مشرقِ وسطیٰ ایک نئے طوفان کی زد میں
“مشرقِ وسطیٰ ایک نئے طوفان کی زد میں”
عقابی نگاہیں رکھنے والے تجزیہ کار برسوں سے اس دن کی پیش گوئی کر رہے تھے۔ مشرقِ وسطیٰ کے آسمان پر جو بادل برسوں سے منڈلا رہے تھے، بالآخر 15 جون 2025 کو وہ بجلی بن کر برسے۔ اسرائیل پر ایرانی ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا ایک مربوط، منظم اور وسیع حملہ اس پورے خطے کو نئے دوراہے پر لا کھڑا کر چکا ہے۔
پہلا منظر: حملے کی نوعیت اور دائرہ
ایران نے اسرائیل کے مختلف علاقوں پر ڈرونز (مسیرات) اور بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ کر دی۔ یہ حملہ صرف عسکری اڈوں تک محدود نہیں رہا بلکہ صنعتی و شہری مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ حملے کی خاص بات اس کی دو طرفہ حکمت عملی ہے:
ایک طرف سے ڈرونز نے ریڈار سسٹم اور فضائی دفاع کو مصروف کیا،
دوسری جانب میزائلوں نے گہرائی میں جا کر ٹھوس تباہی مچائی۔
اسرائیل کے دفاعی نظام “آئرن ڈوم” کو اس بار شدید چیلنج کا سامنا ہوا۔ کچھ میزائل روکے گئے، لیکن متعدد مقامات پر براہِ راست نقصان کی اطلاعات ہیں۔
—
دوسرا منظر: ایران کا پیغام اور حکمتِ عملی
ایران کا یہ حملہ محض ردِ عمل نہیں بلکہ ایک علامتی اور اسٹریٹجک پیغام ہے:
1. ایران اسرائیل کی طرف سے بار بار کی جانے والی شامی اور عراقی علاقوں میں بمباری سے تنگ آ چکا ہے۔
2. حالیہ مہینوں میں ایران کے جوہری سائنسدانوں اور عسکری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں نے تہران کو انتقامی مزاج کی طرف دھکیلا۔
3. ایران نے یہ واضح کر دیا کہ “دشمن کو صرف نیابتی محاذ پر نہیں، براہِ راست بھی جواب دیا جا سکتا ہے”۔
—
تیسرا منظر: اسرائیل کی بوکھلاہٹ اور ممکنہ ردعمل
اسرائیل کو ایسے بڑے پیمانے کے حملے کی توقع نہیں تھی۔ موجودہ حکومت، خاص طور پر بنیامین نیتن یاہو، داخلی دباؤ کا بھی شکار ہے۔ اسرائیل کی فوری ترجیحات میں شامل ہیں:
فضائی حملوں کے ذریعے ایرانی لانچنگ سائٹس کو تباہ کرنا۔
ایران کے حمایت یافتہ گروہوں (حزب اللہ، حشد الشعبی، حماس) کے خلاف جوابی کاروائیاں۔
اقوامِ متحدہ اور مغربی طاقتوں کو ایران پر عالمی پابندیاں لگانے پر آمادہ کرنا۔
—
چوتھا منظر: خلیجی ریاستیں اور عرب ردِعمل
ایران کا یہ اقدام خلیجی ممالک کو بھی ایک نئے خوف میں مبتلا کر چکا ہے۔ سعودی عرب، امارات اور بحرین جو اسرائیل کے قریب جا چکے تھے، اب دوہری پالیسی پر مجبور ہیں:
ایک طرف وہ ایران کی عسکری طاقت سے خائف ہیں،
دوسری طرف اسرائیل سے سفارتی تعلقات ان کے عوامی غصے کا سبب بن سکتے ہیں۔
—
پانچواں منظر: عالمی سیاست کی نئی بساط
یہ حملہ صرف ایک عسکری کاروائی نہیں بلکہ عالمی بساط پر نئی چال ہے۔ امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین ,چین اور روس جیسے بڑے کھلاڑی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں:
امریکہ اسرائیل کا ساتھ دے گا، لیکن مکمل جنگ میں کودنے سے گریز کرے گا۔
روس اور چین، ایران کی پوزیشن کو اقوام متحدہ میں توازن کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔
یورپ ایک طرف امن کا نعرہ لگائے گا، دوسری طرف اسلحہ فروخت کرے گا۔
—
چھٹا منظر: مسلم دنیا کہاں کھڑی ہے؟
سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اس سارے ہنگامے میں مسلم دنیا کہاں ہے؟
کیا وہ ایران کی مزاحمتی حکمتِ عملی کو سپورٹ کرے گی؟
یا اسرائیل کے ساتھ خاموش سفارتی ہم آہنگی اختیار کرے گی؟
کیا فلسطینی مسئلہ ایک بار پھر پسِ پشت ڈال دیا جائے گا؟
یہ وقت مسلمان ممالک کے لیے کڑا امتحان ہے کہ وہ سیاسی بصیرت اور دینی حمیت کے ساتھ فیصلے کریں۔
کیا یہ تیسری عالمی جنگ کی پیش خیمہ ہے؟
ایران کا اسرائیل پر یہ براہِ راست اور منظم حملہ بلاشبہ خطے کی تاریخ کا نیا موڑ ہے۔ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو یہ محض علاقائی تصادم نہیں بلکہ ایک عالمی جنگ میں بدل سکتا ہے۔
اب وقت ہے کہ اقوام عالم جنگ کے ایندھن بننے سے پہلے امن کی سچی بنیادوں پر مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔ ورنہ یہ شعلے پوری انسانیت کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں
✍محمد عباس الازہری