أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَكّٰٮهَا ۞

ترجمہ:

جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا

پھر فرمایا :

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰہَا۔ وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰہَا۔ (الشمس : ٩۔ ١٠)

جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔ اور جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے آلودہ کرلیا وہ ناکام ہوگیا۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر اور شر کے دونوں راستے دکھا دیئے اور اس کو یہ اختیار دیا کہ وہ خیر اور شر میں جس راستے کو پسند کرے، اس کو اختیار کرے، پھر وہ جس فعل کو اختیار کرے، اللہ تعالیٰ اس میں وہی فعل پیدا کردیتا ہے اور یہی اہل سنت و جماعت کا مسلک ہے، اس کے بر خلاف معتزلہ کا یہ مسلک ہے کہ انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے، اور جبریہ کا یہ مسلک ہے کہ انسان کو کوئی اختیار نہیں ہے وہ مجبور محض ہے، اللہ تعالیٰ جو فعل چاہتا ہے وہ اس میں پیدا کردیتا ہے، جبریہ کا مسلک اس لیے باطل ہے کہ اگر انسان مجبور محض ہو تو پھر اس کو مکلف کرنا صحیح نہ ہوگا اور انبیاء (علیہم السلام) کو مبعوث فرمانا اور میدان حشر میں حساب لینا، میزان قائم کرنا اور جنت اور دوزخ اور جزاء اور سزا کا سارا نظام بےمعنی اور عبث ہوجائے گا، اور معتزلہ کا مسلک اس لیے باطل ہے کہ انسان کو اپنے افعال کا خالق ماننا، قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف ہے :

وَ اللہ ُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (الصافات : ٩٦) اور اللہ نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو بھی۔

امام ابو منصور بن محمد ماتری سمر قندی متوفی ٣٣٣ ھ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

اس آیت کی حسب ذیل محامل ہیں :

اچھے اور برے کاموں کا علم غور و فکر کرنے سے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیان کرنے سے حاصل ہوتا ہے

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کا فجور اور تقویٰ بیان فرما دیا اور اس کی تعلیم دے دی، بعض لوگوں کا یہ زعم ہے کہ تمام نیکیوں خلقہ بدیہی ہیں، وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دے دی ہے کہ اس نے انسان کو اس کے فجور اور اس کے تقویٰ کی تعلیم دے دی ہے اور اس کی عقل میں ایسا نور رکھ دیا ہے جس سے وہ بری چیز کی برائی اور ہر اچھی چیز کی اچھائی کو پہچان لیتا ہے۔

ہمارے ( اہل سنت و جماعت) کے نزدیک قاعدہ یہ ہے کہ انسان تمام چیزوں کی اچھائی اور برائی کو ہدایت عقل سے پہچانتا ہے، لیکن عقول ہر چیز کی اچھائی اور برائی کو نہیں پہچان سکتیں اور اس کی پہچان انسان کو غور و فکر کرنے سے ہوتی ہے اور بعض چیزوں کی اچھائی اور برائی صرف غور و فکر سے بھی نہیں ہوتی، اس کی معرفت صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم اور آپ کی تبلیغ سے ہوتی ہے، مثلاً صرف عقل کے غور و فکر سے ہمیں کیسے پہ چل سکتا ہے کہ جب سورت طلوع ہو رہا ہو یا سورج سر پر ہو تو اس وقت نماز پڑھنا حرام ہے یا جب انسان پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو تو اس وقت تیمم سے طہارت حاصل ہوجاتی ہے یا ہم عقل سے کیسے جان سکتے ہیں کہ فجر کی نماز کی دو رکعات ہیں اور ظہر، عصر اور عشاء کی چار رکعات ہیں اور مغرب کی تین رکعات اور اسی طرح نماز پڑھنے میں حسن اور اس کے خلاف نماز پڑھنا قبیح ہے۔

کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم اپنی طبیعت سے لذیذ اور نفع بخش چیزوں کی طرف راغب ہوتے ہو اور تکلیف دو اور درد انگیز چیزوں سے متنفر ہوتے ہو، اس طرح تم حسین اور خوب صورت چیزوں کو پسند کرتے ہو اور قبیح اور بد صورت چیزوں کو ناپسند کرتے ہو، بلکہ عقل سے ہی ان کے درمیان فیصلہ کرتے ہو، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے چیزوں کے حسن اور قبح کو جاننے کے لیے عقل میں صلاحیت اور تمیز رکھ دی ہے، لہٰذا ” فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا۔ “ ( الشمس : ٨) کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عقل میں ایسی قوت رکھ دی ہے، جو بری چیز کو اچھی چیز سے ممتاز کرتی ہے اور خبیث چیزوں کو طیب چیزوں سے اور گناہوں کی برائی کو اور عبادات کو حسن کو بیان کرتی ہے اور اس کی معرفت غور و فکر سے ہوتی ہے یا رسولوں کی تعلیم اور تبلیغ سے اور اسی بناء پر انسان کو مکلف کیا جاتا ہے۔

نیک کاموں کا الہام ان ہی لوگوں کو کیا جاتا ہے جو نیکی کی جدوجہد کرتے ہیں

اس آیت کا دوسرا محمل یہ ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے گناہوں سے بچنے اور نیک کاموں کے لیے جدوجہد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں تقویٰ کا الہام کردیتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا ط (العنکبوت : ٦٩ )

جو لوگ ہمارے سیدھے راستہ پر چلنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کو اپنے راستوں پر چلا دیتے ہیں۔

پس اللہ تعالیٰ نے نیکی کی کوشش کرنے والوں سے ہدایت پر پہنچانے کا وعدہ فرمایا ہے، نیز ارشاد فرمایا :

وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌط اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ ۔ (البقرہ : ١٨٦)

جب آپ سے میرے بندے میرا پوچھیں تو ( آپس کہیں) میں قریب ہوں، میں دعا کرنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں، جب دعا کرتا ہوں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کرنے کی اس طرح شرط کو بیان فرمایا :

فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ (البقرہ : ١٨٦) پس یہ بھی تو میرے حکم پر عمل کیا کریں۔

وَاَوْفُوْا بِعَہْدِیْٓ اُوْفِ بِعَہْدِکُمْ ج (البقرہ : ٤٠) تم مجھ سے کیا ہوا عہد پورا کرو، میں تم سے کیا ہوا عہد پورا کروں گا۔

اِنِّیْ مَعَکُمْط لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَیْتُمُ الزَّکٰوۃَ (المائدہ : ١٢)

بے شک میں تمہاری معاونت کے لیے ساتھ ہوں بہ شرطی کہ تم نماز قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔

ان آیات سے معلوم ہوا کہ جو دذات تقویٰ کا الہام کرتی ہے، وہی اپنے عہد کو پورا کرتی ہے، پس جب بندہ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کا پورا کرنے کے لیے کھڑا ہو تو اللہ عزوجل اس کو عبادات کے طریقے اور گناہوں سے بچنے کے راستے القاء اور الہام کردیتا ہے اور اس کے دل میں ڈال دیتا ہے۔

الہام سے مراد اچھے اور برے کاموں کا لزوم ہے

اس آیت کا تیسرا محمل یہ ہے کہ انسان کے لیے تقویٰ اور فجور کو لازم کردیتا ہے، پس اس کو تقویٰ کا ثواب ہوگا اور فجور کے ارتکاب سے عذاب ہوگا اور کسی شخص کی دوسرے شخص کے فجور سے گرفت نہیں کی جائے گی، اور اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ جب مجرد تقویٰ کا ذکر کیا جائے تو اس سے مراد تمام نیکیاں ہوتی ہیں اور جب تقویٰ کے ساتھ بر اور عطاء کے لفظ کا بھی ذکر کیا جائے تو پھر تقویٰ سے مراد ہوتا ہے : تمام حرام کاموں سے بچنا، جیسا کہ ان آیات میں ہے :

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی۔ وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ (اللیل : ٦۔ ٥)

اور جس نے اللہ کی راہ میں دیا۔ اور گناہ کرنے سے ڈرا اور نیک باتوں کی تصدیق کی۔

ان آیات کا معنی یہ ہے کہ اس نے ان تمام نیک کاموں کو کیا جن کی دنیا اور آخرت میں تحسین کی جاتی ہے اور ان تمام کاموں سے بچا، جن کی دنیا اور آخرت میں مذمت کی جاتی ہے۔

( تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٤٦٥۔ ٤٦٤، مؤسسۃ الرسالۃ، ناشرون، ١٤٢٥ ھ)

نیکی اور بدی کے الہام کے متعلق احادیث

حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مومن متقی کے دل میں اس کا تقویٰ ڈال دیا اور فاجر کے دل میں اس کا فجور ڈال دیا۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ٢٠ ص ٦٨، دارالفکر، بیرو ت، ١٤١٥ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی ” فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا۔ “ (تو آپ نے یہ دعا کی :

اللھم ات نفسی تقواھا وزکھا انت خیر من زکاھا انت ولیھا ومولاھا۔

اے اللہ ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطاء فرما اور اس کو پاک کر دے، تو سب سے عمدہ پاک کرنے والا ہے، تو اس کا ولی اور اس کا مولا ہے۔

ابو الاسووالد ولی بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمران بن حصین (رض) نے کہا کہ آج کل جو لوگ عمل کر رہے ہیں اور اس میں مشقت اٹھا رہے ہیں، کیا یہ وہ اعمال ہیں جو ان کے لیے مقدر ہوچکے ہیں اور ان کا فیصلہ ہوچکا ہے یا یہ از سر نو یہ کام کر رہے ہیں جس طرح ان کے نبی نے فرمایا ہے اور اس کی نبوت ان کے نزدیک دلیل سے ثابت ہوچکی ہے، میں نے کہا : نہیں ! یہ وہ اعمال ہیں جو ان کے لیے مقدر ہوچکے ہیں اور ان کا فیصلہ ہوچکا ہے، حضرت عمران نے کہا : تو پھر کیا یہ ظلم نہیں ہے ؟ جو الاسود نے کہا : پھر میں بہت زیادہ خوف زدہ ہوگیا، میں نے کہا : ہر چیز اللہ کی مخلوق ہے اور اس کی مملوک ہے اور اس کے زیر تصرف ہے، وہ اپنے کسی فعل پر جو اب دہ نہیں اور لوگوں سے ان کے ہر فعل کے متعلق سوال کیا جائے گا، پھر حضرت عمران نے مجھ سے فرمایا : اللہ تم پر رحم کرے، میں نے تم سے یہ سوال صرف اس لیے کیا تھا کہ میں تمہاری عقل کو آزمائوں۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٥٠، مسند احمد ج ٤ ص ٤٣٨، السنۃ رقم الحدیث : ١٧٤)

الشمس : ١٠۔ ٩ میں فرمایا : جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کر لیاوہ کامیاب ہوگیا۔ اور جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے آلودہ کرلیا وہ ناکام ہوگیا۔

” تزکیۃ “ اور ” تدسیۃ “ کا معنی اور ” تدسیۃ “ کے محامل

زکوٰۃ کا اصل معنی ہے : نمو اور زیادتی، جب کھیت لہلہانے لگتا ہے تو کہتے ہیں : ” زکا الزرع “ اور زکوٰۃ کا معنی ہے، تطہیر اور پاک کرنا، سو جو شخص گناہوں سے مجتنب رہا اور اس نے نیک کام کر کے اپنے صغائر معاف کرا لیے اور توبہ کر کے اپنے کبائر معاف کرا لیے، اس نے اپنے نفس کو پاک کرلیا اور اس کا تزکیہ کرلیا۔

دوسری آیت میں ” دساھا “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : کسی چیز کو دوسری چیز میں چھپانا، کسی چیز کو زمین میں دفن کردینا، چھپانا، گم نام کردینا اور اس آیت میں اس کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) جب لوگوں میں تنگی یا ضرورت ہو تو نیک لوگ اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہیں تاکہ فقراء ان کی طرف رجوع کریں اور بخیل خود کو چھپاتے ہیں تاکہ کوئی ضرورت مند ان سے سوال نہ کرسکے، گویا جس نے حق داروں کو ان کا حق نہیں پہنچایا، اس نے اپنے آپ کو گناہوں سے آلودہ کرلیا۔

