أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡۙ‏ ۞

ترجمہ:

بیشک ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے

الغاشیہ : ٢٦۔ ٢٥ میں فرمایا : بیشک ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے۔ پھر بیشک ہم پر ہی ان کا حساب ہے۔

کفار اور مشرکین کو عذاب دینا کیوں ضروری ہے ؟

ان آیتوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ ہرچند کہ مشرکین مکہ آپ کی نبوت کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں، آپ کا مذاق اڑاتے ہیں، آپ پر آوازیں کستے ہیں اور آپ پر طعن اور تشنیع کرتے ہیں اور آپ کو طرح طرح کی ایذاء پہنچاتے ہیں لیکن بالآخر یہ ہماری طرف لوٹ کر آئیں گے، پھر ہم ان کا حساب لیں گے اور ان کو قرار واقعی سزا دیں گے۔

ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ کفار سے حساب لینا اور ان کو سزا دینا، اللہ تعالیٰ کا حق ہے، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ مالک اپنا حق وصول کرے، مالک اپنے حق کو معاف بھی تو کرسکتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ سزا کو معاف کرنا صرف مؤمنین کے ساتھ خاص ہے، اللہ تعالیٰ آخرت میں کفار اور مشرکین کی سزا کو نہ معاف فرمائے گا اور نہ ان کی سزا میں تخفیف فرمائے گا، کیونکہ دنیا میں وہ ان کو دائمی سزا کی خبر دے چکا ہے، اب اگر اس سزا کے خلاف ہو تو اس کی خبر کذب اور جھوٹ ہوگی اور کذب اور جھوٹ اللہ تعالیٰ پر محال ہے، اور کفار اور مشرکین کی سزا میں تخفیف ہونا یا ان کی سزا کا ساقط ہونا بھی محال ہے۔

نیز کفار سے حساب لینا اور ان کو عذاب دینا اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے اور اس میں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) کی عزت اور وجاہت کو ظاہر فرمائے گا کہ جن کافروں اور مشرکوں نے دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) کے پیغام کو مسترد کردیا تھا اور ان کی نبوت اور رسالت کی تکذیب کی تھی، وہ آج کس قدر ذلت اور خواری کے عذاب میں مبتلا ہیں، سو قیامت کے دن اللہ سبحانہٗ کفار کو عذاب میں مبتلا کر کے انبیاء (علیہم السلام) کے مقام کو بلند فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ ان کافروں اور مشرکوں سے انتقام لے گا، جو دنیا میں اپنے خود ساختہ خدائوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات اور اس کے استحقاق عبادت میں شریک کرتے رہے تھے۔

رب العٰلمین ! ہم کو اس حساب اور عذاب سے محفوظ رکھنا اور ہمیں اپنے محبوب سیدنا محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے بلا حساب و کتاب جنت الفردوس عطاء فرما دینا، ہم اس انعام کے لائق تو نہیں لیکن آپ بہت کریم ہیں اور یہ آپ کے کرم سے کچھ بعید نہیں ہے۔ آمین یا رب العٰلمین۔

القرآن – سورۃ نمبر 88 الغاشية آیت نمبر 25