أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَيَوۡمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ ۞

ترجمہ:

سو اس دن اس کے عذاب کی طرح کوئی عذاب نہ دے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جب زمین پاش پاش کر کے ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔ اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اور فرشتے صف بہ صف حاضر ہوں گے۔ اور اس دن دوزخ کو لایا جائے گا، اس دن انسان یاد کرے گا اور اب کہاں یاد کرنے کا وقت ہے۔ وہ کہے گا : کاش ! میں نے زندگی میں کوئی نیکی آگے کے لیے بھیجی ہوتی۔ سو اس دن اس کے عذاب کی طرح کوئی عذاب نہ دے گا۔ اور نہ کوئی اس کے جکڑنے کی طرح جکڑے گا۔ ( الفجر : ٢٦۔ ٢١ )

الفجر : ٢٦۔ ٢٥ میں فرمایا : سو اس دن اس کے عذاب کی طرح کوئی عذاب نہ دے گا۔ اور نہ کوئی اس کے جکڑنے کی طرح جکڑے گا۔

حضرت ابن عباس (رض) اور حسن بصری نے کہا : اللہ کے عذاب کی طرح اس کو کوئی عذاب نہیں دے گا، اور جس طرح اللہ نے اس کو جکڑا ہے اس طرح اس کو کوئی نہیں جکڑے گا۔

اس کا معنی یہ ہے کہ دنیا میں کوئی کسی کو اس طرح عذاب نہیں دے گا جس طرح اللہ عزوجل آخرت میں کافر کو عذاب دے گا، یعنی جس طرح کافر کو زنجیروں اور طوق سے جکڑا جائے گا، اس طرح کوئی دنیا میں کسی کو نہیں جکڑے گا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کافر سے مراد ابلیس ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس کافر سے مراد امیہ بن خلف ہے۔

اس آیت کا ایک معنی یہ بھی کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عذاب دینے کا مالک نہیں ہوگا۔

القرآن – سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 25