(٢) جو شخص فاسق اور بدکار تھا، اس نے اپنے آپ کو صالحین میں شامل کرلیا تاکہ لوگ اس کو بھی نیک اور صالح سمجھیں۔

(٣) جس شخص نے اپنے آپ کو بد کاریوں اور فسق و فجور میں چھپالیا اور معصیت میں دفن کرلیا یا جس نے اپنے آپ کو گناہوں میں غق کرلیا اور سرکشی کے سمندر میں ڈوب گیا۔

(٤) جو شخص دائما گناہ کرتا رہا اور گناہ کاروں کی مجلس میں شریک رہا اور ان کا ہم پیالہ وہم نوالہ بنا رہا۔

(٥) جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت سے اعراض کرتا رہا اور گناہ کرتا رہا حتیٰ کہ وہ بھولا بسرا اور گم نام ہوگیا۔

جبر کی تقویت میں امام رازی کے دلائل

امام رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے جبریہ کی تائید میں لکھا ہے :

ہمارے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے گم راہ کردیا اور اس کو فسق و فجور میں مبتلا کر کے ہلاک کردیا، اس کا نفس ناکام ہوگیا اور گم نام ہوگیا ( امام رازی نے اللہ تعالیٰ کے لئے اضلال، اغواء اور افجار کے الفاظ لکھے ہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف ان الفاظ کی نسبت کرنے سے سخت اذیت اور تکلیف پہنچی ہے کیونکہ اغواء کی نسبت تو ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی طرف کی تھی، جب اس نے کہا : ” قال فما اغویتنی “ ( لاعراف : ٦) چونکہ تو نے مجھے گم راہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ امام رازی کی مغفرت فرمائے اور ان پر رحم فرمائے، وہ معتزلہ کا رد کرتے کرتے کہاں پہنچ گئے۔ )

پھر امام رازی لکھتے ہیں : الواحدی (رح) نے کہا ہے کہ گویا اللہ سبحانہ نے اپنی سب سے افضل مخلوق کی قسم کھا کر یہ فرمایا جس نے اپنے نفس کو پاک کرلیا، وہ آخرت میں کامیاب ہوگیا اور جس نے اپنے نفس کو رسوا کیا اس نے نقصان اٹھایا تاکہ کوئی شخص یہ گمان نہ کرے کہ انسان ہی اپنے نفس کی تطہیر کا خالق ہے اور وہی اپنے نفس کو گناہوں سے ہلاک کرتا ہے اور اس سے پہلے کوئی تقدیر نہیں ہے اور نہ کوئی قضاء ہے، یعنی اس سے پہلے اللہ کو کسی چیز کا علم تھا اور نہ اس نے اس کے موافق کسی حکم کو کیا۔ ( تفسیر کبیر ج ١ ص ١٧١، احیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

ہم کئی بار لکھ چکے ہیں کہ تقدیر کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ انسان کو جب اختیار دیا جائے گا تو وہ اپنے اختیار سے نیک کام کرے گا یا گناہ کرے گا، پھر وہ جس کام کو اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں وہی کام پیدا کردیتا ہے اور شقی یا سعید ہونے کے متعلق اپنے حکم کو نافذ کردیتا ہے اور یہی قضاء و قدر ہے، اس کا علم سابق قدر اور تقدیر ہے اور اس کے مطابق حکم کو نافذ کرنا قضاء ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ ایک شخص کی مدت بیس سال ہے، یہ تقدیر ہے اور بیس سال پورے ہونے پر اللہ تعالیٰ اس کی موت کا حکم نافذ فرما دیتا ہے، یہ اس کی قضاء ہے۔

