وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍؕ – سورۃ نمبر 85 البروج آیت نمبر 3
sulemansubhani نے Wednesday، 16 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍؕ ۞
ترجمہ:
اور حاضر کی (قسم) اور جس کو حاضر کیا جائے گا.
البروج : ٣ میں فرمایا : اور حاضری ( قسم) اور جس کو حاضر کیا جائے گا۔
” شاھد “ اور ” مشھود “ کے مصادیق کا قرآن مجید، احادیث اور آثار سے تعین
اس آیت میں ” شاھد “ کا لفظ ہے، جس کا معنی ہے : حاضر اور ” مشھود “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : جس کو حاضر کیا گیا ہو۔
” شاھد “ اور ” مشھود “ کے مصداق میں اختلاف ہے، حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا : ” شاھد “ سے مراد جمعہ کا دن ہے اور ” مشھود “ سے مراد عرفہ کا دن ہے، حدیث میں ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس دن کا وعدہ کیا ہوا ہے وہ قیامت کا دن ہے اور ” یوم مشھود “ یوم عرفہ ہے اور ” شاھد “ یوم جمعہ ہے۔
( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٣٩، المستدرک ج ٢ ص ٥١٩)
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دن اور ہر رات شاہد ہے۔
حضرت معقل بن یسار (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو دن بھی بندے پر گزرتا ہے وہ اس سے ندا کر کے یہ کہتا ہے : اے ابن آدم ! میں نو پیدا شدہ ہوں اور آج تم مجھ میں جو بھی عمل کرو گے میں اسی پر شہید ( گواہ) ہوں، سو تم مجھ میں نیک کام کرو کل میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا، سو اگر میں گزر گیا تو پھر تم مجھے کبھی نہیں دیکھو گے اور رات بھی آنے کے بعد اسی طرح ندا کرتی ہے۔ ( حلیۃ الاولیاء ج ٢ ص ٣٠٣، دارالکتاب العربی، بیروت، ١٤٠٧ ھ، کنز العمال رقم الحدیث : ٤٣١٦١ )
حضرت ابن عباس (رض) ، حسن بصری اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” شاھد “ سے مراد اللہ تعالیٰ ہے، جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہے :
وکفی باللہ شھیدا۔ ( النسائ : ٧٩) اور اللہ کافی شاہد ( گواہ) ہے۔
قُلْ اَیُّ شَیْئٍ اَکْبَرُ شَھَادَۃًط قُلِ اللہ ُ شَھِیْدٌم بَیْنِیْ وَبَیْنَکُم ْقف (الانعام : ١٩)
آپ کہیے کہ سب سے بڑی شہادت کس کی ہے ؟ آپ کہیے : میرے اور تمہارے درمیان اللہ شہید ( گواہ) ہے۔
حضرت ابن عباس (رض) کا ایک اور قول یہ ہے کہ ” شاھد “ سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہے :
فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَھِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلَآئِ شَھِیْدًا۔ (النسائ : ٤١ )
(اے رسول مکرم ! ) اس وقت آپ کی کیا شان ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور ہم آپ کو ان سب پر شہید ( گواہ) بنائیں گے۔
یٰـٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّـآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا۔ (الاحزاب : ٤٥ )
اے نبی ! بیشک ہم نے آپ کو گواہ بنا کر بھیجا ہے اور ثواب کی بشارت دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا۔
وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ط (البقرہ : ١٤٣) اور رسول تم پر گواہ ہوں گے۔
ایک قول یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اپنی امتوں پر شاہد ہوں گے، اور ان کی امت مشہود ہوگی :
فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَھِیْدٍ (النسائ : ٤١)
اس وقت آپ کی کیا شان ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے۔
ایک قول یہ ہے کہ انسان کے اعضاء اس کے اوپر شاہد ہیں :
یَّوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (النور : ٢٤ )
جس دن ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور انکے پائوں گواہی دیں گے کہ وہ کیا کرتے رہے تھے۔
انسان کا مال بھی اس کے خلاف شاہد ہوگا، جیسا کہ اس حدیث میں ہے :
حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے اور وہ مسلمان کیسا اچھا ہے جو اس مال سے مسکین کو، یتیم کو اور مسافر کو دیتا ہے یا جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اس مال کو ناحق طریقہ سے لیتا ہے وہ اس شخص کی مثل ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا اور وہ مال اس شخص کے خلاف گواہ ہوگا۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٦٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٥٢، مصنف عبد الرزاق رقم الحدیث : ٦٤٢٧، مسند احمد ج ٣ ص ٩ )
بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کا دن مشہو رہے :
حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جمعہ کے دن مجھ پر بہ کثرت صلوٰۃ ( دورد) پڑھا کرو کیونکہ یہ دن مشہو رہے، اس دن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ ( سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٦٣٧)
ایک قول یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) شاہد ہیں اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشہور ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں تمام انبیاء (علیہم السلام) سے فرمایا :
قَالَ فَاشْہَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰہِدِیْنَ ۔ (آل عمران : ٨١)
فرمایا : پس تم سب ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر) گواہ ہو جائو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔
القرآن – سورۃ نمبر 85 البروج آیت نمبر 3