مفتی نظام الدین مصباحی کی تحقیق اور مفتی تقی عثمانی کا رجوع :

علّامہ شارح بُخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
دیوبندیوں نے ایک ادارہ “مجمع الفقہ الاسلامی” کے نام سے قائم کیا ہے، جس کا مرکز دلی میں ہے، جس میں نئے مسائل پر ہر سال وہ ایک اجتماعی اجلاس کر کے بہت منتظم طریقے سے سیمینار کرتے ہے۔
اس سیمینار میں شرکت کا دعوت نامہ میرے(شارح بُخاری کے) نام بھی مسلسل آتا رہتا ہے ، اور مفتی نظام الدین مصباحی کے نام بھی آتا ہے، ابتدا میں اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی، لیکن پھر خیال آیا کہ اس میں ہماری جماعت کے مفتی صاحبان کو بھی شریک ہونا چاہئے ۔ چنانچہ ہم سب کی رائے سے اس کے تیسرے اور چوتھے فقہی سیمینار میں عزیز موصوف(مفتی نظام الدین صاحب) شریک ہوئے۔
اس ادارے کا چوتھا فقہی سیمینار دار العلوم سبیل السلام حیدر آباد دکن میں ٩ لغایت ۱۲ اگست ١٩٩١ء میں منعقد ہوا، جس میں بھی اکابر علمائے دیوبند نے شرکت کی۔ خصوصیت کے ساتھ غیر منقسم ہندوستان کے دیوبندی جماعت کے سب سے بڑے محقق تقی عثمانی کراچی پاکستان بھی موجود تھے، اس سیمینار کا موضوع تھا:
“دو ملکوں کی کرنسیوں کا اُدھار تبادلہ جائز ہے یا نہیں ؟”
اس سیمینار میں سب سے پہلے مفتی تقی عثمانی صاحب نے اپنا مقالہ پڑھا، اس میں انہوں نے ثابت کیا کہ دو ملکوں کی کرنسیوں کا ادھار تبادلہ جائز ہے، ان کے مقالے کی شرکائے سیمینار نے عام طور پر تائید کی۔
مفتی نظام الدین مصباحی نے ان کے موقف کے خلاف دلائل و براہین سے بھر پور ایک محققانہ تقریر کی ، جس پر مفتی تقی عثمانی صاحب نے کچھ دیر تبادلہ خیال کیا، اخیر میں وہ خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگے۔
قاضی مجاہد الاسلام نے جب یہ رنگ دیکھا تو یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ اب اس مسئلے میں کتابوں کی طرف مزید مراجعت کر کے گفتگو ہوگی۔
پھر دو دن میں تقی عثمانی  سے مفتی نظام الدین صاحب کی اس مسئلے پر دو مرتبہ گفتگو ہوئی جس سے متاثر ہو کر تقی عثمانی صاحب نے دار العلوم ندوۃ العلماء کے مدرس برہان الدین سنبھلی صاحب سے کہا کہ میں اپنے موقف سے رجوع کرتا ہوں اور ان کا یہ رجوع جلد مشتہر ہو گیا۔ لیکن سیمینار کی آخری نشست میں جب فیصلہ سنایا گیا تو مفتی نظام الدین مصباحی کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے بر بنائے ضرورت جواز کا حکم دیا گیا، جس کی سب نے تائید کردی ۔ لیکن تنہا مفتی نظام الدین مصباحی نے اسے تسلیم نہیں کیا، اور دلائل سے ثابت کر دیا کہ ضرورت متحقق نہیں۔ مولانا برہان الدین نے مفتی نظام الدین کی تائید کی، مولانا تقی عثمانی چپ چاپ خاموش سنتے رہے، پورے مجمع میں سے کسی نے بھی ان کے دلائل کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس سیمینار میں جنرل انشورنس اور لائف انشورنس کے مسائل بھی زیر بحث آئے، شرکاء نے مختلف قسم کی رائیں پیش کیں۔ پھر مفتی نظام الدین نے اپنی باری میں سب سے الگ تھلگ ایک منظر و رائے پیش کی، جسے ناقابل انکار دلائل و براہین اور شواہد سے ثابت کر دیا، جس پر تمام مجمع انگشت بدنداں تھا۔ ہر طرف سے صدائے تحسین بلند تھی۔
قاضی مجاہد الاسلام نے اسے تحریری شکل میں لکھنے کو کہا انہوں نے تحریر کر کے دے دیا جو مجلہ فقہ اسلامی میں شائع ہو چکا ہے۔
