الجزائر الرّاسخة في إسلامها، المتمسّكة بأمجاد قوميتها وتاريخها ـ أفتتح الذّكرى الأولى بعد الأربعمائة والألف من ذكريات مولد نبي الإنسانيّة ورسول الرّحمة سيّدنا ومولانا محمّد بن عبد اللّه عليه وعلى آله الصّلاة والسّلام ـ في هذا النّادي العظيم الّذي هو وديعة الأمّة الجزائريّة عند فضلاء هذه العاصمة ووجهائها. لسنا وحدنا في هذا الموقف الشّريف لإحياء هذه الذّكرى العظيمة، بل يشاركنا فيها نحو خمسمائة مليون من البشر في أقطار المعمور كلّهم تخفق أفئدتهم فرحا وسرورا وتخضع أرواحهم إجلالا وتعظيما لمولد سيّد العالمين«، ثمّ واصل كلامه قائلا :
» ما الدّاعي إلى إحياء هذه الذّكرى ؟ المحبّة في صاحبها..إنّ الشّيء يحبّ لحسنه أو لإحسانه وصاحب هذه الذّكرى قد جمع ـ على أكمل وجه ـ بينهما« ثمّ ازداد تمسّكا بهذه البدعة والاستدلال لها فقال : » فمن الحقّ والواجب أن يكون هذا النّبيّ الكريم أحبّ إلينا من أنفسنا وأموالنا ومن النّاس أجمعين ولو لم يقل لنا في حديثه الشّريف : “لا يؤمن أحدكم حتّى أكون أحبّ إليه من ولده ووالده والنّاس أجمعين”، وكم فينا من يحبّه هذه المحبّة ولم يسمع بهذا الحديث ؟ فهذه المحبّة تدعونا إلى تجديد ذكرى مولده في كلّ عام.. ما الغاية من تجديد هذه الذّكرى ؟ استثمار هذه المحبّة…

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم، اور الجزائر کے نام پر جو اپنے اسلام میں مضبوط اور اپنی قومی عظمتوں اور تاریخ سے وابستہ ہے، میں ایک ہزار چار سو ایک سال بعد نبیٔ انسانیت اور رسولِ رحمت حضرت محمد بن عبد اللّٰہ ﷺ کی ولادت کی یاد کا آغاز کرتا ہوں ـ اس عظیم مجلس میں جو الجزائر کی قوم کی امانت ہے اور اس دارالحکومت کے معزز افراد کے حوالے ہے۔ ہم اس شاندار موقع پر اس عظیم یاد کو تازہ کرنے میں تنہا نہیں ہیں بلکہ دنیا بھر کے پانچ سو ملین افراد ہمارے ساتھ ہیں جن کے دل خوشی اور مسرت سے دھڑکتے ہیں اور جن کی روحیں نبیٔ عالمین کی ولادت کی عظمت کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ پھر انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:

اس یاد کو تازہ کرنے کی وجہ کیا ہے؟ صاحبِ ولادت سے محبت۔ کوئی چیز اس کی خوبصورتی یا اس کے احسان کی وجہ سے پسند کی جاتی ہے اور اس ولادت کے صاحب نے دونوں خوبیوں کو کامل انداز میں جمع کر لیا ہے۔ پھر انہوں نے اس بدعت کو اپنانے اور اس کے جواز کے دلائل کو مزید بڑھایا اور کہا یہ حق اور واجب ہے کہ یہ عظیم نبی ہم کو اپنی جانوں، مالوں اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب ہو، چاہے آپ ﷺ نے ہمیں یہ نہ بھی کہا ہوتا کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والدین، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔’
اور ہم میں کتنے لوگ ہیں جو آپ سے اس محبت کا اظہار کرتے ہیں بغیر یہ حدیث سنے؟ یہی محبت ہمیں ہر سال آپ ﷺ کی ولادت کو یاد کرنے پر مجبور کرتی ہے… اس یاد کو تازہ کرنے کا مقصد کیا ہے؟ اس محبت کو عملی جامہ پہنانا…

پھر علامہ ابن باز اسکا رد اسی روایتی سلفی طریقے پر کرتے ہیں کہ  میلاد بدعت ہے اور ہر بدعت ضلال ہے تو یہ عمل ضلال ہے وغیرہ وغیرہ

[الرد الوافي على من زعم أن بن باديس]
التّحذير من البدع [للشيّخ العالم العلاّمة “عبد العزيز بن باز”]

تحریر: اسد الطحاوی الحنفی ✍️