اسپرے سے وضو
اسپرے سے وضو
وضو کے 4 فرض ہیں
چہرے کا دھونا
ہاتھوں کا کہنیوں سمیت دھونا
سر کا مسح کرنا
پاؤں کا ٹخنوں سمیت دھونا
دھونے کی تعریف یہ ہے کہ جن اعضاء کو دھویا جاتا ہے ہر ہر حصے سے مثلا ہاتھ ہے تو کہنی سے انگلی کے ناخن تک ہر ہر حصے پر کم از کم دو قطرے پانی کے بہہ جائیں ۔یہی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا موقف ہے
اسپرے کرنے میں عام طور پر گیلا کرنا پایا جاتا ہے دھونا یا بہنا نہیں پایا جاتا
جو لوگ پرفیوم یوز کرتے ہیں ان کو اچھے سے اندازہ ہے کہ پرفیوم اسپرے سے باڈی بمشکل گیلی ہوتی ہے کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس میں اسپرٹ ہوتا ہے تو فورا اڑ جاتا ہے ۔
چلیں استری تو سب گھر میں ہوتی ہے وہاں خاص کر کاٹن کے کپڑوں کو جو اسپرے کیا جاتا ہے اس میں ہلکی نمی آتی ہے یا پھر بہنا پایا جاتا ہے؟
الغرض اسپرے میں بہنے کی تعریف کے مطابق اعضاء کا دھلنا عملا مشکل ہے
البتہ اگر بہت زیادہ اسپرے کہا جائے تو بہنے کی تعریف کے مطابق عضو کا دھویا جانا ممکن ضرور ہے
لیکن عوام میں ایسی چیز ڈالنا ضروری ہے جو مضبوط ہو نہ یہ کہ وہ مزید غفلت میں پڑیں اور نماز جیسا فرض خطرے میں پڑے۔
پھر غلط مسئلہ بتا کر کسی چیز کی ترغیب دینا تو دوہری غلطی ہے۔مثلا کسی نے ہتھیلی پر خوب اسپرے مارا جس سے ناخنوں سے پانی ٹپک پڑا لیکن بازو کو صرف گیلا کیا تو یہ نا کافی ہے کہ اعضائے وضو میں دھونے والے مقام پر بال برابر حصے سے بھی دو قطرے پانی بہنا شرط ہے۔ جبکہ اسپرے کی ترغیب دینے والی ویڈیو میں بتایا گیا کہ بس مطلق دو قطرے ٹپک جائیں کافی ہے
یاد رہے کہ چار فرض کے علاوہ دیگر کئی امور وضو میں سنت موکدہ ہیں جن میں بلا عذر چھوڑنے کی عادت گناہ ہے
پھر مسجد کا تقدس بھی اہم ہے ہر شخص مسجد میں وضوکرنے بیٹھ جائے تو نظم کا حشر نشر ہو جائے گا اور اعضائے وضو سے گرنے والے پانی سے مسجد کو بچانا بھی ضروری ہے۔
مفتی علی اصغر
21 ذی قعدة الحرام
18 مئی شب 2025