آزاد عورتوں کی مشابہت اختیار نہ کرو
حضرت عمر نے ایک باندی کو پردہ کرتے ہوئے دیکھا تو اسے مارا اور فرمایا کہ آزاد عورتوں کی مشابہت اختیار نہ کرو۔
🔋علامہ طحطاوی (م 1231ھ) نور الایضاح کی شرح مراقی الفلاح کے حاشیہ میں باندی کا ستر بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ باندی کے لیے گھونگھٹ کرنا مکروہ ہے، لیکن یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے کے اعتبار سے ہے جہاں تک ہمارے زمانہ کی بات ہے تو باندی کے لیے گھونگھٹ کرنا ضروری ہے۔
🔋علامہ طحطاوی (م 1231ھ) کی یہ بات موید بالقرائن معلوم ہوتی ہے۔
1: عورتوں کا نماز پڑھنا مسجد میں کہ اس کو فتنہ کی بناء پہ ترک کردیاگیا، تو جب عورتوں کی مسجد میں نماز پر اصرار صحیح نہیں تو اس پر بھی اصرار کرنا درست نہ ہونا چاہیے۔
2: فقہ میں مسئلہ مذکور ہے کہ محارم کے جن اعضاء کا دیکھنا جائز ہے اگر ان کے دیکھنے سے شہوت پیدا ہوجائے تو ان کا بھی دیکھنا جائز نہ ہوگا اور اسی طرح فقہاء کہتے ہیں کہ اگر کوئی محرم غلط قسم کا ہو، تو اس سے پردہ کرنا چاہیے، تو جب محارم کے اعضاء کا شہوت کی بناء پر دیکھنا ناجائز ہے، تو نامحرم کو دیکھنا بطریقِ اولی ناجائز ہے، الحاصل یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حکم آزاد عورتوں سے تشبہ سے بچنے کے لیے دیا تھا، اور چونکہ آپ رضی اللہ عنہ کا زمانہ خیر القرون کا تھا، اور فتنہ کا اندیشہ نہ تھا، اور ہمارا زمانہ چونکہ فتن کا دور ہے، لہذا فقہ کے مشہور اصول ” کثیرا من الاحکام تختلف باختلاف الزمان‘‘ کہ بہت سے احکام زمانے کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں کی بناء پر بقول علامہ طحطاوی (م 1231ھ) باندی کا مکمل پردہ ہونا چاہیے۔