فَذَكِّرۡ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰىؕ – سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 9
sulemansubhani نے Saturday، 19 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَذَكِّرۡ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰىؕ ۞
ترجمہ:
سو آپ نصیحت کرتے رہیے اگر نصیحت فائدہ دے
الاعلیٰ : ٩ میں فرمایا : سو آپ نصیحت کرتے رہیے اگر نصیحت کرتے رہیے اگر نصیحت فائدہ دے۔
اس اعتراض کا جواب کہ آپ کا منصب تو ہر شخص کو نصیحت کرنا ہے نہ کہ صرف ان کو جن کو نصیحت نفع دے
اس سے پہلی آیت میں بتایا تھا کہ ہم نے آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے دین آسان کردیا ہے، اب اس پر یہ متفرع کیا ہے کہ جب دین آسان ہے تو لوگوں کو اس پر عمل کرنے کی دعوت دیں اور نصیحت کریں، اگر ان کو نصیحت فائدہ دے، اس پر یہ اعتراض ہے کہ آپ کا منصب تو یہ ہے کہ آپ لوگوں کو نصیحت فرماتے رہیں، خواہ ان کو فائدہ ہو یا نہ ہو، پھر یہ شرط کیوں عائد کی ہے کہ اگر ان کو نصیحت فائدہ دے ؟ اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں :
اگر کوئی حکم کسی شرط پر موقوف ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جب وہ شرط نہ پائی جائے تو اس حکم پر عمل نہ کیا جائے یعنی یہاں مفہوم مخالف معتبر نہیں ہے اور یہ چیز حسب ذیل آیات سے ظاہر ہے :
وَلَا تُکْرِھُوْا فَتَیٰـتِکُمْ عَلیَ الْبِغَآئِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا (النور : ٣٣)
اور تم اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو اگر وہ پاکیزہ رہنے کا ارادہ کریں۔
اس ممانعت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر تمہاری باندیوں پاکیزہ رہنے کا ارادہ نہ کریں تو پھر تم ان کو بدکاری پر مجبور کرو۔
فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِق صلے اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط (النسائ : ١٠١)
تم پر ( سفر میں) نمازوں کو قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں بہ شرطی کہ تم کو یہ خطرہ ہو کہ کفار ( دورانِ نماز) تم پر حملہ کردیں گے۔
اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم صرف حالت جنگ میں نمازوں کو قصر کرسکتے ہو اور حالت امن میں نمازوں کو قصر نہیں کرسکتے۔
وَ اِنْ کُنْتُمْ عَلٰی سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوْا کَاتِبًا فَرِھٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ ط (البقرہ : ٢٨٣)
اگر تم سفر میں ہو اور تم کو ( قرض کی دستاویز) لکھنے والا نہ ملے تو تم (قرض کے عوض رہن کو رکھ لیا کرو۔
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر قرض کی رقم کو لکھنے والا مل جائے تو پھر قرض کے عوض رہن رکھنا جائز نہیں ہے۔
ان مثالوں سے جہاں اعتراض مذکور کا جواب ہوا، وہاں یہ بھی واضح ہوگیا کہ فقاء احناف کا یہ مؤقف صحیح ہے کہ احکام شرعیہ میں مفہوم مخالف معتبر نہیں ہوتا۔
نصیحت کے نفع آواز ہونے کی شرط عائد کرنے کے فوائد
باقی یہ شرط جو لگائی گئی ہے کہ اگر نصیحت ان کو فائدہ دے تو ان کو نصیحت کریں، اس کے حسب ذیل فوائد ہیں :
(١) اگر کوئی مقصود کسی شرط کو عائد کرنے سے زیادہ بہتر طور پر پورا ہوتا تو شرط کا عائد کرنا مناسب ہے، لہٰذا جن کو نصیحت فائدہ دے، ان کو نصیحت کرنا زیادہ بہتر ہے۔
(٢) اس آیت میں صراحۃً یہ فرمایا ہے : ان کو نصیحت کریں جن کو نصیحت فائدہ دے، اور یہ حکم التزاماً اس کو بھی متضمن ہے کہ جن کو نصیحت فائدہ نہ دے، ان کو بھی نصیحت کریں تاکہ اتمام حجت ہوجائے اور آپ کے مطلقاً ھادی ہونے کا تقاضا پورا ہو۔
(٣) اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس امر پر مطلع فرمایا ہے کہ کفار کو آپ کی نصیحت فائدہ نہیں دے گی، وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ کی نصیحت کو قبول نہیں کریں گے۔
(٤) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار کو کئی بار نصیحت کی مگر انہوں نے آپ کی نصیحت کو قبول نہیں کیا حتیٰ کہ آپ بہت غم گین اور افسردہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لیے یہ آیت نازل فرمائی :
وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِجَبَّارٍقف فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ ۔ (ق : ٤٥ )
اور آپ ان کو جبراً مومن بنانے والے نہیں ہیں، لہٰذا آپ صرف ان ہی لوگوں کو قرآن مجید سے نصیحت کیجئے جو ( عذاب آخرت کی) وعید سے ڈرتے ہوں۔
یعنی عام لوگوں کو نصیحت کرنا ابتداء ً تو ضروری ہے لیکن بار بار اور پیہم صرف ان ہی لوگوں کو نصیحت کرنا ضروری ہے، جن کے حق میں نصیحت کرنا مفید ہو۔
ایک اور اعتراض یہ ہے کہ کسی حکم کے ساتھ کسی شرط کو عائد کرنا، اس کے حق میں تو درست ہے جس کو انجام کا پتہ نہ ہو، اللہ تعالیٰ تو علام الغیوب ہے، اس کو علم ہے کہ کفار کو یہ نصیحت فائدہ نہیں دے گی، پھر اس نے یہ شرط کیوں عائد کی کہ اگر نصیحت فائدہ دے، اس کو تو معلوم ہے کہ کفار کو نصیحت سے فائدہ ہوگا یا نہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ تبلیغ اور پیغام بھیجنے کا حکم اور چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کو عواقب امور اور مغیبات کا علم ہونا دوسری چیز ہے اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے پر مبنی نہیں ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) سے فرمایا :
فَقُوْلَا لَـہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی۔ (طہٰ : ٤٤ )
آپ دونوں فرعون کے ساتھ نرمی سے بات کریں، شاید وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈرے۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ کو خوب علم تھا اس فرعون نصیحت حاصل کرے گا نہ ڈرے گا۔
ایک سوال یہ ہے کہ کیا یہ امر منضبط ہے کہ آپ کتنی بار عام لوگوں کو نصیحت کریں تو آپ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائیں گے۔
امام رازی نے فرمایا : اس کا انضباط عرف پر مبنی ہے۔ ( تفسیر کبیر ج ١١ ص ١٣٣)
مصنف کے نزدیک عام تبلغ کا حکم اس وقت تک تھا، جب تک یہ آیت اوراق : ٤٥ نازل نہیں ہوئی تھی اور جب یہ آیات نازل ہوگئیں تو اب آپ پر صرف ان ہی لوگوں کے لیے نصیحت کرنا ضروری ہے، جن کو نصیحت فائدہ دے یا جو آخرت کی وعید سے ڈرتے ہوں۔
القرآن – سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 9