امام رازی نے یہ کہا ہے کہ انسان کے اختیار کا کوئی خالق ہے یا نہیں، اگر اس کا کوئی خالق نہیں ہے تو پھر یہ دہریوں کا نظریہ ہے اور اگر اس اختیار کا خالق انسان ہے تو یہ اس لیے باطل ہے کہ خالق کے لیے ضروری ہے کہ وہ واجب اور قدیم ہو، ممکن اور حادث کسی چیز کا خالق نہیں ہوسکتا اور اگر انسان کے اختیار کا خالق اللہ ہے تو پھر ہمارا مقصود ثابت ہوگیا کہ انسان کا نیکی یا بد اللہ تعالیٰ کرتا ہے اور یہی جبر ہے۔ صاحب عقل اپنا تجربہ کر کے دیکھ لے، کیونکہ انسان بعض اوقات کسی چیز سے بالکل غافل ہوتا ہے، پھر اچانک اس کے دل میں کسی کی صورت آتی ہے، پھر اس کام کی طرف اس کا دل مائل ہوتا ہے، پھر اس کام کے حصول کے لیے اس کے اعضاء اور اعصاب حرکت میں آتے ہیں اور پھر انسان اس فعل کو حاصل کرلیتا ہے، پس انسان کا کسی بھی فعل کرنا خواہ وہ نیک ہو یا بد، اس تحریک اور شوق کے بعد ہوتا ہے، جو اس کے دل میں اچانک پیدا ہوتی ہے اور اس تحریک اور شوق میں اس کا کوئی اختیار اور دخل نہیں ہوتا اور یہی جبر ہے۔ ( تفسیر کبیر ج ١١ ص ١٧٧، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام رازی کے دلائل کے جوابات عقلی دلائل سے

جبر کی تایید میں امام رازی کی یہ دلیل بہت قوی ہے، میں آج صبح نماز فجر کے بعد اس پر غور کرتارہا، پھر جو کچھ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں القاء کیا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں اختیار کی دو قسمیں ہیں : ایک تو مطلق اور کلی اختیار ہے جو اللہ تعالییٰ نے ہر انسان کو عطاء فرمایا بلا شبہ اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس سے جبر لازم نہیں آتا اور ایک کسی مخصوص اور جزی کام کو کرنے کا اختیار ہے، مثلاً آج ظہر کی نماز پڑھنا یا نہ پڑھنا، اس اختیار کو انسان صادر کرتا ہے اور اس سے انسان کا خالق ہونا لازم نہیں آتا کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی عقل سے غور و فکر اور سوچ و بچار کرتا ہے اور اس کے بعد نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے میں سے کسی ایک جانب کو اختیار کرتا ہے اور چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی عقل کا ثمرہ ہے، اس لیے اس اختیار کے صدور سے انسان کا خالق ہونا لازم نہیں آتا۔

امام رازی نے فرماتا ہے : انسان بالکل غافل ہوتا ہے، پھر اچانک اس کے دل میں کسی اچھے یا برے کام کی صورت آتی ہے اور اس صورت کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے حصول کے لیے انسان کے اعضاء اور اعصاب حرکت میں آتے ہی حتیٰ کہ وہ اس صورت کو حاصل کرلیتا ہے اور یہی جبر ہے۔ امام رازی نے جبر کی اس تقریر میں ایک اہم مقدمہ کی طرف توجہ نہیں کی اور وہ یہ ہے کہ جب انسان کو مثلاً کسی گناہ کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے تو فوراً ہی اس گناہ کے حصول کے لیے اس کے اعضاء اور اعصاب حرکت میں نہیں آتے بلکہ اس سے پہلے ایک مرتبہ عقل کے غور اور فکر کا ہے، انسان اس برائی کی دنیاوی خرابی اور اخروی عذاب سے غور کرتا ہے اور اس کی عقل اس کو گناہ کے ارتکاب سے روکتی ہے، اگر انسان اپنی عقل سلیم کے منع کرنے اور ضمیر کی ملامت سے باز آجاتا ہے تو یہ اس کا تقویٰ ہے اور اگر وہ اپنی عقل اور ضمیر کی آواز کو نہیں مانتا اور اپنی خواہش کے آگے سر جھکا دیتا ہے تو یہ اس کا ” الفجور “ ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو برائی سے روکنے کے لیے عقل دی تھی، اس لیے عقل کے روکنے کے باوجود اس کا معصیت اور گناہ کا ارتکاب کرلینا، کسی طرح بھی جبر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ اس تہمت سے پاک ہے کہ وہ انسان کو گناہ پر مجبور بھی کرے، پھر اس گناہ پر اس کو سزا بھی دے۔

