وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ – سورۃ نمبر 88 الغاشية آیت نمبر 20
sulemansubhani نے Wednesday، 23 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ ۞
ترجمہ:
اور زمین کو کہ وہ کیسے پھیلائی گئی ہے
الغاشیہ : ٢٠ میں فرمایا : اور زمین کو کہ وہ کیسے پھیلائی گئی ہے۔
ان مذکور نشانیوں میں باہمی مناسبت
اللہ تعالیٰ نے اپنی تخلیق اور اپنی توحید پر دلائل کا ذکر کرتے ہوئے اونٹ، آسمان، پہاڑوں اور زمین کا ذکر فرمایا ہے اور چاروں کے ذکر میں کوئی مناسبت ضروری ہے۔
اس مناسبت کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن مجید لغت ِ عرب پر نازل ہوا ہے اور عرب عموماً صحرائوں میں سفر کرتے تھے اور صحرا میں بالکل تنہاء ہوتے تھے اور جب انسان تنہاء ہوتا ہے تو وہ ارد گرد کی چیزوں پر غور و فکر کرتا ہے، سب سے پہلے وہ اپنی سواری اونٹ کی طرف دیکھتے تو ان کو اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عجائب اور اسرار دکھائی دیتے، وہ اس سے حاصل ہونے والے فوائد اور منافع پر غور کرتے اور جب وہ اوپر نظر اٹھاتے تو ان کو آسمان کے سوا کچھ نظر نہ آتا اور وہ اس بےستون وسیع و عریض بلند نیکی چھت کر دیکھ کر حیران ہوتے، اور جب وہ اپنے دائیں اور بائیں دیکھتے تو ان کو پہاڑ نظر آتے اور جب وہ اپنے نیچے دیکھتے تو ان کو پھیلی ہوئی زمین نظر آتی اور یہی وہ موقع تھا کہ جب وہ ان چیزوں کے اسرار اور منافع پر غور و فکر کرتے تو ان پر لازم تھا کہ وہ اس غور و فکر کے بعد اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اس کی توحید پر ایمان لے آتے، سو اللہ تعالیٰ نے انسان کے غور و فکر کرنے کے لیے ان چاروں چیزوں کا ایک ساتھ ذکر فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے خوب صورت چیزوں سے اپنی تخلیق اور توحید پر کیوں استدلال نہیں فرمایا ؟
اللہ تعالیٰ نے انسان کے حسن و جمال اور سونے اور چاندی سے اپنی تخلیق اور توحید پر استدلال نہیں کیا کیونکہ جب انسان کسی حسین و جمیل خاتون کو یا کسی خوب صورت مرد کو دیکھتا ہے تو اس کی توجہ اس کے فوائد اور منافع اور اس کے اسرار اور اس کی حکمتوں کی طرف نہیں ہوتی ہے بلکہ وہ اس کے حسن سے متاثر ہو کر اپنی جنسی تسکین کے متعلق سوچنے لگتا ہے اور اس پر شہوانی جذبات غالب آجاتے ہیں، اسی طرح جب وہ سونے چاندی کی دھاتوں اور لہلہاتے ہوئے سرسبز اور شاداب باغات کی طرف دیکھتا ہے تو وہ سونے چاندی کے زیورات بنانے کے متعلق سوچتا ہے اور باغوں میں خوش ذائقہ اور خوش رنگ اور خوش بو دار پھلوں کو دیکھ کر ان کو کھانے کے متعلق تجویزیں بناتا ہے اور اس کو یہ خیال نہیں آتا کہ اس کے خالق نے ان چیزوں میں کیسے اسرار اور حکمتیں رکھی ہوئی ہیں، اس کے بر خلاف جب انسان اونٹ، آسمان، پہاڑوں اور زمین کو دیکھتا ہے تو اس کے دل میں شہوانی خیالات نہیں آتے، وہ اونٹ کو دیکھ کر سوچتا ہے کہ اس بہ ظاہر بےڈھنگے جانور میں کتنے منافع اور فوائد ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے اس صحرائی جہاز کو پیدا نہ کیا ہوتا تو وہ اس بےآب وگیاہ صحراکو کیسے عبور کرتا، پھر اس کی نظر آسمان کی طرف اٹھتی ہے تو وہ اس کی وسعت پر حیران ہوتا ہے، پہاڑوں کی ہیبت سے متاثرہوتا ہے، اس پھیلی ہوئی زمین کی وسعتوں پر غور کرتا ہے، غرض ان چاروں چیزوں سے اسے اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور توحید کے آثار نظر آتے ہیں۔
القرآن – سورۃ نمبر 88 الغاشية آیت نمبر 20