اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُؕ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰىؕ – سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 7
sulemansubhani نے Saturday، 19 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُؕ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰىؕ ۞
ترجمہ:
مگر جو اللہ چاہے، بیشک وہ ہر ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے
الاعلیٰ : ٧ میں فرمایا : مگر جو اللہ چاہے، بیشک وہ ہر ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔
بعض آیات کے بھولنے کے متعلق احادیث اور ان کی توجیہ
بعض احادیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز میں بعض الفاظ کو پڑھنا بھول گئے تھے۔
مسور بن یزید الاسدی بیان کرتے ہیں کہ میں ایک نماز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر تھا، آپ نے کچھ چھوڑ دیا اور اس کو نہیں پڑھا، ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے فلاں فلاں آیت چھوڑدی ہے، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے مجھ کو یاد کیوں نہیں دلایا ؟ حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک نماز پڑھائی، آپ کی قرأت میں آپ پر کچھ اشتباہ ہوگیا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے فرمایا : کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی تھی ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ نے فرمایا : پھر تم کو کس نے منع کیا ؟ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٠٧)
حضرت ابی بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز پڑھائی اور آپ نے قرآن مجید کی ایک سورت سے کچھ ترک کردیا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ابی نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا فلاں فلاں آیت منسوخ ہوگئی ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، حضرت ابی نے کہا : آپ نے اس آیت کو نہیں پڑھا تھا، آپ نے فرمایا : تم نے مجھے تلقین کیوں نہیں کی ( تم نے مجھے بروقت لقمہ کیوں نہیں دیا) ؟ (المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٦٤٠٨، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٣٢١٦)
مصنف کے نزدیک ان احادیث کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس آیت کو بھولے نہیں تھے، حتیٰ کہ یہ احادیث زیر تفسیر آیت کے معارض ہوں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بعض حکمتوں کو پورا کرنے کے لیے اس آیت کی قرأت کی طرف سے آپ کی توجہ ہٹا دی تھی اور وہ حکمت یہ ہے کہ اگر امام نماز میں قرأت کے درمیان کہیں بھول جائے تو مقتدی کو چاہیے کہ وہ امام کو لقمہ دے اور قرأت کے علاوہ اگر امام نماز کے کسی رکن کو بھول جائے تو اس کو لقمہ دینا جائز نہیں ہے حتیٰ کہ امام کو از خود یاد آجائے اور وہ اس رکن کو ادا کر کے سجدہ ادا کرے، الایہ کہ امام نماز ختم کرنے والا ہو تو پھر اس کو لقمہ دے دے، اس کی تفصیل فتح القدیر ج ١ ص ٤١٠، دارالکتب العلمیہ، بیروت اور فتاویٰ رضویہ ج ٣ ص ٤٢٥۔ ٤٢٢ لائل پور میں۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نہ بھولنے کے استثناء پر امام ماتریدی کی تقریر
امام ابو منصور محمد بن محمد متوفی ٣٣٣ ھ، الاعلیٰ : ٧ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مگر جو اللہ چاہے، بعض مفسرین نے کہا : اس کا معنی ہے : مگر اللہ جو چاہے گا، وہ آپ کو قرآن مجید سے بھلا دے گا، لیکن میری رائے میں یہ معنی صحیح نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پڑھانے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قرآن میں سے کچھ نہ بھولنا آپ کی نبوت کی دلیل ہے، اگر آپ قرآن میں سے کچھ بھول گئے تو یہ آپ کی نبوت میں طعن ہوگا، اور بعض احادیث میں یہ وارد ہے کہ آپ نماز میں ایک آیت بھول گئے تھے، لیکن یہ اخبار احاد ہیں جو علم یقینی کا فائدہ نہیں دیتیں، البتہ ان کے تقاضے پر عمل کرنا واجب ہے، ہمارے نزدیک اس آیت میں استثناء کے تین محامل ہیں :
