کیا امام معمر کی روایات اہل عراق اور بصریوں سے مطلق  ضعیف ہوتی ہے ؟
تحقیقی مقالہ: اسد الطحاوی

ایک روایت میں نے بہت پہلے پوسٹ کی تھی جس میں حضرت علی رضی اللہ بنو امیہ کے بارے تعریفی کلمات فرماتے ہیں۔ جسکو امام عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں نقل کیا ہے ۔
جو کہ درج ذیل ہے :

امام عبد الرزاق عن معمر عن ایوب عن ابن سیرین۔۔۔!
امام ابن سیرین فرماتے ہیں ایک شخص نے حضرت علی سے قریش کے بارے سوال کیا حضرت علی نے فرمایا
أرزننا أحلاما إخوتنا بنو أمية ،
ہم لوگوں میں سب سے عقل مند صاحب تحمل ہمارے بھائی “بنو امیہ” ہیں۔
[مصنف عبد الرزاق وسندہ صحیح]

اس پر امام ابن معین سے ایک قول چپکا کر امام معمر کی اہل کوفہ اور بصرہ سے  تمام مروایات جو ضعیف قرار دے دیا جاتا ہے ۔ یہ کہہ کر کہ امام ایوب بھی بصری تھے ۔ تو ان سے امام معمر کی روایت معلول ہے ۔

جبکہ یہ دعویٰ غیر علمی ہے ۔ اور ناقص تحقیق پر مبنی ہے ۔

امام معمر ایک ثقہ ثبت راوی ہیں ۔ اور انکی روایا ت عمومی صحیح ہوتی ہیں ۔ لیکن انکی کچھ مروایات میں وھم  اور غلطیاں واقع ہوئی ہیں۔
اور
ائمہ محدثین کا اس پر اتفاق ہے ۔ کہ امام معمر سے جب اہل یمن روایت کرینگے تو انکی روایت اصح ہوتی ہے ۔ اور جب امام معمر بصرہ کے مقام پر روایت کیا جو کچھ تو تب انکے پاس کتب نہ تھیں۔ جسکے سبب انہوں نے حافظہ سے بیان کیا تو اس میں غلطیاں واقع ہوئی ہیں۔

یعنی ائمہ نے امام معمر کے تلامذۃ کے حوالے سے یہ قید لگائی ہے جو بصری رواتہ امام معمر سے بیان کرینگے تو ان میں غلطیاں ہونگی۔ اور جو اہل یمن کے امام معمر کے تلامذۃ بیان کرینگے وہ اصح روایات ہونگی۔

یعنی ائمہ محدثین نے فقط امام معمر کے تلامذۃ کی تخصیص کی ہے ۔ نہ کہ انکے شیوخ کی ۔
یہ بات سب ائمہ میں متفقہ ہے ۔

ان سب آئمہ کے بر خلاف ایک جرح جو منفرد اور عجیب متن پر مشتمل ملتی ہے ۔ امام ابن معین سے جنہوں نے امام معمر کے تلامذہ کی بجائے امام معمر کے شیوخ کے حوالے سے اہل عراق، بصری اور اہل کوفہ کے حوالے سے جرح کی ہے ۔

جیسا کہ امام ابن معین کا کلام امام ابن خیثمہ روایت کرتے ہیں:
  سمعت يحيى بن معين يقول: إذا حدثك معمر عن العراقيين فخفه؛ إلا عن الزهري، وابن طاووس؛ فإن حديثه عنهما مستقيم، فأما أهل الكوفة والبصرة فلا، وما عمل في حديث الأعمش شيئا.
فقال يحيى بن معين: لو أخذ كتابا لكان أثبت منه
میں نے یحییٰ بن معین کو یہ کہتے سنا:
جب معمر تمہیں عراقیوں سے حدیث بیان کرے تو اُس سے محتاط رہو؛ سوائے الزہری اور ابن طاووس کے، کیونکہ ان دونوں سے اس کی روایت درست ہے۔
رہے اہلِ کوفہ اور اہلِ بصرہ، تو (اس کی روایت معتبر) نہیں، اور اعمش کی حدیث میں اس نے کچھ بھی (صحیح) کام نہیں کیا۔
پھر یحییٰ بن معین نے کہا: اگر وہ کتاب سے روایت کرتا تو اُس کی روایت زیادہ مضبوط ہوتی۔

