أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَيَالٍ عَشۡرٍۙ ۞

ترجمہ:

اور دس راتوں کی

” ولیال عشر “ سے مراد ذوالحج کے دس دن اور ان کی فضلیت میں احادیث

دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کے دس دن ہیں، کیونکہ ان دنوں میں مسلمان حج کے افعال میں مشغول ہوتے ہیں اور ان میں دنوں میں نیک اعمال کی فضلیت میں بہ کثرت احادیث ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جن دس راتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، اس سے مراد ذوالحجہ کی دس راتیں ہیں اور جفت سے مراد قربانی کا دن ہے اور طاق سے مراد یوم عرفہ ہے۔ ( شعب الایمان ج ٢ ص ٢١٥، فضائل الاوقات ص ٣٤٠ )

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” عشر ( لیال “ قربانی کے ( مہینہ کے) دس دن ہیں اور ” الوتر “ یوم ِ عرفہ ہے اور ” الشفع “ یوم النحر ہے۔ ( مسند احمد ج ٣ ص ٣٢٨، المستدرک ج ٤ ص ٢٢٠ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ذوالحجۃ کے دس دنوں میں نیک عمل کرنے سے زیادہ اور کسی دن میں نیک عمل کرنا اللہ کو محبوب نہیں ہے، مسلمانوں نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں، ماسوا اس کے کہ کوئی شخص جہاد کے لیے جائے اور اس کی جان بھی شہید ہوجائے اور اس راہ میں اس کا مال بھی خرچ ہوجائے اور اس کی جان اور مال میں سے کوئی چیز نہ لوٹے۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٩٦٩، مسند احمد ج ١ ص ٢٢٤۔ ج ٣ ص ٤١١، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٤٤٩، سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٣٠٥)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کو نیک عمل کرنا جتنا پسند ہے اور جتنا اس کے نزدیک ان دنوں میں نیک عمل افضل ہے اور کسی دن میں نہیں ہے، تم ان دنوں میں بہ کثرت ” لا الہ الا اللہ “ پڑھو ” اللہ اکبر “ پڑھو، کیونکہ یہ تہلیل، تکبیر اور اللہ کے ذکر کے ایام ہیں اور ان ایام میں نیک عمل کا سات سو گنا اجر دیا جاتا ہے۔ ( شعب الایمان ج ٢ ص ١٦، اس حدیث کی سند ضعیف ہے)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ذوالحجۃ کے دس دنوں سے زیادہ کسی اور دن میں عبات کرنا اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند نہیں ہے، ان میں سے ہر دن میں روزہ رکھنا ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور اس کی راتوں میں سے ہر رات میں قیام کرنا لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے۔

( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٧٥٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٧٢٨، شرح السنۃ رقم الحدیث : ١٢٦ )

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے ان دس دنوں کے علاوہ کبھی دس دن ( نفلی) روزے رکھے ہوئے نہیں دیکھا۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٤٣٩، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٧٥٦، سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٨٧٢، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٥٩٩، مسند احمدج ٦ ص ١٢٤۔ ٢٤ )

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان دس دنوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی دن زیادہ عظیم اور زیادہ محبوب نہیں ہے، سو تم ان دس دنوں میں زیادہ سے زیادہ ” لا الہ الا اللہ اللہ اکبر “ اور ” الحمدللہ “ پڑھو۔ ( مسند احمد ج ٢ ص ١٢١۔ ٧٥، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٤ ص ٣٣٢، اس حدیث کو سند ضعیف ہے)

ان احادیث میں ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں جو اللہ تعالیٰ کے ذکر کرنے کی فضلیت ہے، اس کی تائید اس آیت میں ہے :

وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللہ ِ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ (الحج : ٢٨) اور ان مقررہ دنوں میں اللہ کے نام کا ذکر کریں۔

” ایام معلومات “ سے مراد، ذبح کے ایام یعنی ایام تشریق ہیں جو یوم النحر اور اس کے بعد دو دن ہیں یعنی ١٠، ١١، ١٢، ذوالحجہ، عام طور پر ” ایام معلومات “ سے عشرہ ذوالحجہ اور ” ایام معدودات “ سے ایام تشریق مراد لیے جاتے ہیں۔

وَاذْکُرُوا اللہ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰت ٍط (البقرہ : ٢٠٣) اور ان گنتی کے چند دنوں میں اللہ کا ذکر کرو۔

اس سے مراد یہ ہے کہ ایام تشریق میں بہ آواز بلند تکبیرات پڑھی جائیں، یعنی ” اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر واللہ الحمد “۔

” ولیال عشر “ سے مراد محرم کے دس دن اور ان کی فضلیت میں احادیث

دس راتوں کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد محرم کے ابتدائی دس دن ہیں، جن میں دس محرم یوم عاشورا بھی شامل ہے اور ان دونوں کی فضلیت میں بھی احادیث ہیں :

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے بتایئے کہ اگر میں رمضان کے بعد کسی مہینہ میں روزے رکھوں تو کس مہینہ میں روزے رکھوں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم رمضان کے بعد کسی مہینہ میں روزے رکھنا چاہتے ہو تو محرم کے مہینہ میں روزے رکھو کیونکہ وہ اللہ کا مہینہ ہے، اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور وہ اس مہینہ میں دوسروں کی توبہ بھی قبول فرمائے گا۔

( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٧٤١، مسند احمد ج ١ ص ١٥٥، ١٥٤ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان سے یوم عاشورا ( دس محرم) کے روزے کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوم عاشورا کے سوا روزہ رکھنے کے لیے کسی ایسے دن کو تلاش کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس کی اور دونوں پر فضلیت ہو اور یوم عاشورا کے علاوہ رمضان کا مہینہ۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠٠٦، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٢ ص ٢٠٤)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عاشورا کے دن انبیاء سابقین روزہ رکھتے تھے، سو تم بھی اس دروزہ رکھا کرو۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ ج ٢ ص ٤٧١، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم الہجری منکر الحدیث ہے۔ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے تو آپ نے دیکھا کہ یہودی یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں، پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا : تم کیوں اس دن روزہ رکھتے ہو ؟ انہوں نے کہا : اس دن اللہ عزوجل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور بنی اسرائیل کو غرق ہونے سے نجات دی تھی اور فرعون کو اور اس کی قوم کو غرق کردیا تھا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دن شکر کا روزہ رکھا، پس ہم بھی اس دن کا روہ رکھتے ہیں، سب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم تمہاری بہ نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زیادہ حق دار اور زیادہ قریب ہیں، پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن کا روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠٠٤، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٤٤٤، سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٤٤٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٧٣٤)

عاشوراء کی فضلیت میں احادیث

امام احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں :

حضرت عمر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ عزوجل نے ہمیں عاشوراء کے دن فضلیت دی ہے، آپ نے فرمایا : ہاں ! اللہ عزوجل نے آسمانوں کو یوم ِ عاشوراء میں پیدا کیا اور اسی طرح زمینوں کو بھی اور عرش کو یوم ِ عاشوراء میں پیدا کیا اور اسی طرح کرسی کو بھی اور پہاڑوں کو یوم عاشوراء میں پیدا کیا اور اسی طرح ستاروں کو بھی، اور قلم کو یوم ِ عاشوراء میں پیدا کیا : اور اسی طرح لوح کو بھی، اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کو یوم عاشوراء میں پیدا کیا اور فرشتوں کو یوم عاشوراء میں پیدا کیا اور یوم عاشوراء میں حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت میں ٹھہرایا، حضرت ابراہیم خلیل الرحمان یوم عاشوراء میں پیدا ہوئے اور یوم عاشوراء میں ان کو اللہ نے آگ سے نجات دی، اور یوم عاشوراء میں اللہ نے ان سے فدیہ قبول فرمایا، اور یوم عاشوراء میں فرعون کو غرق کردیا اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے یوم عاشوراء میں آسمان پر اٹھا لیا، حضرت دائود (علیہ السلام) کی مغفرت یوم ِعاشوراء میں ہوئی، اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو یوم ِ عاشوراء میں حکومت دی گئی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت یوم عاشوراء میں ہوئی ( صحیح روایت یہ ہے کہ آپ کی ولادت بارہ ربیع الاول کو ہوئی ہے) رب عزوجل عرش پر یوم ِ عاشوراء میں مستوی ہوا اور قیامت کا دن بھی یوم عاشوراء میں ہوگا۔ (فضائل الاوقات ص ٤٤١، مکتبہ المنارۃ، مکہ مکرمہ، ١٤١٠ ھ)

امام ابن جوزی نے اس حدیث کو کتاب الموضوعات ج ٢ ص ٢٠٢ میں سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اس کی سند میں محمد بن عبد اللہ بن فھزار از حبیب بن ابی حبیب ہے اور کہا کہ یہ حدیث بلا شک موضوع ہے، حافظ سیوطی نے اس حدیث کو درج کر کے کہا : اس کی سند میں آفت حبیب ہے۔

