“جب رب کو بندے کی ادا پسند آ جائے”

دنیا کے ہنگاموں میں کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر گمنام ہوتے ہیں، نہ ان کے نام کسی اخبار میں آتے ہیں، نہ ان کی تصویریں سوشل میڈیا کی زینت بنتی ہیں، مگر ان کی نیت، خلوص اور دلی سچائی آسمانوں پر پہچانی جاتی ہے۔ ان کے معمولی افعال بھی بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بندے کا نام “عامر” ہے، جو لیبیا کا ایک عام سا باشندہ ہے، لیکن اس سال اس کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ اس کی غیرمعمولی قبولیت کا اعلان بن گیا۔

عامر نے حج کی نیت کی۔ یہ کوئی معمولی نیت نہیں، بلکہ وہ نیت ہے جس پر لبیک کا نغمہ ہر سال لاکھوں دلوں میں گونجتا ہے۔ وہ ایئرپورٹ پہنچا، سب کچھ تیار تھا، مگر سیکورٹی کلیئرنس نہ مل سکی۔ جہاز اڑ گیا، عامر وہیں رہ گیا۔ کہنے کو ایک معمولی واقعہ، مگر جس کے دل میں بیت اللہ کی زیارت کی تڑپ ہو، اس کے لیے یہ لمحہ اذیت سے کم نہیں۔

لیکن پھر وہ ہوا جو عام طور پر نہیں ہوتا۔ جہاز تھوڑی دیر میں فنی خرابی کے باعث واپس آ گیا۔ موقع تھا، عامر نے پھر کوشش کی۔ پھر انکار ہوا۔ جہاز پھر اُڑا، اور پھر لوٹا۔ عامر نے تیسری بار بھی ہمت نہ ہاری۔ لیکن اسے پھر روک دیا گیا۔ اب کی بار جب جہاز واپس آیا، تو پائلٹ نے وہ جملہ کہا جو شاید تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا: “جب تک عامر سوار نہ ہوگا، میں جہاز نہیں اُڑاؤں گا۔”

یہ ایک پائلٹ کا فیصلہ نہیں تھا یہ اس رب کی رضا کا مظہر تھا جو دلوں کے حال جانتا ہے، جو دیکھتا ہے کہ کون اس کے گھر کا مہمان بننے کے لیے کس قدر تڑپتا ہے۔ اس بار عامر کو اجازت ملی، وہ جہاز میں سوار ہوا، اور جہاز بخیروعافیت سعودی عرب کے ایئرپورٹ پر اُترا۔

اس واقعے میں ہمارے لیے کئی نشانیاں ہیں۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے خلوص کو کیسے آزماتا ہے، اور پھر کیسے اسے اپنے گھر تک بلاتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ رب کی راہ میں رکاوٹیں کبھی ناکامی نہیں ہوتیں، بلکہ امتحان ہوتی ہیں۔ کامیابی اُس کا مقدر بنتی ہے جو ان امتحانات میں صبر، استقامت اور توکل کا دامن تھامے رکھتا ہے۔

عامر کوئی مبلغ نہیں، نہ کوئی عالم، نہ کوئی مشہور شخصیت۔ وہ ہم میں سے ایک ہے، لیکن اس کی نیت ایسی تھی جو عرش پر جا پہنچی۔ اس کی طلب ایسی تھی جس نے زمین و آسمان کو ہلا دیا۔ جہاز کو تین بار لوٹنا پڑا، کیونکہ ایک بندہ ابھی اس میں سوار نہ ہو سکا تھا جسے اللہ کے دربار میں “حاجی” بننے کا پروانہ مل چکا تھا۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مقبولیت انعام نہیں، نصیب ہے۔ اور یہ نصیب دنیا کے پیمانوں سے نہیں، دل کی کیفیت سے ملتا ہے۔ ہوسکتا ہے آپ کے ساتھ بیٹھا کوئی شخص دنیا کے لیے عام ہو، مگر رب کے لیے خاص ہو۔ اس لیے کسی کو کم مت سمجھو، کسی کے حال پر ہنسی نہ اُڑاؤ۔ ہوسکتا ہے وہ رب کا محبوب ہو، اور تم اس کے کسی عمل کی نقل بھی نہ کر سکو۔

اللہ کی راہیں وسیع ہیں، مگر اس کی رضا تنگ راستوں میں چھپی ہوتی ہے—جہاں صرف وہی لوگ پہنچتے ہیں جن کے دل میں طلب ہو، اشک ہو، اور اخلاص ہو۔ عامر کی کہانی اسی کا ایک مظہر ہے۔

شاید ہم بھی ایک دن کسی ایسے لمحے میں اپنی کوئی “ادا” رب کو پسند آ جائے، اور ہماری معمولی سی نیت بھی ہمیں غیرمعمولی قرب کے دروازے تک پہنچا دے۔
✍محمد عباس الازہری