امام یحییٰ بن معین کے اس کلام پر محدث العصر علامہ خالد بن محمود الحاك نے جو رد کیا اور اس کو تحریف شدہ  ثابت کیا ہے ۔
پہلے ہم انکا تحقیقی کلام نقل کرتے ہیں :

چناچہ علامہ  علامہ خالد بن محمود الحاك کہتے ہیں:
أما قول ابن معين في روايته عن العراقيين: قَالَ ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَعِيْنٍ يَقُوْلُ: “إِذَا حَدَّثَكَ مَعْمَرٌ عَنِ العِرَاقِيِّيْنَ، فَخَافَهُ، إِلاَّ عَنِ ابْنِ طَاوُوْسٍ وَالزُّهْرِيِّ، فَإِنَّ حَدِيْثَهُ عَنْهُمَا مُسْتقِيْمٌ، فَأَمَّا أَهْلُ الكُوْفَةِ وَالبَصْرَةِ فَلَهُ. وَمَا عَمِلَ فِي حَدِيْثِ الأَعْمَشِ شَيْئاً”. قلت: كذا في المطبوع من «تاريخ ابن أبي خيثمة»، وغيره من الكتب التي نقلت هذا النص عنه، وقد وقع في بعضها: «فخالفه»، وفي بعضها: «فخفه». وفيها كلها: «والبصرة فلا» = لا النهي، وجاء في «سير الذهبي»: «فلَه». أما لفظة: «فخالفه» فلا تصح؛ لأنه مهما أخطأ فلا يمكن أن يكون أخطأ في كل شيء حتى يُخالَف فيه، والصواب: «فخافه» أو «فخفه» = أي احذر منه. وأما لفظة: «فلا» فهذا يعني النهي، وهذا لا يستقيم أبداً في حديث مَعمر عن كلّ أهل الكوفة والبصرة! فيستحيل أن ينهى يحيى عن حديثه عنهم كلهم! والصواب: «فَله» = يعني له حظّ مما يرويه عن أهلهما، وله رواية جيدة عنهم، فهو بصري الأصل، وسمع فيها، وسمع من أهل الكوفة، ورواياته مستقيمة عنهم، ويؤيد هذا استثناء يحيى روايته عن الأعمش بقوله: “وما عمل في حديث الأعمش شيئاً”، والأعمش كوفيّ. وهو نفسه قد بيّن الخلل في روايته عن الأعمش، فقَالَ: “سَقَطَتْ مِنِّي صَحِيْفَةُ الأَعْمَشِ، فَإِنَّمَا أَتَذَكَّرُ حَدِيْثَهُ، وَأُحَدِّثُ مِنْ حِفْظِي”. ثم إن هناك خلل في النصّ! فابن معين يقول في بدايته: «إذا حدثك معمر عن العراقيين…» أي «أهل العراق» ويدخل فيهم «أهل الكوفة والبصرة»، فكيف يذكر «العراقيين» أولاً، ثم يذكر بعدها «الكوفة والبصرة»؟! وكذلك فإنه استثنى من «العراقيين»: “ابن طاوس والزهري”، وهما ليس من العراق!! فابن طاوس يماني، والزهري مدني! فكيف يستثنيهم من أهل العراق؟!! ثم تبيّن لي أن اللفظة: «عن الحجازيين»؛ فالزهري حجازي، وابن طاوس كان يختلف كثيراً لمكة حتى ذكروا في ترجمته: “اليماني المكي”. قال البخاري: “عبدالله بن طاوس بن كيسان: أصله من اليمن، كَانَ يختلف إلى مكة”. قلت: وروى عن ابنُ جُريجٍ المكيّ. وقد يكون من باب إدخال اليمن في الحجاز على قلّة أهل الحديث في اليمن في ذلك الزمان، ونُدرة استخدام مصطلح «اليمانيين» من أهل النقد. فتكون اللفظة: «الحجازيين» تحرفت إلى «العراقيين»! والرسم تقريباً واحد، والله أعلم. فيكون صواب العبارة: “إِذَا حَدَّثَكَ مَعْمَرٌ عَنِ الحِجَازيِّيْنَ، فَخَفهُ – أو فخافه-، إِلاَّ عَنِ ابْنِ طَاوُوْسٍ وَالزُّهْرِيِّ، فَإِنَّ حَدِيْثَهُ عَنْهُمَا مُسْتقِيْمٌ، فَأَمَّا أَهْلُ الكُوْفَةِ وَالبَصْرَةِ فَلَهُ. وَمَا عَمِلَ فِي حَدِيْثِ الأَعْمَشِ شَيْئاً”