جون ۱۹۸۶ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تین روزہ سیمینار منعقد ہوا۔ جس کا موضوع تھا “مدارس اسلامیہ میں سائنس کی ضرورت” جس میں یونیورسٹی کے بہت سے پروفیسر و دانشور صاحبان شریک ہوئے۔ اس سیمینار میں مفتی نظام الدین کی تقریر کو سب نے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ آخر نشست کی صدارت آنجہانی مولانا تقی امینی نے کی، یہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیات کے صدر تھے۔ انہوں نے مدارس کے نصاب اور اساتذہ مدارس کے خلاف آدھے گھنٹے تک تقریر کی۔ علی گڑھ کے اساتذہ میں سے کچھ نے پسند کیا اور کچھ نے نا پسند۔ شرکا میں جو علماء تھے، ان سب نے اسے ناپسند کیا لیکن تقی امینی کے خلاف لب کشائی کی کسی کو جرات نہ ہوئی، بالآخر مفتی نظام الدین صاحب نے بیس منٹ تک ایک سنجیدہ تقریر کی جس میں ان کی تمام باتوں کا جواب دیا، اور ان کے نامناسب انداز خطاب پر تنقید بھی کی، جس سے متاثر ہو کر انہوں نے سب سے معافی مانگی۔
اس کا اثر مندوبین پر یہ پڑا کہ سب نے ان کی تعریف و توصیف کی۔ سیمینار ہال سے باہر نکلنے کے بعد تمام شرکاء نے ہر طرف سے گھیر لیا۔ موصوف کی جرات ، زور بیان ، طرز استدلال پر ہر چہار طرف سے داد و تحسین کی آوازیں آتی رہیں، اس کے بعد دو دن تک مفتی نظام الدین وہاں رہے، جس طرف سے گزرتے لوگ ہاتھوں ہاتھ لیتے، اور بڑی وارفتگی کے ساتھ داد دیتے۔
میں(شریف الحق امجدی) نے مفتی صاحب موصوف کے بارے میں یہ چند باتیں اس لئے ذکر کر دی ہیں کہ اب علما کے پہچاننے کا معیار بدل چکا ہے۔ اب سب سے بڑے عالم ہونے کی نشانی شعلہ بیانی یا پیر زادگی ہے، عوام تو عوام خواص تک حقیقی علما کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ حالانکہ علماء کی معرفت ، ان کی قدر دانی، ان کی عزت، ان کا احترام دین کی بقا کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے میں نے ضروری جانا کہ عزیز موصوف کا تعارف کرادوں۔
[مقالات شارح بُخاری، جلد ۳]

نوٹ : چلتی ٹرین، اثبات رویت ہلال، ٹائی، ٹی وی اور  مووی کے  مسائل میں فقیر رضوی حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے فتاویٰ پر عمل کرتا ہے اور مسئلہ لاؤڈ اسپیکر پر مفتی نظام الدین صاحب مصباحی نے جمہور اکابر و اصاغر سے اختلاف رائے کیا ہے مگر یہ اختلاف نیک نیتی، مسلمانوں کی خیر خواہی، اور اپنی سمجھ کے مطابق دلائل و براہین کی بنیاد پر کیا تھا پھر بعد میں آل رسول سید حسنین میاں نظمی علیہ الرحمہ کو خط لکھ کر اس مسئلہ پر رجوع کیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ اس قسم کے مسائل پر قلم نہیں اٹھاونگا، لکین اب واپس جواز کے قائل ہو گئے اس کا جواب تو مفتی صاحب ہی دینگے، میں خود اس سے متفق نہیں مگر پھر بھی موصوف کی تحقیق و تطبیق اور دلائل و براہین کی فراہمی کی جدو جہد پر تحسین ضرور پیش کرتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ ایزد متعال ان کو صحت و توانائی عطا فرمائے، ان کی عمر کو دراز فرمائے ، ان کے فیض کو عام و تام کرے، ان کے ذہن ، قلم، زبان کو خطا سے محفوظ رکھے، اور صواب کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین