أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ الۡوَدُوۡدُۙ ۞

ترجمہ:

وہی بہت بخشنے والا اور بہت دوست رکھنے والا ہے۔

البروج : ١٤ میں فرمایا : وہی بہت بخشنے والا اور بہت دوست رکھنے والا ہے۔

معتزلہ نے کہا : اللہ تعالیٰ اس کے لیے غفور ہے، جو اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ پر توبہ کرے اور ہم اہل سنت کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مطلقاً غفو رہے، جو اپنے گناہوں پر توبہ کرے اس کو بھی بخش دیتا ہے اور جو توبہ نہ کرے اس کو بھی بخش دیتا ہے، کیونکہ اس نے فرمایا ہے :

اِنَّ اللہ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُج (النسائ : ٤٨ )

بے شک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم گناہ کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔

شرک سے کم گناہ کو بخشنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے توبہ کی قید نہیں لگائی، اس سے معلوم ہوا کہ شرک سے کم گناہ ( گناہ کبیرہ) کی بخشش عام ہے خواہ توبہ کے ساتھ ہو خواہ بغیر توبہ کے۔

امام رازی نے لکھا ہے : کیونکہ توبہ کرنے والے کی مغفرت واجب ہے اور جو کام واجب ہو اس پر مدح نہیں کی جاتی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے غفور ہونے کو بہ طور مدح ذکر فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہاں بہت بخشنے والے سے مراد ہے وہ بغیر توبہ کے بخشنے والا ہے۔ ( تفسیر کبیر ج ١١ ص ١١٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں ہے، توبہ کو قبول کرنا محض اس کا فعل و کرم ہے، اگر وہ کسی کی توبہ قبول نہ کرے تو اس سے کون باز پرس کرسکتا ہے، اس کا بخشش دینا بہر حال اس کا فضل ہے، خواہ وہ توبہ سے بخشے یا بغیر توبہ کے۔

” الودود “ کے معنی میں کئی اقوال ہیں، اکثر مفسرین نے کہا :” الودود “ کا معنی ہے : محبت کرنے والا، کلبی نے کہا : ” الودود “ کا معنی ہے : جو اپنے دوستوں کی مغفرت کر کے ان سے محبت کرے، ازہری نے کہا : اللہ کے نیک بندوں سے نہ محبت کرتا ہے اور یہ اس کا فضل ہے، قفال نے کہا : ” الودود “ کا معنی حلیم ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 85 البروج آیت نمبر 14