اخلاق نبوی ﷺ اور حسن اقبال چشتی کی فحش گوئی
اخلاق نبوی ﷺ اور حسن اقبال چشتی کی فحش گوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد قاسم چشتی نظامی غفرله
.22 مئی 2025 ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دن قبل مجھے انٹرنیٹ پر حسن اقبال چشتی نامی ( نام نہاد نعت خواں ) کی شاعری سننے کا موقع ملا اس کی شاعری میں اکثر الفاظ سطحی اور اخلاق سے گرے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے میں نے اس کی شاعری کو سننے سے اجتناب کیا ہے ۔ اور اس بارے میں اپنی راۓ دینے سے بھی احتراز کرتا رہا ہوں ۔
اسی حواس باختہ اور فحش شاعری کی وجہ سے حسن اقبال چشتی کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
اور کل سے کچھ مجاہدین اس کی اس فحش گوئی کی وکالت کرنے پر مامور ہیں
اس بارے میں چند گزارشات عرض کرتا ہوں
تصلب فی الدین ہونا ۔۔۔راسخ فی العقیدہ ہونا ایک الگ چیز ہے ۔۔۔۔استقامت اور تشدد حق گوئی اور فحش گوئی ایک الگ چیز ہے۔
ماضی قریب میں ہمارے بزرگان دین نے بھی حق گوئی میں سخت یا بے باک الفاظ استعمال کیے لیکن وہ بے باک الفاظ فحش اور اخلاق سے گرے ہوۓ ہرگز نہ تھے۔
عقیدے کی حفاظت اور اسلام کی بقاءکی خاطر سختی کا حکم بلکل موجود ہے لیکن فحش گوئی کا ہرگز حکم نہیں دیا گیا ۔ حق گوئی اور فحش گوئی دونوں متضاد چیزیں ہیں ۔حق گوئی اور فحش گوئی کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھ لینا ایک بہت بڑا مغالطہ ہے عہد حاضر کے کچھ ناقص العقل لوگ فحش گوئی کو حق گوئی سمجھ بیٹھے ہیں جو کہ ایک بہت بڑی غلط فہمی اور فکری گمراہی ہے ۔ کچھ بڑے جبے و دستار والوں نے اپنے نام کے ساتھ چشتی لگا کر فحش گوئی کو اپنی خصوصیت بنا لیا ہے اور یہی تبلیغ کرتے ہیں کہ بد مذہبوں سے سختی کرنے کا صحیح طریقہ یہی ہے ۔جب کہ یہ روش ہمارے ماضی قریب و بعید کے اکابر میں ہرگز نہ تھی ۔۔۔نہ ہے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جس معاشرے میں مبعوث ہوئے وہ عرب معاشرہ ان تمام برائیوں کا شکار تھا جو برائیاں اج ہمارے معاشرے میں موجود ہیں ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت کے وقت زنا ۔چوری ۔شراب نوشی ۔جوا اور بت پرستی عام تھی۔یہاں تک کہ لوگ خانہ کعبہ کا ننگا ہو کر طواف کرتے تھے ۔ان تمام برائیوں کے باوجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کو تبلیغ کرتے ہوئے کبھی بھی فحش گوئی کا سہارا نہ لیا ۔تمام ذخیرہ احادیث میں ایک بھی ضعیف سے ضعیف روایت نہیں ملتی جس سے پتہ چلتا ہو نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عرب معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کو روکنے کے لیے کوئی کوئی سخت یا اخلاق سے گرا ہوا جملہ استعمال کیا ۔یہاں تک کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جانی دشمن بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم عمدہ اخلاق کے مالک تھے ۔نبی پاک صلی اللہ علیہ ہ وسلم سے روایت ہے کہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا احادیث پاک کے ذخیرے میں ایسی متعدد احادیث ملتی ہیں جو باقاعدہ طور پر حسن اخلاق کے بارے میں روایت کی گئی ہیں ۔
تبلیغ دین کے سلسلے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بہت سارے گوشوں میں ہمیں رہنمائی کا سامان میسر ہے اور ملتا ہے ۔
نمبر ایک ۔۔۔حسن اخلاق
نمبر دو ۔۔۔۔۔۔مؤعظت و حکمت
