أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّةُ ۞

ترجمہ:

اے نفس مطمئنہ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے نفس مطمئنہ !۔ تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ جا کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ پھر تو میرے نیک بندوں میں داخل ہوجا۔ اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ ( الفجر : ٣٠۔ ٢٧ )

نفس مطمئنہ کو ندا کرنے والوں کے مصداق میں مفسرین کے اقوال

ایک سوال یہ ہے کہ قیامت کے دن نفس مطمئنہ کو کون ندا کر کے کہے گا : اے نفس مطمئنہ ! ؟ مفسرین نے کہا : یہ نداء اور خطاب فرشتے کریں گے اور اولیاء اللہ سے کہیں گے : اے نفس مطمئنہ ! اور بعض صوفیاء نے کہا : یہ نداء اور خطاب خود اللہ عزوجل کرے گا کیونکہ دنیا میں اللہ کے نیک بندے یا اللہ یا اللہ کہہ کر اللہ تعالیٰ کو پکارتے تھے تو قیامت کے دن اس کی جزاء میں اللہ تعالیٰ نیک بندوں کو پکارے گا اور فرمائے گا ! اے نفس مطمئنہ !

امام عبد الرحمان بن محمد ابن ابی حاتم رازی متوفی ٣٢٧ ھ نے اپنی سند کے ساتھ اس نداء اور خطاب کے متعلق حسب ذیل اقوال نقل کیے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر (رض) بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ کتنا خوب صورت خطاب ہے، آپ نے فرمایا : عنقریب یہ خطاب تم سے کیا جائے گا ( یعنی موت کے وقت) ، حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا : رومۃ کے کنویں کو کون خریدے گا کہ ہم اس کو میٹھا پانی پئیں ؟ حضرت عثمان (رض) نے اس کنویں کو خرید لیا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم اس کنویں کو لوگوں کے پینے کے لیے وقف کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! تب اللہ تعالیٰ نے حضرت عثمان کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی :” یایتھا النفس المطمینۃ “ الآیۃ۔

حضرت بریدہ (رض) نے کہا : اس آیت میں نفس مطمئنہ سے حضرت حمزہ (رض) کا نفس مراد ہے۔

مجاہد نے کہا : نفس مطمئنہ سے وہ نفس مراد ہے جس کو یہ یقین ہو کہ اللہ تعالین اس کا رب ہے۔

الحسن نے کہا : جب اللہ تعالیٰ اپنے بندہ مومن کی روح قبض کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کا نفس اس سے مطمئن ہوتا ہے۔ اور وہ اللہ سے راضی ہوتا ہے اور اللہ اس سے راضی ہوتا ہے، تب اللہ اس کی روح کو قبض کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس کو جنت میں داخل کرا دیتا ہے اور اس کو اپنے نیک بندوں میں شامل کرلیتا ہے۔

( تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ١٠ ص ٣٤٣١۔ ٣٤٢٩، ملخصاً ، مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٢١٧ ھ)

نفس انسان کی اقسام

انسان کے نفس کی تین قسمیں ہیں :

(١) نفس امارہ، وہ نفس جو انسان کو برے کام کرنے کا حکم دیتا ہے

(٢) نفس لوامہ، وہ نفس جو انسان کو برے کام کرنے پر ملازمت کرتا ہے

(٣) نفس مطمئنہ، وہ نفس جو ہمیشہ نیک کام کرنے کا حکم دیتا ہے اور اپنی کارکردگی پر مطمئن رہتا ہے، یہ نفس انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کے ساتھ مخصوص ہے، نفس امارہ فساق فجار کا نفس ہے اور نفس لوامہ عام مؤمنین کا نفس ہے جو شیطان کے بہکانے سے اور نفس امارہ کی ترغیبات سے برے کام کرلیتے ہیں، پھر ان کا نفس ان کو ملامت کرتا ہے، وہ ان برے کاموں پر توبہ اور استغفار کرتے ہیں اور آئندہ ان برے کاموں سے بچنے کا عہد کرتے اور ان برے کاموں کی تلافی اور تدراک کرتے ہیں۔

قرآن مجید میں نفس کی ان تینوں قسموں کا ذکر ہے، نفس امارہ کا ذکر اس آت میں ہے : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا :

وَمَآ اُبَرِّیُٔ نَفْسِیْج اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌم بِالسُّوْٓئِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْط اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (یوسف : ٥٣ )

میں اپنے نفس کو برائی سے بری نہیں کرتا، بیشک نفس برائی کا بہت زیادہ حکم دینے والا ہے سو اس کے کہ میرا رب ہی رحم فرمائے، بیشک میرا رب بہت بخشنے والا، بےرحم فرمانے والا ہے۔

