فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَؕ – سورۃ نمبر 88 الغاشية آیت نمبر 24
sulemansubhani نے Wednesday، 23 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَؕ ۞
ترجمہ:
تو اللہ اس کو بہت بڑا عذاب دے گا
الغاشیہ : ٢٤۔ ٢٣ میں فرمایا : مگر جو حق سے پشت پھیرے اور کفر کرے۔ تو اللہ اس کو بہت بڑا عذاب دے گا۔
بہت بڑے عذاب کا محمل
اگر آپ کی پرزور تبلیغ کے باوجود یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو آپ سے ان کے ایمان نہ لانے پر سوال نہیں کیا جائے گا لیکن جو ان میں سے پشت پھیرے گا تو اللہ سبحانہ اس کو بہت بڑا عذاب دے گا اور وہ دوزخ کا عذاب ہے، دوزخ کے عذاب کو بہت بڑا عذاب اس وجہ سے فرمایا ہے کہ کفر کا عذاب مجرو فسق کے عذاب سے بہت بڑا ہے، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا :
وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (السجدہ : ٢١ )
ہم ان کو ( دنیا میں) بڑے عذاب کے علاوہ ضرور کم درجہ کا عذاب چکھائیں گے تاکہ وہ (کفر سے) پلٹ آئیں۔
بڑے عذاب سے مراد دوزخ کا عذاب ہے اور اس سے کم درجہ کے عذاب سے مراد ہے : دنیا کا عذاب، جیسے دنیا میں جنگ کے اندر شکست سے دو چار ہونا، سمندر طوفان اور دریائوں میں سیلاب آنا، زلزلے، قحط اور موذی بیماریوں میں مبتلا ہونا۔
دوزخ کے عذاب کو بہت بڑا عذاب کہنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے مراد ہے : دوزخ کی آگ کا سب سے نچلا طبقہ۔
القرآن – سورۃ نمبر 88 الغاشية آیت نمبر 24