اگر ہم ایمانداری سے غیر جانبدار ہو کر حسن اقبال چشتی کی شعر و شاعری کا جائزہ لیں تو یہ شاعری حسن اخلاق سے عاری اور مؤعظت و حکمت سے تہی دامن نظر آتی ہے۔ ہمارے سلسلہ چشتیہ کے بزرگان دین نے برصغیر پاک و ہند میں صرف اور صرف حسن اخلاق کی بدولت اسلام کی شمع کو روشن رکھا یہاں تک کہ برصغیر میں 90 لاکھ سے زیادہ مسلمان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمت اللہ علیہ کے حسن اخلاق کی بدولت مسلمان ہوئے۔یہ ہے وہ حقیقت ہے جس کو کوئی بھی نہیں ٹھکرا سکتا ۔
اسلام سارے کا سارا اسی حسن اخلاق کا بہترین نمونہ ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی احادیث اور اللہ تعالی کا قران ہمیں حسن اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔
قران و حدیث کے ہوتے ہوئے تو حسن اخلاق کا کوئی دوسرا پیمانہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے ۔
حسن اقبال چشتی کی شاعری میں دلا۔۔ رنڈی اور گشتی کے الفاظ با کثرت استعمال ہوتے ہیں جو کہ اخلاق سے عاری الفاظ ہیں ۔
معاشرہ جتنا بھی انحطاط پذیر ہو ہمیں اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ میں ترہیب و ترغیب و تبلیغ کرنے اور اصلاح کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے ۔
جو حضرات حسن اقبال چشتی کی فحش شاعری کی وکالت کر رہے ہیں ان کو چاہیے کہ پہلے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حسن اخلاق کی تعلیمات کو پڑھیں ۔امام نووی کی کتاب ریاض الصالحین سارے کی ساری حسن اخلاق کے کی احادیث سے مزین ہے ۔
تصوف یا احسان بنیادی عقائد اور عبادات کے بعد سارے کا سارا حسن اخلاق ہی تو ہے ۔صوفیائے اسلام کی زندگیاں حسن اخلاق کی چلتی پھرتی تصویریں ہیں ۔مجھے حیرت ہے کہ جس وصف کی وجہ سے مسلمان صوفیاء ماضی میں قبول عام تھےآ ج اسی کو عیب بنا دیا گیا ۔
پیشاب سے پلید کپڑا کبھی بھی پیشاب سے پاک نہیں ہوتا ۔ہمیشہ وہ پاک صاف پانی سے ہی پاک ہوتا ہے ۔
اس لیے لازم ہے کہ غلاظت سے بھر پور معاشرے کی تطہیر کا فریضہ ہم اللہ و رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صوفیائے کرام کے حسن اخلاق سے کریں اور نام نہاد غیرت کو ترک کر دیں۔کیونکہ اللہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے زیادہ غیرت مند دنیا میں کوئی ہو نہیں سکتا ۔
اسلامی معاشرہ جتنا بھی پست ہو جائے اس کی اصلاح فحش گوئی سے کبھی نہیں ہو سکتی اس کی اصلاح کے لیے ہمیشہ اخلاقیات نبوی کو اپنانا پڑے گا ۔
اس لیے حسن اقبال چشتی نامی شاعر و نعت خواں کے وکلاء کی بارگاہ میں میری درخواست ہے کہ اس کی فحش گوئی کو حوالہ نہ بنائیں ورنہ مذہب مہذب اہل سنت اور صوفیائے کرام ہی بد نام ہوں گے۔
ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ انجینئر محمد علی مرزا اور غامدی جیسے لوگ مذہب کے چہرے پر بدنما داغ ہیں لیکن ان کو چھوڑا جا رہا ہے ۔دوسری جانب حسن اقبال چشتی کو گرفتار کیا گیا ہے
اس بارے میں میری عرض یہ ہے کہ ہم صرف اس بنیاد پر حسن اقبال چشتی کی فحش گوئی کو قبول نہیں کر سکتے ۔ ہم صرف اس بنیاد پر حسن اقبال چشتی کی فحش گوئی کی وکالت نہیں کر سکتے ہم صرف اس بنیاد پر حسن اقبال چشتی کو استثنی نہیں دے سکتے کیونکہ انجینیئر محمد علی مرزا اور غامدی کھلے سانڈ کی طرح جو مرضی کہہ رہے ہیں جو مرضی کر رہے ہیں ۔اور ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں بلکہ بعض اطلاعات یہ ہیں کہ ان کو بڑے بڑوں کی سرپرستی حاصل ہے ۔اسلامی سوسائٹی کے اس تمام انحطاط ۔اور اقربا پروری کے باوجود ہمیں تب بھی نبوی حسن اخلاق کو اپنے لیے آلہ کار بنانا چاہیے اور نبوی حسن اخلاق سے ہی یہ جنگ جیتی جا سکتی ہے ۔یا کم از کم تبلیغ ترغیب و ترہیب کے میدان میں حسن اخلاق سے ارہی گفتگو کو قبول نہیں کیا جا سکتا ورنہ ہمارے بزرگان دین کی تربیت اور ان کے اسوہ پر حرف آئے گا ۔
اللہ تعالی ہمیں عقل سلیم عطا فرمائے ( آمین )