(١) انبیاء (علیہم السلام) اپنی عصمت میں زلات ( العزشوں، اجتہادی خطاء، مکروہ تنزیہی یا خلاف ِ اولیٰ کا ارتکاب) سے مامون نہیں ہوتے کہ ان پر جو انعام کیا گیا ہے وہ ان سے زائل نہ ہوجائے، اگرچہ اب ہم پر ان کی عصمت ظاہر ہوچکی ہے۔
کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے دلائل کے جواب میں فرمایا :
اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللہ ِ وَقَدْ ھَدٰنِ ط وَلَآ اَخَافُ مَا تُشْرِکُوْنَ بِہٖٓ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ رَبِّیْ شَیْئًا ط (الانعام : ٨٠)
کیا تم اللہ کے معاملہ میں مجھ سے بحث کر رہے ہو حالانکہ وہ مجھے ( کامل) ہدایت دے چکا ہے، اور تم جن چیزوں کو اللہ کا شریک قرار دیتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا، ماسوا اس کے کہ میرا رب ہی کوئی چیز چاہے۔
مشرکین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ڈراتے تھے کہ اگر آپ نے ہمارے بتوں کی مخالفت نہیں چھوڑی تو وہ آپ پر کوئی آفت یا مصیبت نازل کردیں گے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : میں تمہاری دھمکیوں سے نہیں ڈرتا، تمہارے بت مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، ہاں ! اگر میرا رب ہی مجھ پر کوئی آفت نازل کرنا چاہے تو ایسا ہوسکتا ہے، پس جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے کلام میں یہ استثناء ہے، اسی طرح زیر تفسیر آیت میں استثناء ہے کہ عنقریب ہم آپ کو پڑھائیں گے، پھر آپ نہیں بھولیں گے، ہاں ! اگر اللہ تعالیٰ خود ہی چاہے تو ایسا ہی ہوسکتا ہے۔
اسی طرح حضرت شعیب (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا :
قَدِافْتَرَیْنَا عَلَی اللہ ِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰنَا اللہ ُ مِنْہَاط وَمَا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْہَآ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللہ ُ رَبُّنَا ط (الاعراف : ٨٩)
اگر ہم تمہارے دین میں آجائیں تو پھر ہم اللہ پر جھوٹی تہمت لگانے والے ہوں گے، اس کے بعد کہ اللہ نے ہمیں تمہارے دین سے بچا کر رکھا ہے، اور تمہارے دین میں داخل ہونا ہمارے لیے جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اللہ جو چاہے وہ ہمارا رب ہے۔
اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا :
کَذٰلِکَ کِدْنَا لِیُوْسُفَط مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللہ ُ ط (یوسف : ٧٦)
اسی طرح ہم نے یوسف کے لیے نفیہ تدبیر کی تھی، وہ اپنے بھائی کو بادشاہ کے قانون کی رو سے نہیں رکھ سکتے تھے، مگر یہ کہ اللہ چاہیے۔
جس طرح مذکور الصدر انبیاء (علیہم السلام) کے عام اور کلی معاملات میں عادۃً کوئی استثناء نہیں ہوسکتا تھا، مگر یہ کہ اللہ چاہے کیونکہ وہ ہر ممکن پر قادر ہے، اسی طرح جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پڑھا دیا تو آپ عادۃ اس کو نہیں بھول سکتے تھے، لیکن اگر اللہ چاہے تو ایسا ہوسکتا تھا، مگر ایسا ہوا نہیں جیسا کہ دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے معاملات میں ایسا نہیں ہوا، اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی قدرت اور سلطنت کے اظہار کے لیے ایسا فرمایا۔
(٢) اللہ تعالیٰ چاہے گا تو کسی حکم کو منسوخ فرما دے گا اور اس حکم کی آیت کو آپ کے دل سے بھلا دے گا اور یہاں حقیقت میں آپ کا کسی آیت کو بھولنا نہیں ہوگا بلکہ اس آیت کی تلاوت کو منسوخ کرنا ہوگا، جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے :
مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِھَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَآ اَوْ مِثْلِھَا ط (البقرہ : ١٠٦)
ہم جس آیت کو منسوخ کردیں یا اس کو بھلا دیں تو ہم اس سے بہتر یا اس جیسی اور آیت لے آتے ہیں۔
(٣) اس آیت کے استثناء میں آپ کو بھولنے سے مراد آپ کی توجہ ہٹ جانا ہے، اور توجہ کے بعد وہ آیت آپ کو یاد آجاتی ہے، جیسے قرآن کے پکے اور ماہر حافظ سے ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی کام میں مشغول ہو تو اس کی کسی آیت کی طرف توجہ نہیں رہتی لیکن جب وہ بہ غور توجہ کرتا ہے تو اس کو وہ آیت یاد آجاتی ہے اور ان تین جوابات سے اس آیت میں استثناء کا معنی واضح ہوجاتا ہے۔ ( تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٤٣٩، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٥ ھ)
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نہ بھولنے کے استثناء پر امام ابن جوزی کی تقریر
امام عبد الرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :
(١) حسن بصری اور قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ جس حکم کو منسوخ کرنا چاہے گا اس کی آیت کو آپ کے دل سے بھلا دے گا۔
(١) اس آیت میں استثناء اس آیت کی مثل ہے :
(١) حسن بصری اور قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ جس حکم کو منسوخ کرنا چاہے گا اس کی آیت کو آپ کے دل سے بھلا دے گا۔
(٢) اس آیت میں استثناء اس آیت کی مثل ہے :
فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَہُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَّشَہِیْقٌ۔ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآئَ رَبُّک َط (ھود : ١٠٦۔ ١٠٧)
بد بخت لوگ دوزخ میں رہیں گے، وہاں چیخیں گے اور چلائیں گے۔ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تک آسمان اور زمین برقرار رہیں، ماسوا اس وقت کے، جس وقت کو آپ کا رب چاہیے۔
یعنی اگر کسی وقت میں اللہ تعالیٰ چاہے گا تو کافروں کو دوزخ سے نکال لے گا لیکن اللہ تعالیٰ ایسا نہیں چاہے گا، اسی طرح اگر اللہ چاہے گا تو آپ قرآن مجید بھول جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ ایسا نہیں چاہے گا۔
(زاد المسیر ج ٩ ص ٩٠۔ ٩٨ المکتب الاسلامی، بیروت، ١٤٠٧ ھ)
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نہ بھولنے کے استثناء پر امام رازی کی تقریر
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
اس آیت میں مذکور استثناء کے متعلق دو قول ہیں، ایک قول یہ ہے کہ یہ استثناء حقیقت میں حاصل نہیں ہوا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بعد کوئی چی نہیں بھولے، اس اعتبار سے اس استثناء کے حسب ذیل محامل ہیں :
(١) اس آیت میں تبرک کے لیے ” الا ماشاء اللہ “ فرمایا ہے ( جیسے ہم انشاء اللہ کہتے ہیں) اس کی دلیل یہ آیت ہے :
وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْئٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا۔ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللہ ُ (الکہف : ٢٣۔ ٢٤ )
آپ کسی چیز کے متعلق یہ نہ کہیں کہ میں اس کو کل کرنے والا ہوں۔ مگر یہ کہ اللہ چاہے۔
گویا کہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا : میں تمام معلومات کو جاننے والا اور ہر چیز کے انجام کو تفصیلاً جاننے والا ہوں، اس کے باوجود میں مستقبل میں وقوع کی خبر نہیں دے رہا تو آپ کو اور آپ کی امت کو بہ طریق اولیٰ نہیں چاہیے کہ وہ مستقبل میں کسی کام کے وقوع کی خبر دیں۔
