أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وُجُوۡهٌ يَّوۡمَئِذٍ نَّاعِمَةٌ ۞

ترجمہ:

بہت چہرے اس دن خوش و خرم ہوں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بہت چہرے اس دن خوش و خرم ہوں گے۔ اپنے نیک اعمال پر شاداں ہوں گے۔ بلند جنت میں۔ جس میں کوئی شخص بےہودہ بات نہیں سنے گا۔ اس میں بہتے ہوئے چشمے ہوں گے۔ اس میں بلند مسندیں ہوں گی۔ اور ترتیب سے رکھے ہوئے جام ہوں گے۔ اور صف بہ صف گائو تکیے رکھے ہوں گے۔ اور بہترین فرش بچھے ہوں گے۔

(الغاشیہ : ١٦۔ ٨)

مؤمنین کا آخرت میں اجر وثواب اور مشکل الفاظ کے معانی

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آخرت میں کفار کے عذاب کی شدتوں کا ذکر فرمایا اور اب قرآن مجید کے اسلوب کے مطابق آخرت میں مؤمنین کے ثواب کی فرحتوں اور نعمتوں کا ذکر فرما رہا ہے۔

الغاشیہ : ٨ میں بتایا کہ مؤمنین کے چہرے بہت بارونق اور حسین ہوں گے، جیسے اس آیت میں ہے :

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِہِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْمِ ۔ (المطففین : ٢٤) تم ان کے چہروں میں نعمتوں کی تر و تازگی اور رونق کو پہچان لو گے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 88 الغاشية آیت نمبر 8