ہم نے جو یہ کہا ہے کہ کسی گناہ کے ارتکاب سے پہلے اس کی عقل اس کو اس گناہ سے روکتی ہے، اس کے ثبوت میں قرآن اور سنت سے حسب ذیل دلائل ہیں :

امام رازی کے دلائل کے جوابات، قرآن مجید کی آیات سے

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّـہٗ عَیْنَیْنِ ۔ وَلِسَانًا وَّشَفَتَیْنِ ۔ وَہَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ ۔ فَـلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ ۔ (البلد : ٨۔ ١١)

کیا ہم نے انسان کے لیے دو آنکھیں نہیں بنائیں۔ اور زبان اور دو ہونٹ نہیں بنائے۔ اور ہم نے اس کو ( خیر اور شر کے) دو راستے دکھا دیئے۔ پھر وہ ( گناہ کو ترک کرنے اور نیکی کرنے کی) دشوار گھاٹی پر نہیں چڑھا۔

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ ۔ (القیامہ : ١٤۔ ١٥)

بلکہ ہر انسان کو اپنے نفس پر بصیرت ہے۔ خواہ اپنے کتنے ہی عذر پیش کرے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ ۔ (الاعراف : ٢٠١)

بے شک جب متقی لوگوں کو شیطان گناہ کی صورت دکھاتا ہے تو وہ اللہ کی یاد کرتے ہیں، پھر یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔

یعنی وہ گناہ کی صورت کی ترغیب پر فوراً اس کے حصول کے در پے نہیں ہوتے بلکہ اس گناہ کے عواقب اور نتائج پر غور کرتے ہیں، پھر ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور وہ گناہ کا ارادہ نہیں کرتے۔

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِ اللہ ِط اِنَّہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (الاعراف : ٢٠٠)

( اے مخاطب ! ) جب شیطان تم کو کوئی وسوسہ ڈالے ( تمہارے دل میں گناہ کی صورت القاء کر کے اس کی طرف مائل اور راغب کرے) تو تم اللہ کی پناہ طلب کرو (اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “ پڑھو) بیشک وہ بہت سننے والا، بےحد جاننے والا ہے۔

اس آیت میں بھی یہی تعلیم دی ہے کہ جب تمہارے دل میں گناہ کرنے کا شوق پیدا ہو اور اس کی تحریک ہو تو فوراً اس کے حصول کے در پے نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل سے کام لو، غورو فکر کرو اور شیطان کے ڈالے ہوئے وسوسہ اور گناہ کی صورت کو دل سے نکالنے کے لیے ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “ پڑھو، اس طرح گناہ کی طرف سے تمہاری توجہ ملے گی۔ اور تم گناہ سے باز آجائو گے۔۔

امام رازی کے دلائل کے جوابات احادیث سے

احادیث سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں جیسے ہی گناہ کی صورت آتی ہے اور اس کا شوق اور اس کی تحریک ہوتی ہے تو وہ فوراً اس پر عمل نہیں کرتا بلکہ غور و فکر کر کے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے یا اس کو ترک کردیتا ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ کتنی مرتبہ ہمارے دل میں برے وسوسے آتے ہیں اور ہم ان پر عمل نہیں کرتے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے سینوں میں جو وسوسے آتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان سے در گزر فرما لیا ہے بہ شرطی کہ وہ اس وسوسہ کے موافق عمل نہ کریں یا کلام نہ کریں۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٥٢٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٢۔ ١٢٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٢٠٩، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١١٨٣، سنن نسائی رقم الحدیث، ٣٤٤٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٤٠، مسند احمد ج ٢ ص ٣٩٣)

علامہ اشرف الدین حسین بن محمد الطبی متوفی ٧٤٢ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

انسان کے دل میں اچانک جن کاموں کی صورتیں آتی ہیں، اگر وہ زائل اور معاصی کی طرف راغب کریں تو وہ وسوسہ ہے اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کی طرف راغب کریں تو وہ الہام ہے۔

