وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِۚ – سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 4
sulemansubhani نے Thursday، 24 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِۚ ۞
ترجمہ:
اور رات کی ( قسم) جب وہ گزرے
الفجر : ٤ میں فرمایا : اور رات کی ( قسم) جب وہ گزرے۔
رات کی قسم کھانے کی وجوہ
اللہ تعالیٰ نے رات کی قسم اور بھی کئی آیات میں کھائی ہے :
والیل اذا دبر۔ ( المدثر : ٣٣) اور رات کی قسم جب وہ پیٹھ پھیرے۔
والیل اذا عسعس۔ ( التکویر : ١٧) اور رات کی قسم جب وہ جانے لگے۔
اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ اس رات سے مراد کوئی مخصوص رات نہیں ہے کیونکہ رات اور دن کے متواتر آنے جانے میں اور ان کی مقدار کے مختلف ہونے میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر بہت عظیم نعمت ہے، اس لیے رات کی قسم کھانا ممکن ہے اور اس میں اس پر تنبیہ ہے کہ رات اور دن کا متواتر ایک دوسرے کے بعد آنا اللہ تعالیٰ کی عظیم تدبیر پر مبنی ہے۔
مقاتل بن سلیمان نے کہا : اس سے مراد عید الاضحی کی رات ہے۔ ( تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص ٤٨١)
اور امام رازی نے مقاتل بن حیان سے نقل کیا کہ اس سے مراد مزدلفہ کی رات ہے، کیونکہ اس رات کے اول میں عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانگی ہوتی ہے اور اس کے آخر میں بھی گزرنا ہوتا ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کمزور لوگوں کو اس رات میں پہلے بھیجے دیتے تھے۔ اس سلسلہ میں یہ حدیث ہے :
سالم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) اپنے گھر کے کم زور افراد کو پہلے بھیج دیتے تھے اور وہ مزدلفہ میں رات کو مشعر حرام کے پاس وقوف کرتے تھے، پھر وہ جب تک چاہتے اللہ کا ذکر کرتے، حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی رخصت دی ہے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٦٧٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٢٩٥)
القرآن – سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 4