بسمہ اللہ الرحمن الرحیم

اردو میں مخاطب کے لیے لفظ تو کے علاوہ تم اور آپ کے الفاظ بھی ہیں کسی فرد واحد کو مخاطب کرنے کے لیے تو کے علاوہ تم اور آپ بھی استعمال ہوسکتا ہے لیکن تم اور آپ ایک سے زیادہ لوگوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے بعض اہل علم فرد واحد کے لیے لفظ تو سے ہٹ کر آپ کے لفظ کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کے پیچھے احترام کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے جبکہ لفظ تم بھی استعمال کیا جاتا ہے جس کے بارے میں رائے یہ ہے کہ وہ لفظ تو سے بہتر ہے لیکن یہ ذہن نشین ہونا چاہیے کہ آپ اور تم جمع کا صیغہ ہے یعنی ایک سے زائد لوگوں کے لیے بھی یہ دونوں الفاظ استعمال کیے جاسکتے ہیں، حمد باری تعالٰی میں کسی بھی شاعر نے اللہ تعالٰی کے لیے تم اور آپ کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ خدا وند کریم کی یکتائی کے لیے لفظ ” تو ” ہی استعمال ہوگا اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا اپنی ذات اور صفات میں یکتا ہے اور اس کا ارشاد ہے ولم یکن لہ کفوا احد کوئی بھی اس کا ہمسر نہیں ہے
اردو نعت میں اکثر شعراء نے حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لفظ تو استعمال کیا ہے کہیں ضرورت شعری کی وجہ سے اور کہیں مخلوق میں حضور کی ذات کے یکتا ہونے پر رسول مکرم کی شان کو یوں بھی بیان کیا گیا
کوئی ثانی ہے تمھارا نہ خدا کا ہے شریک
جیسے یکتا ہے خدا ویسے ہی یکتا تم ہو
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مخلوق خدا میں اپنی ذات و صفات میں اللہ کی عطا سے ایسے ہی یکتا ہیں کہ حضور کا بھی کوئی مخلوق میں شریک نہیں ہے
اہل عقیدت علماء نے سرکار ختمی مرتبت کے خصائل اور فضائل میں کسی کی شراکت کا تصور بھی محال سمجھا اور عقیدت کو حقیقت کا رنگ دیتے ہوئے کہا
واہ کیا جودو کرم ہے شہ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
کسی کی ایسی فضیلت کو بیان کرنا کہ وہ خصوصیت رکھتی ہو اور اس خصوصیت میں بھی کوئی اس کا  شریک نہ ہو تو قرب کی خاص منزل میں حضور رسالت مآب کی فضیلت کی  یکتائی یوں بھی بیان کی گئی
سرور کہوں کہ مالک و مولا کہوں تجھے
باغ خلیل کا گل زیبا کہوں تجھے
عشاق نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت میں لفظ تو تیرا تمہی اور تجھے کو آپ کی ذات و صفات میں آپ کی یکتائی کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا ہے انما العمال بالنیات کے مصداق اس عمل پر بھی باعث اجروثواب ہے
سرور کائنات کی ذات و صفات کی یکتائی کو بیان کرنے کے لیے اردو شاعری کے کہنہ مشق شاعر نے بھی آپ کو یوں خراج عقیدت پیش کیا
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
بعض شعراء نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں التجا کے لیے سادگی اور بانکپن میں یوں بھی درخواست پیش کی
ڈال دے صدقہ نواسوں کا میری جھولی میں
تیرے منگتے کا اسی طور گزارا ہوگا
مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے شعراء نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت میں آپ کے لئے تو، تیرا اور تجھے جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں جو کسی طور پر بھی بے ادبی میں شمار نہیں ہوسکتے بلکہ شاعری کے اوزان کو برقرار رکھنے اور حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ کی فضیلت شان  اور حرمت کو بیان کرنے کے لئے علمائے ربانین نے اس کی اجازت دی ہے

سید فصیح الدین سھروردی
2 – مئی 2025 ہیوسٹن