اور نفس لوامہ کا ذکر اس آیت میں ہے :

ولا اقسم بالنفس اللوامۃ۔ ( القیامہ : ٢) اور میں اس نفس کی قسم کھاتا ہوں جو ملامت کرنے والا ہے۔

اور نفس مطمئنہ کا ذکر اس آیت میں ہے :

یایتھا النفس المطمئنۃ۔ ( الفجر : ٢٧) اے نفس مطمئنہ !۔

نفس مطمئنہ کے مصداق میں مفسرین کے اقوال

مفسرین نے نفس مطمئنہ کے مصداق میں حسب ذیل اقوال ذکر کیے ہیں :

(١) مجاہد وغیرہ نے کہا : جس نفس کو یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کا رب ہے اور وہ اس کے سامنے عاجز ہے

(٢) حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : وہ نفس جو اللہ کے ثواب پر مطمئن ہو، ان سے ایک روایت ہے : وہ نفس جو مومنہ ہو

(٣) مجاہد سے دوسری روایت ہے : جو نفس اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی قضاء پر راضی ہو اور اس کو یہ یقین ہو کہ جو مصیبت اس سے ٹل چکی ہے وہ اس پر آ نہیں سکتی تھی اور جو مصیبت اس پر آگئی ہے وہ اس سے ٹل سکتی تھی

(٤) مقاتل نے کہا : جو نفس اللہ تعالیٰ کے عذاب سے مامون ہو

(٥) ایک قول ہے : جس کو اللہ تعالن کے کیے ہوئے وعدہ پر یقین ہو

(٦) ابن کیسان نے کہا : مطمئنہ سے مراد ہے : جو مخلصہ ہو

(٧) ایک قول ہے : جو اللہ کے ذکر سے مطمئن ہو اور قیامت کی اور ثواب کی تصدیق کرتاہو

(٨) عبد اللہ بن بریدہ نے اپنے والد سے روایت کیا ہے : اس سے مراد حضرت حمزہ کا نفس ہے اور صحیح یہ ہے کہ اس سے مراد ہر مومن کا نفس ہے جو مخلص ہو اور اطاعت گزار ہو

(٩) ابن زید نے کہا : اس سے مراد وہ نفس ہے جس کو موت کے وقت اور قبر سے اٹھتے وقت اور میدان حشر میں ثواب کی بشارت دی گئی ہو

(١٠) حسن بصری نے کہا : جب اللہ تعالیٰ اپنے بندہ مومن کی روح کو قبض کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ نفس اللہ تعالیٰ سے مطمئن ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے مطمئن ہوتا ہے

(١١) حضرت عمرو بن العاص (رض) نے کہا : جب مومن فوت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پاس دو فرشتوں کو بھیجتا ہے اور ان کے ساتھ جنت کا ایک تحفہ بھیجتا ہے، وہ فرشتے اس سے کہتے ہیں : اے نفس مطمئنہ ! اپنے جسم سے اس حال میں باہر نکل کہ تو خود بھی راضی ہو اور تیرا رب بھی تجھ سے راضی ہو، تو خوشی اور خوشبو کی طرف نکل اور اپنے رب کی طرف جو تجھ سے راضی ہے ناراض نہیں ہے، پھر وہ نفس اس مشک سے زیادہ خوشبو کے ساتھ نکلتا ہے جس کو کسی انسان نے روئے زمین پر سونگھا ہو۔ الحدیث

(١٢) سعید بن جبیر نے کہا : حضرت ابن عباس (رض) طائف میں فوت ہوگئے، پھر ایک ایسا پرندہ آیا، جیسا پرندہ اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا تھا، وہ ان کی نعش میں داخل ہوگیا، پھر باہر نکلتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، پھر جب ان کو دفن کیا گیا تو کوئی ان کی قبر پر ان آیات کی تلاوت کر رہا تھا :” یٰٓـاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ۔ ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ۔ “ (الفجر : ٢٨۔ ٢٧) اور یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کون تلاوت کر رہا تھا

(١٣) ضحاک نے روایت کیا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت عثمان (رض) نے رومۃ کے کنویں کو مسلمانوں کے لیے وقف کیا

(١٤) ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضرت خبیب بن عدی (رض) کے متعلق نازل ہوئی، جب ان کو کفار مکہ نے سولی پر لٹکایا، کفار نے ان کا چہرہ مدینہ کی طرف کیا تھا، حضرت خبیب نے اپنا چہرہ قبلہ کی طرف پھیرلیا

(١٥) سعید بن زائد بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یہ آیت پڑھی ” یٰٓـاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ۔ “ ( الفجر : ٢٧) حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ کتنی اچھی آیت ہے، تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب فرشتہ تمہارے سامنے یہ آیت پڑھے گا۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ٢٠ ص ٥١، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 27