جہاں تک ابن معین کے اس قول کا تعلق ہے جو انہوں نے معمر کی عراقیوں سے روایت کے بارے میں کہا:
ابن ابی خَیثمہ نے کہا: میں نے ابن معین کو یہ کہتے سنا:
“جب معمر تمہیں عراقیوں سے حدیث بیان کرے تو اُس سے محتاط رہو، سوائے ابن طاووس اور الزہری کے، کیونکہ ان دونوں سے اس کی روایت درست ہے۔ رہا اہلِ کوفہ اور بصرہ، تو (اس سے روایت) نہیں، اور اس نے اعمش کی حدیث میں کچھ بھی کام نہ کیا۔”
میں کہتا ہوں: یہی الفاظ مطبوعہ “تاریخ ابن ابی خثیمہ” میں موجود ہیں، اور ان تمام کتابوں میں جو اس سے نقل کرتی ہیں۔ ان میں سے بعض میں “فَخَالِفْهُ” (اس کی مخالفت کرو)، اور بعض میں “فَخَفْهُ” (اس سے ڈرو/احتیاط کرو) آیا ہے۔ اور ان سب میں “والبصرة فلا” (اور بصرہ والے نہیں) کا لفظ ہے جو نفی کا مفہوم رکھتا ہے، جبکہ “سیر أعلام النبلاء” میں “فَلَه” آیا ہے (یعنی اس کی روایت وہاں بھی درست ہے)۔
“فخالفه” (اس کی مخالفت کرو) — یہ لفظ درست نہیں، کیونکہ اگرچہ معمر کو بعض غلطیاں ہوئیں، لیکن یہ ممکن نہیں کہ اس کی تمام روایات غلط ہوں کہ ہر جگہ اس کی مخالفت لازم ہو جائے۔ درست لفظ “فخَفْهُ” یا “فَخَافَهُ” ہے، یعنی اس سے احتیاط برتو۔
“فلا” کا مطلب نفی ہے، اور یہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں کہ ابن معین معمر کی تمام کوفی و بصری روایت کو رد کر دیں، کیونکہ وہ خود بصری النسب تھا، اس نے وہاں بھی سنا، اور کوفیوں سے بھی سنا، اور ان سے اس کی کئی روایات صحیح ہیں۔ اس کے برعکس “فَلَه” کا مطلب ہے کہ اسے ان (اہل کوفہ و بصرہ) سے روایت کا حصہ (نصیب) ملا، یعنی وہ ان سے بھی روایات رکھتا ہے، جن میں بعض صحیح ہیں۔
اسی قول کے آخر میں ابن معین نے اعمش (جو کہ کوفی ہے) کے بارے میں کہا: “وما عمل في حديث الأعمش شيئاً” یعنی “اعمش کی حدیث میں اس نے کوئی درست کام نہیں کیا” — اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خاص اعمش کے بارے میں اعتراض ہے، نہ کہ تمام اہل کوفہ و بصرہ سے۔
پھر خود معمر نے یہ وضاحت کی کہ: “اعمش کی صحیفہ (تحریر) مجھ سے گم ہو گئی تھی، تو میں اس کی حدیث یادداشت سے بیان کرتا تھا۔”
ایک اور خلل اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ابن معین شروع میں کہتے ہیں: “إذا حدثك معمر عن العراقيين” یعنی “جب معمر اہلِ عراق سے حدیث بیان کرے” — اور پھر بعد میں الگ سے کوفہ و بصرہ کا ذکر کرتے ہیں، حالانکہ وہ بھی عراق ہی کا حصہ ہیں — تو یہ تکرار یا بےمعنویت بنتی ہے۔
اور مزید عجیب بات یہ ہے کہ ابن معین “عراقیوں” سے روایت میں ابن طاووس اور الزہری کو مستثنیٰ کرتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں عراق سے نہیں! ابن طاووس یمنی تھے، اور الزہری مدنی تھے۔
لہٰذا درست بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اصل لفظ “العراقيين” تحریف شدہ ہے، اور صحیح لفظ “الحجازيين” ہے — کیونکہ الزہری حجازی تھے، اور ابن طاووس بھی مکہ آتے جاتے تھے یہاں تک کہ ان کی سوانح میں آیا ہے: “اليماني المكي”۔
جیسا کہ امام بخاری نے کہا: “عبدالله بن طاووس بن كيسان: أصله من اليمن، كان يختلف إلى مكة”
اور وہ ابن جریج (جو مکی تھے) سے روایت کرتے ہیں۔
ممکن ہے کہ اُس وقت یمن میں اہلِ حدیث بہت کم تھے، اور “اليمانيين” کا اصطلاحی استعمال نقادوں کے ہاں نادر تھا، اس لیے “الحجازيين” میں ان کو شامل کر لیا گیا ہو۔
چنانچہ درست عبارت یوں ہوگی:
“جب معمر تمہیں حجازیوں سے حدیث بیان کرے تو اس سے محتاط رہو، سوائے ابن طاووس اور الزہری کے، کیونکہ ان دونوں سے اس کی روایت درست ہے۔ رہا اہلِ کوفہ اور بصرہ، تو (روایت) اُس کی ہے (یعنی اس سے روایت موجود ہے)، اور اعمش کی حدیث میں اس نے کوئی بھی کام درست نہ کیا۔
[انتہی کلام الحائك]