(٢) الفراء نے کہا : اس کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ جو چاہے گا سیدنا حمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھلا دے گا، مگر اس استثناء کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ اگر اللہ یہ ارادہ کرے کہ وہ آپ کو بھولنے والا بنا دے تو وہ اس پر قادر ہے، جیسے اس نے فرمایا ہے :
وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (بنی اسرائیل : ٨٦)
اور اگر ہم چاہیں تو وحی ہم نے آپ پر نازل کی ہے ہم اس کو سلب کرلیں۔
حالانکہ ہم کو قطعی یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں چاہا، اور اس آیت کا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے رب کی قدرت بتانا چاہتا ہے، حتیٰ کہ آپ یہ جان لیں کہ آپ کا نہ بھولنا آپ کے رب کے فضل اور اس کے احسان کے سبب سے ہے، آپ کی اپنی قوت حفظ کے سبب سے نہیں ہے۔
(٣) جب اللہ تعالیٰ نے اس استثناء کا ذکر فرمایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک یہ ہوسکتا تھا کہ آپ پر جو بھی وحی نازل ہوئی ہے، خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر، اس کو آپ بھول جائیں، اس لیے آپ ہر وقت اور ہرحال میں قرآن مجید کی طرف بھر پور توجہ رکھتے تھے۔
(٤) اس استثناء سے مقصود یہ ہے کہ آپ بالکل نہیں بھولیں گے، جیسے کوئی شخص اپنے ساتھی سے کہے : تم میرے مال میں حصہ دار ہو مگر جو اللہ چاہے، حالانکہ وہ استثناء کا بالکل ارادہ نہیں کرتا۔
دوسراقول یہ ہے کہ یہ استثناء حقیقت میں واقع ہوا ہے اور اس تقدیر پر حسب ِ ذیل محامل ہیں :
(١) زجاج نے کہا : اس آیت کا معنی ہے : مگر اللہ جو چاہے گا وہ آپ بھول جائیں گے، کیونکہ آپ بھول جاتے تھے، پھر اس کے بعد آپ اس کو یاد کرتے تھے، لیکن آپ دائما اور کلی طور پر کبھی کسی آیت کو نہیں بھولتے تھے۔ روایت ہے کہ آپ نماز میں ایک آیت کو پڑھنا بھول گئے اور حضرت ابی بن کعب نے یہ گمان کیا کہ وہ آیت منسوخ ہوگئی ہے، انہوں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : میں اس کو بھول گیا تھا۔
(٢) مقاتل نے کہا : اس کا معنی ہے : اللہ جو چاہے گا، آپ کو بھلا دے گا اور اس بھلانے سے مراد منسوخ کرنا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِھَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَآ اَوْ مِثْلِھَا ط (البقرہ : ١٠٦)
ہم جس آیت کو منسوخ کردیں یا اس کو بھلا دیں تو ہم اس سے بہتر یا اس جیسی لے آتے ہیں۔
اور اب آیت کا معنی یہ ہوگا : اللہ تعالیٰ جس آیت کو چاہے کہ تمام اوقات میں آپ کو وہ بھلا دے تو وہ آپ کو حکم دے گا کہ آپ اس کو نہ پڑھیں اور یہ آپ کے نسیان کا اور آپ کے سینہ سے اس آیت کے زوال کا سبب ہوگا۔
(٣) اس کا معنی یہ ہے کہ آپ قلیل اور نادر طور پر ان چیزوں کو بھولیں گے، جن کا تعلق سنن اور آداب سے ہے نہ ان چیزوں کو جن کا تعلق فرائض اور واجبات سے ہے کیونکہ ان کا بھولنا دین اور شریعت میں خلل کا موجب ہے۔
( تفسیر کبیر ج ٧ ص ١٣١، داراحیاء التراث، العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
اس کے بعد فرمایا : بیشک وہ ہر ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔
ظاہر سے مراد ہے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت جبریل کے ساتھ جو قرآن مجید پڑھتے تھے، اور پوشیدہ سے مراد ہے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تنہائی میں جو اپنے طور پر قرآن مجید پڑھتے رہتے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھولنے کے خطرہ سے قرآن مجید پڑھتے رہتے تھے، اللہ تعالیٰ نے بتایا : آپ خوف نہ کریں میں اس کا ضامن ہوں کہ آپ قرآن نہیں بھولیں گے، دوسرا محمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے، جس حکم پر عمل کرنا ان کے لیے دشوار ہوگا، وہ اس حکم کو منسوخ کر دے گا اور اس آیت کی قرأت آپ سے بھلا دے گا کیونکہ وہ ظاہر اور باطن کا جاننے والا ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 7