( اللئالی المصنوعہ ج ٢ ص ٩٢، علامہ بن محمد الکنانی المتوفی ٩٦٣ ھ نے بھی اس کو موضوع قرار دیا ہے، تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ ج ٢ ص ١١٢٨ )

امام ابن عدی اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے یوم عاشوراء میں اپنے اہل و عیال پر وسعت کی، اللہ تعالیٰ سارا سال اس پر وسعت رکھے گا۔

(الکامل لا بن عدی ج ٥ ص ١٨٥٤، امام عقیلی نے کہا : اس کی سند میں سلیمان مجہول ہے اور یہ حدیث غیر محفوظ ہے)

حافظ جلال الدین سیوطی اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں : میں کہتا ہوں :

حافظ ابو الفضل العراقی نے اپنی امالی میں لکھا ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) کی یہ حدیث متعدد اسانید کے ساتھ مروی ہے اور ان میں سے بعض اسانید کو حافظ ابو الفضل بن ناصر نے صحیح قرار دیا ہے، اور اس حدیث کی سند میں جو سلیمان ہے اس کو امام ابن حبان نے ثقات میں قرار دیا ہے، پس یہ حدیث ان کی رائے میں صحیح ہے، اور حضرت ابو سعید خدری کی حدیث امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی ہے اور حضرت ابن عمر کی حدیث امام دارقطنی نے الافراد میں روایت کی ہے اور حضرت جابر کی حدیث امام بیہقی نے روایت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، امام بیہقی نے کہا : ہرچند کہ ان احادیث کی اسانید ضعیف ہیں لیکن جب بعض سندوں کو بعض سے ملایا جائے تو ان میں قوت آجاتی ہے۔ (شعب الایمان ج ٣ ص ٣٦٦، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٠ ھ)

(اللئالی المصنوعۃ ج ٢ ص ٩٥۔ ٩٤، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٧ ھ)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوم عاشوراء کو روزہ رکھو اور اس میں یہود کی مخالفت کرو، اس سے ایک دن پہلے روزہ رکھو اور اس کے ایک دن بعد بھی روزہ رکھو۔ ( شعب الایمان رقم الحدیث : ٣٨٩٠)

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : نو محرم اور دس محرم کو روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔

( شعب الایمان رقم الحدیث : ٣٧٨٨)

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا، اس نے گویا ایک سال کے روزے رکھے اور جس نے یوم عاشوراء کو صدقہ کیا اس نے گویا ایک سال صدقہ کیا۔

حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس دن اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی، تم اس دن نماز پڑھو اور روزہ رکھو۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی توبہ قبول فرمائی تھی، وہب بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ آپ اپنی قوم کو حکم دیں کہ وہ عشر محرم کے پہلے دن سے میرا قرب حاصل کریں۔ ( لطائف علمیہ ج ١ ص ٨١۔ ٨٠، مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

” ولیال عشر “ سے مراد رمضان کا آخری عشرہ اور اس کی فضلیت میں احادیث

اس میں تیسرا قول یہ ہے کہ ان دس راتوں سے مراد رمضان کا آخری عشرہ ہے، اس سلسلہ میں یہ احادیث ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمضان کے آخری عشرہ ( دس دنوں) کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠١٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١١٦٩، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١١٨٥)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا، پھر آپ بیس رمضان کی صبح کو باہر آئے، پس ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی تھی، پھر مجھے بھلا دی گئی، تم اس کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو، اور میں نے خواب دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں، پس جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اعتکاف کیا تھا وہ واپس جائے، ہم لوٹ گئے اور ہم آسمان پر کوئی بادل نہیں دیکھ رہے تھے، پھر بادل آگئے اور بارش ہونے لگی، حتیٰ کہ مسجد کی چھت ٹپکنے لگی اور وہ چھت کھجور کے شتہیروں کی تھی، اور نماز قائم کی گئی اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہے تھے، حتیٰ کہ میں نے مٹی کا نشان آپ کی پیشانی میں دیکھا۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠١٦، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٣٨٢، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٣٥٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٣٧٥)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف میں بیٹھتے تھے اور فرماتے تھے کہ لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠٢٠، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٣٨٥، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٦٨٦)

القرآن – سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 2