أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فِىۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ  ۞

ترجمہ:

لوح محفوظ میں ( مکتوب) ہے  ؏

البروج : ٢٢ میں فرمایا : لوح محفوظ میں ( مکتوب) ہے۔

لوح محفوظ کی تعریف میں اقوال مفسرین

قرآن مجید میں لوح میں مکتوب ہے اور شیاطین کی دسترس سے محفوظ ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : لوح سرخ یاقوت کی تختی ہے، اس کا بالائی حصہ عرش کے ساتھ بندھا ہوا ہے اور زیریں حصہ ایک فرشتہ کی گود میں ہے، اس کی کتابت نور ہے، اس کا قلم نور ہے، اللہ عزوجل ہر روز اس میں تین سو ساٹھ مرتبہ نظر فرماتا ہے، اور ہر نظر سے وہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے، ایک قوم کو بلند کرتا ہے اور دوسری قوم کو پست کردیتا ہے، یعنی کسی کو فقیر بنا دیتا ہے اور کسی کو غنی بنا دیتا ہے، کسی کو زندہ کرتا ہے اور کسی کو موت عطاء کرتا ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔

مقاتل نے کہا : لوح محفوظ عرش کی دائیں جانب ہے۔

کہا گیا ہے کہ لوح محفوظ میں مخلوق کی تمام اقسام اور ان کے متعلق تمام امور کا ذکر ہے، اس میں ان کی موت کا، حیات کا، ان کے رزق کا، ان کے اعمال کا اور ان میں نافذ ہونے والے امور کا ذکر ہے، اور ان کے اعمال کے نتائج کا ذکر ہے اور وہی ام الکتاب ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جو چیز لوح محفوظ میں لکھی، وہ یہ ہے : میں اللہ ہوں، میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، محمد میرے رسول ہیں، جس نے میرے فیصلہ کو تسلیم کرلیا اور میری نازل کی ہوئی مصیبت پر صبر کیا اور میری نعمتوں کا شکر ادا کیا، میں نے اس کو صدیق لکھا ہے اور اس کو صدیقین کے ساتھ اٹھائوں گا اور جس نے میرے فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا اور میری نازل کی ہوئی مصیبت پر صبر نہیں کیا اور میری نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا، وہ مجھے چھوڑ کر جس کو چاہے اپنا معبود بنا لے۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ٢٥٧۔ ٢٥٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام رازی نے کہا ہے کہ لوح سات آسمانوں کے اوپر ہے۔ یہاں فرمایا ہے : قرآن مجید لوح ِ محفوظ میں ہے اور ایک آیت میں فرمایا :

اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ۔ فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ ۔ (الواقعہ : ٧٨۔ ٧٧) یہ قرآن کریم ہے۔ جو پوشیدہ کتاب میں ہے۔

ہوسکتا ہے کہ لوح محفوظ اور کتاب مکنون سے مراد ایک ہی چیز ہو اور اس کے محفوظ ہونے کا یہ معنی ہو کہ فرشتوں کے غیر کے چھونے سے محفوظ ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :rnَا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ ۔ (الواقعہ : ٧٩) اس کو مطہرون کے سوا کوئی نہیں چھوتا۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ ملائکہ مقربین کے سوا یہ اوروں سے محفوظ ہے، کوئی دوسرا اس پر مطلع نہیں ہوسکتا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تغیر اور تبدل سے محفوظ ہو۔

بعض متکلمین نے کہا ہے کہ لوح وہ چیز ہے جو فرشتوں کے لیے ظاہر ہوتی ہے اور وہ اس کو پڑھتے ہیں اور جب کہ اس کی تایید میں احادیث اور آثار وارد ہیں تو ان کی تصدیق واجب ہے۔ ( تفسیر کبیر ج ١١ ص ١١٦، داراحیاء التراث، العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

سورۃ البروج کا اختتام

آج تیرہ شعبان ١٤٢٦ ھ/١٨ ستمبر ٢٠٠٥ ئ، بہ روز اتوار بعد از نماز عصر سورة بروج کی تفسیر مکمل ہوگئی۔

الحمد للہ رب العٰلمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیدنا محمد خاتم النبیین قائد المرسلین شفیع المذبین وعلیٰ آلہ و اصحابہ وازواجہ وذریاتہ اجمعین۔

القرآن – سورۃ نمبر 85 البروج آیت نمبر 22