اور جس  نے بھی امام معمر کے حوالے سے ائمہ کا کلام پڑھا ۔ اور ائمہ علل کی تصریحات دیکھی ہیں وہ یقینا علامہ حائک کے کلام سے اتفاق کیے بنا نہیں رہہ سکتا ہے ۔
اور ہم مزید دلائل سے اس موقف کے اصح ہونا ثابت کرتے ہیں ۔

امام مسلم بن حجاج :
آپ نے تصریحا کہا ہے کہ امام معمر سے جب اہل یمن روایت کرینگے تو انکی روایت صحیح ہوتی ہیں کیونکہ اہل یمن والے سب سے زیادہ جاننے والے تھے امام معمر کی روایات کو ۔ اور امام مسلم نے امام معمر کی روایات میں غلطیوں کو  “بصرہ” کے مقام پر روایت کرنے کے ساتھ مشروط  قرار دیا ہے ۔

جیسا کہ امام بیھقی  ان سے روایت کرتے ہیں:
أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، ثنا محمد بن صالح بن هانئ، ثنا أحمد بن سلمة قال: سمعت مسلم بن الحجاج، يقول: أهل اليمن أعرف بحديث معمر من غيرهم، فإنه حدث بهذا الحديث عن الزهري، عن سالم، عن أبيه بالبصرة، وقد تفرد بروايته عنه البصريون، فإن حدث به ثقة من غير أهل البصرة صار الحديث حديثا، وإلا فالإرسال أولى، ۔۔۔
امام احمد بن سلمہ نے کہتے ہیں : میں نے امام مسلم بن حجاج کو یہ کہتے سنا:
یمنی لوگ معمر کی حدیث کو دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر جانتے ہیں، کیونکہ انہوں (معمر)نے یہ حدیث  زہری سے، اور زہری نے سالم سے، اور سالم نے اپنے والد (ابن عمرؓ) سے روایت کی —
“اور یہ معمر نے بصرہ میں بیان کی، اور اس کی روایت میں بصری راوی اکیلے ہیں۔”
پس اگر اسے اہلِ بصرہ کے علاوہ کوئی ثقہ راوی بیان کرے تو وہ حدیث (متصل) حدیث بن جاتی ہے، ورنہ (اسے) مرسل ماننا بہتر ہے۔
[السنن الكبرى وسندہ صحیح]

اور ائمہ کی جروحات کا یہی مطلب خودامام ابن معین سے قول نقل کرنے والے امام ابن رجب جنہوں نے اہل کوفہ سے امام معمر کی روایات میں کمزوری (نہ کہ مطلق تضعیف) کا باب قائم کیا ۔

وہ امام ابو حاتم سے ایک روایت جس میں امام معمر ایک روایت جو کہ مرسل تھی اسکو مرفوع بیان کر دیتے ہیں ۔  امام ابن رجب پہلے امام ابو حاتم کا کلام نقل کرتے ہیں :
وسألت  أبي عن حديث رواه يزيد بن زريع، عن معمر، عن الزهري، عن أنس: أن النبي (ص) كوى أسعد بن زرارة من الشوكة ؟ قال أبي: هذا خطأ، أخطأ فيه معمر؛ إنما هو: الزهري، عن أبي أمامة بن سهل: أن النبي (ص) … ، مرسل

امام ابن ابی حاتم کہتے ہیں :میں نے اپنے والد (امام ابو حاتم) سے ایک حدیث کے بارے میں سوال کیا جسے یزید بن زریع نے معمر سے، اور معمر نے زہری سے، اور زہری نے انس سے روایت کیا ہے:
کہ نبی ﷺ نے اسعد بن زرارہ کو کانٹے (شوکہ) کی وجہ سے داغا (کوی کیا)؟
تو میرے والد نے کہا:
یہ غلط ہے، اس میں معمر نے غلطی کی ہے؛
درست روایت یہ ہے: زہری نے ابو امامہ بن سہل سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے…
یہ روایت مرسل ہے۔

اس میں امام معمر کی خطاء  کو امام ابن رجب بصرہ میں روایت کرنے کے ساتھ مشروط قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں:
رواه باليمن عن الزهري، عن أبي أمامة بن سهل مرسلا، ورواه بالبصرة عن الزهري عن أنس، والصواب المرسل.
اسے (معمر نے) یمن میں زہری سے، اور زہری نے ابو امامہ بن سهل سے مرسلاً روایت کیا  تھا۔، اور اسی حدیث کو ا س (امام معمر )نے بصرہ میں زہری سے، اور زہری نے انس سے روایت کیا، مگر صحیح (درست) روایت مرسل ہی ہے۔
[شرح علل ترمذی]

اور امام ابن رجب نے کیسے یہ بیان کیا کہ پہلے امام معمر اسکو مرسل یعنی درست بیان کرتے تھے ۔ وہ اس لیے کیونکہ امام عبد الرزاق نے امام معمر ہی سے یہ روایت مرسل یعنی درست روایت کر رکھی ہے ۔

جیسا کہ امام عبد الرزاق اپنی مصنف میں نقل کرتے ہیں :
عن معمر، عن الزهري، عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف قال: «إذا صلى الإمام على الجنازة سلم في نفسه، عن يمينه» وبه نأخذ
[مصنف عبدالرزاق]

اور چونکہ امام عبد الرزاق  یمنی تھے۔ اور جیسا کہ امام مسلم ، نے تصریح کی ہے کہ یمنی انکی  مروایات کے زیادہ  حافظ تھے ۔
اور  جو امام معمر سے غلطیاں واقع ہوئی ہیں وہ بصرہ کے مقام پر روایت کرنے کے سبب ہوئی ہیں۔

