کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 21 رکوع 9 سورہ الروم آیت نمبر 54 تا 60
اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةًؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُۚ-وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ(۵۴)
اللہ ہے جس نے تمہیں ابتدا میں کمزور بنایا (ف۱۱۶) پھر تمہیں ناتوانی سے طاقت بخشی (ف۱۱۷) پھر قوت کے بعد (ف۱۱۸) کمزوری اور بڑھاپا دیا بناتا ہے جو چاہے (ف۱۱۹) اور وہی علم و قدرت والا ہے
(ف116)
اس میں انسان کے احوال کی طرف اشارہ ہے کہ پہلے وہ ماں کے پیٹ میں جنین تھا پھر بچّہ ہو کر پیدا ہوا ، شیر خوار رہا یہ احوال نہایت ضعف کے ہیں ۔
(ف117)
یعنی بچپن کے ضعف کے بعد جوانی کی قوّت عطا فرمائی ۔
(ف118)
یعنی جوانی کی قوّت کے بعد ۔
(ف119)
ضعف اور قوّت اور جوانی اور بڑھاپا یہ سب اللہ کے پیدا کئے سے ہیں ۔
وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ﳔ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍؕ-كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ(۵۵)
اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم قسم کھائیں گے کہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی (ف۱۲۰) وہ ایسے ہی اوندھے جاتے تھے (ف۱۲۱)
(ف120)
یعنی آخرت کو دیکھ کر اس کو دنیا یا قبر میں رہنے کی مدّت بہت تھوڑی معلوم ہو گی اس لئے وہ اس مدّت کو ایک گھڑی سے تعبیرکریں گے ۔
(ف121)
یعنی ایسے ہی دنیا میں غلط اور باطل باتوں پر جمتے اور حق سے پھرتے تھے اور بَعث کا انکار کرتے تھے جیسے کہ اب قبر یا دنیا میں ٹھہرنے کی مدّت کو قَسم کھا کر ایک گھڑی بتا رہے ہیں ان کی اس قَسم سے اللہ تعالٰی انہیں تمام اہلِ محشر کے سامنے رسوا کرے گا اور سب دیکھیں گے کہ ایسے مجمعِ عام میں قَسم کھا کر ایسا صریح جھوٹ بول رہے ہیں ۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ٘-فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۵۶)
اور بولے وہ جن کو علم اور ایمان ملا (ف۱۲۲) بےشک تم رہے اللہ کے لکھے ہوئے میں (ف۱۲۳) اُٹھنے کے دن تک تو یہ ہے وہ دن اُٹھنے کا (ف۱۲۴) لیکن تم نہ جانتے تھے (ف۱۲۵)
(ف122)
یعنی انبیاء اور ملائکہ اور مومنین ان کا رد کریں گے اور فرمائیں گے کہ تم جھوٹ کہتے ہو ۔
(ف123)
یعنی جو اللہ تعالٰی نے اپنے سابق علم میں لوحِ محفوظ میں لکھا اسی کے مطابق تم قبروں میں رہے ۔
(ف124)
جس کے تم دنیا میں منکِر تھے ۔
(ف125)
دنیا میں کہ وہ حق ہے ضرور واقع ہو گا ، اب تم نے جانا کہ وہ دن آ گیا اور اس کا آنا حق تھا تو اس وقت کا جاننا تمہیں نفع نہ دے گا جیسا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔
فَیَوْمَىٕذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ(۵۷)
تو اُس دن ظالموں کو نفع نہ دے گی اُن کی معذرت اور نہ ان سے کوئی راضی کرنا مانگے (ف۱۲۶)
(ف126)
یعنی نہ ان سے یہ کہا جائے کہ توبہ کر کے اپنے ربّ کو راضی کرو جیسا کہ دنیا میں ان سے توبہ طلب کی جاتی تھی ۔
وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍؕ-وَ لَىٕنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ(۵۸)
اور بےشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان فرمائی (ف۱۲۷) اور اگر تم ان کے پاس کوئی نشانی لاؤ تو ضرور کافر کہیں گے تم تو نہیں مگر باطل پر
(ف127)
تاکہ انہیں تنبیہ ہو اور انذار اپنے کمال کو پہنچے لیکن انہوں نے اپنی سیاہ باطنی اور سخت دلی کے باعث کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ جب کوئی آیتِ قرآن آئی اس کو جھٹلا دیا اور اس کا انکار کیا ۔
كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ(۵۹)
یوں ہی مُہر کردیتا ہے اللہ جاہلوں کے دلوں پر (ف۱۲۸)
(ف128)
جنہیں جانتا ہے کہ وہ گمراہی اختیار کریں گے اور حق والوں کو باطل پر بتائیں گے ۔
فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠(۶۰)
تو صبر کرو (ف۱۲۹) بےشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۱۳۰) اور تمہیں سبک نہ کردیں وہ جو یقین نہیں رکھتے (ف۱۳۱)
(ف129)
ان کی ایذا و عداوت پر ۔
(ف130)
آپ کی مدد فرمانے کا اور دینِ اسلام کو تمام دینوں پر غالب کرنے کا ۔
(ف131)
یعنی یہ لوگ جنہیں آخرت کا یقین نہیں ہے اور بَعث و حساب کے منکِر ہیں ان کی شدّتیں اور ان کے انکار اور ان کے نالائق حرکات آپ کے لئے طیش اور قلق کا باعث نہ ہوں اور ایسا نہ ہو کہ آپ ان کے حق میں عذاب کی دعا کرنے میں جلدی فرمائیں ۔