اور ان غلطیوں کا سبب امام ذھبی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ومع كون معمر ثقةً ثبتًا، فله أوهام، لا سيما لما قدم البصرة لزيارة أمه، فإنه لم يكن معه كتبه، فحدّث من حفظه، فوقع للبصريين عنه أغاليط، وحديث هشام وعبد الرزاق عنه أصح؛ لأنهم أخذوا عنه من كتبه.”
“اگرچہ معمر ثقہ اور ثبت (قابل اعتماد اور مضبوط) راوی ہے، لیکن اس سے کچھ وہم (غلطیاں) واقع ہوئی ہیں، خصوصاً جب وہ اپنی والدہ کی عیادت کے لیے بصرہ آیا، تو اس کے پاس اپنی کتابیں نہیں تھیں، اس لیے اس نے حافظے سے حدیثیں بیان کیں، تو بصریوں نے اس سے جو روایات لیں ان میں بعض غلطیاں واقع ہو گئیں۔ اور ہشام اور عبدالرزاق کی معمر سے روایات زیادہ صحیح ہیں، کیونکہ انہوں نے اس سے اس کی کتابوں سے روایت کی ہے۔
[سیر اعلام النبلاء]

معلوم ہوا کہ  امام معمر اور ہشام جو یمنی تھے انکی روایات امام معمر سے اصح ہوتی ہے۔ لیکن امام عبد الرزاق  کو ایک فائدہ اور بھی ہے وہ  یہ کہ امام عبد الرزاق نے امام معمر سے انکی کتابوں سے نقل کیا ہوا ہے ۔ جس میں غلطی کا امکان بالکل بھی نہیں ہو سکتا۔
کیونکہ محدثین کا اصول ہے کہ جب کسی کمزور حافظے والے سے یا اختلاط شدہ راوی کی کتب سے اگر احادیث نقل کی جائیں تو اس میں غلطی کا امکان نہیں ہوتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ امام ذھبی فرماتے ہیں  :
عبد الرزاق بن همام بن نافع الحميري مولاهم، مكي، نزيل صنعاء، ثقة، حافظ، مصنف، وكان يتشيع، رُميَ بالتدليس فأنكر، واحتج به الجماعة، وحديثه عن معمر أوثق الحديث.
عبدالرزاق بن ہمام بن نافع الحميری، ان کے موالی میں سے تھے، مکی (یعنی مکہ کے رہنے والے) اور صنعاء (یمن) میں مقیم تھے۔ وہ ثقہ، حافظ (حدیث کے بڑے حافظ)، اور صاحبِ تصانیف (کتابیں لکھنے والے) تھے۔ تشیع (تشیع کی طرف میلان) رکھتے تھے۔ ان پر تدلیس (حدیث میں خفیہ ارسال) کا الزام لگایا گیا، لیکن انہوں نے اس کا انکار کیا۔ تمام (محدثین کے) گروہ نے ان سے احتجاج (یعنی ان کی روایت کو حجت) پکڑا۔ اور ان کی معمر سے روایت کردہ حدیث سب سے زیادہ معتبر حدیث ہے۔

نیز فرماتے ہیں:
وكان عبد الرزاق ممن كتب عن معمر بانتظام، فهو من أعلم الناس به
اور عبدالرزاق ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے معمر سے باقاعدگی کے ساتھ لکھ کر روایت کی، چنانچہ وہ معمر کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھنے والوں میں سے تھے۔

اسکی وجہ امام ذھبی خود امام عبد الرزاق کا قول بیان کرتے ہیں :
قال مؤمل بن يهاب قال عبد الرزاق : كتبت عن معمر عشرة آلاف حديث .
مؤمل بن یہاب نے کہتے ہیں عبدالرزاق نے کہا میں نے معمر سے دس ہزار احادیث لکھی ہیں۔
[سیر اعلام النبلاء]

یہی وجہ ہے کہ بعد والے بھی تمام محدثین نے امام معمر کی روایات میں جو بھی غلطی و وھم ہوا اسکو بصرہ کے مقام پر روایت کرنے کے ساتھ مشروط کیا ہے ۔ کیونکہ اس وقت انکی کتب ساتھ نہیں تھیں۔

جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں:
ولم يخرج له من رواية أهل البصرة عنه إلا ما توبعوا عليه عنه واحتج به الأئمة كلهم
اور اہلِ بصرہ کی معمر سے روایت کی گئی احادیث میں سے صرف وہی روایتیں نقل کی گئی ہیں جن میں اُن کی متابعت  موجود ہو، اور تمام ائمہ نے اس (یعنی معمر) سے روایت کی ہوئی احادیث کو حجت تسلیم کیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایک روایت میں امام معمر کی روایات میں وھم کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں:
وشذ معمر فيما رواه وهيب عنه فقال عبد الرحمن بن عوف بدل عمر أخرجه الإسماعيلي والأول هو الصحيح ومعمر لما حدث بالبصرة حدث من حفظه فوهم في أشياء فكان هذا منها۔
اور معمر اس روایت میں وہیب کے خلاف شاذ (تنہا اور غلط) ہو گئے۔ کیونکہ اس نے (معمر نے) عبد الرحمن بن عوف کا نام بیان کیا، عمر (بن الخطاب) کے بجائے۔ اسے اسماعیلی نے روایت کیا ہے، اور پہلا (یعنی وہیب کا بیان کردہ: عمر) ہی صحیح ہے۔ اور معمر نے جب بصرہ میں حدیث بیان کی تو حافظے سے بیان کی، جس کی وجہ سے کچھ چیزوں میں وہم (غلطی) کر بیٹھے، اور یہ (غلطی) انہی میں سے ہے۔
[فتح الباری ابن حجر]

تو معلوم ہوا کہ امام معمر کی روایات جو اہل یمن کے رواتہ بیان کرینگے تو وہ اصح ہونگیں ۔ اور ان میں سے بھی امام عبد الرزاق اگر روایت کرینگے تو سب  پر مقدم ہونگے کیونکہ انہوں نے امام معمر کی کتب سے نقل کیا ہے ۔

اور جو حافظے سے روایت کرنے میں غلطیاں ہوئیں ہیں امام معمر کو وہ فقط بصرہ میں روایت کرنے کے سبب ہوئی ہیں۔ جسکے سبب بصری رواتہ جب امام معمر کی روایات بیان کرنے میں منفرد ہونگے تو تب روایت رد ہوگی۔

نوٹ:
اگر کوئی کہے کہ ائمہ نے اعمش سے معمر کی روایات کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ اور امام عبد الرزاق نے   معمر کی روایات  بیان کی ہیں ۔

تو عرض ہے اس میں بھی استثناء ہے ۔

جیسا کہ امام  کا ایک قول امام ابن عساکر روایت کرتے ہیں جسکو امام ابن رجب نقل کرتے ہیں:
وقال ابن عسكر: سمعت أحمد يقول: أحاديث معمر عن الأعمش التي يغلط فيها ليس هو من عبد الرزاق إنما هو من معمر، يعني الغلط.
ابن عسکر نے کہا: میں نے امام احمد کو یہ کہتے سنا  معمر کی وہ احادیث جو اس نے اعمش سے روایت کی ہیں اور جن میں وہ غلطی کرتا ہے، وہ عبدالرزاق کی طرف سے نہیں، بلکہ خود معمر کی طرف سے ہیں — یعنی غلطی معمر کی ہے۔

تو اسکا جواب خود امام معمر سے ثابت ہے ۔
جیسا کہ امام فسوی نقل کرتے ہیں :
حدثنا زيد بن المبارك عن محمد بن ثور ,عن معمر قال: سقطت مني صحيفة الأعمش فإنما أتذكر حديثه وأحدث من حفظي.
معمر نے کہا:اعمش کی صحیفہ (تحریر) مجھ سے گم ہو گئی تھی، تو میں اس کی حدیثیں یاد سے یاد کرتا ہوں اور حفظ سے بیان کرتا ہوں۔
]المعرفہ والتاریخ وسندہ صحیح[

یہی وجہ ہے کہ اعمش کی چونکہ کتب گپ ہو چکی تھیں امام معمر سے اس لیے امام عبد الرزاق نے ان فقط اعمش کے طریق سے روایات کو انکے حفظ سے محفوظ کیا۔
اسکے علاوہ امام معمر سے امام عبد الرزاق کی روایات اصح ہوتی ہیں کیونکہ انہوں نے امام معمر کی کتب سے روایات کو نقل کیا ۔ اور وہ خود بھی یمنی تھے۔

تحقیق: اسد الطحاوی