واضح رہے کہ ایک وسوسہ غیر اختیاری ہوتا ہے اور دوسرا اختیاری ہوتا ہے، غیر اختیاری وہ ہے جو انسان کے دل میں ابتداء ً اور اچانک آئے اور انسان اس کے دفع کرنے پر قادر نہ ہو، اس قسم کا وسوسہ تمام امتوں سے معاف ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا (البقرہ : ٢٨٦) اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا۔

اور وسوسہ اختیاری ہے کہ انسان کے دل میں کسی ناجائز کام کی صورت آئے اور وہ اس کو اپنے دل میں جما لے اور اس کے موافق عمل کرنے کی کوشش کرے اور اس کام کے تصور سے لذت حاصل کرے، جیسے انسان کے دل میں کسی اجنبی عورت کے ساتھ ناجائز خواہش کی صورت آئے اور وہ اس کو دل میں جما لے اور اس کام کو کرنے کا منصوبہ بنائے، اسی طرح اور گناہوں کی صورتیں ہیں، تو جب تک وہ اس گناہ کو کرنے کا عزم نہ کرے یا اس پر عمل نہ کرے تو یہ وسوسہ خصوصاً اس امت کے لیے معاف ہے، علامہ نواوی نے کہا : جب کوئی انسان اپنے دل میں گناہ کا عزم کرے اور اس کو کرنے کا پکا ارادہ کرے تو وہ اپنے اعتقاد میں اور عزم میں گناہ گار ہوگا، جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے : جب میرا بندہ گنا کا ہم ( غیر پختہ ارادہ) کرے تو اس کے گناہ کو نہ لکھو اور اگر وہ اس پر عمل کرے تو اس کا ایک گناہ لکھ لو۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٢٨ )

( الکاشف عن حقائق السنن ج ١ ص ٢٠٠۔ ١٩٩، ادارۃ القرآن، کراچی، ١٤١٣ ھ)

اس حدیث اور اس کی شرح سے واضح ہوگیا کہ انسان وسوسہ آتے ہی فوراً گناہ نہیں کرتا بلکہ کبھی اس پر عمل کرتا ہے اور کبھی اس پر عمل نہیں کرتا۔

حضرت نواس بن سمعان (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نیکی اور گناہ کے متعلق سوال کیا، آپ نے فرمایا : نیکی عمدہ خلق ہے اور گناہ وہ کام ہے جو تمہارے دل میں کھٹک رہا ہو اور تم اس کو ناپسند کرو کہ لوگ اس کام پر مطلق ہوں۔ ( مطلق مسلم رقم الحدیث : ٢٥٥٣، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٨٩)

دل میں کھٹکنے کا معنی یہ ہے کہ انسان اس کام کے متعلق متردو ہو اور اس کام کے درست ہونے کے متعلق اس کو شرح صدر نہ ہو اور اس کے دل میں شک ہو اور اس کو یہ خوف ہو کہ یہ کام گناہ ہوگا۔ اس حدیث سے آفتاب سے زیادہ روشن ہوگیا کہ دل میں کسی برے کام کی صورت آتے ہی انسان اس پر عمل نہیں کرتا، بلکہ اس پر غور و فکر کرتا ہے، اگر اس پر منکشف ہوجائے کہ یہ کام گناہ ہے اور اس پر خوف خدا کا غلبہ ہو تو وہ اس کام کو ترک کردیتا ہے اور اگر وہ شہوت میں ڈوبا ہوا ہو تو وہ اس گناہ کا ارتکاب کرلیتا ہے اور یہی اس آیت کا معنی ہے :

فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا۔ (الشمس : ٨) پس انسان کے نفس کو اس کی بدکاری اور اس سے بچنے کا طریقہ سمجھا دیا۔

الحمد للہ ! ہماری اس تقریر سے وہ دلیل ساقط ہوگئی، جس سے امام رازی نے یہ ثابت کیا تھا کہ انسان اپنے افعال اختیار یہ میں مجبور ہے اور اس کا معاذ اللہ یہ معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ خود انسان کو گناہ پر مجبور کرتا ہے اور خود ہی اس کو سزا دیتا ہے، سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ اس ظلم سے پاک اور مبرا اور منزہ ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 91 الشمس آیت نمبر 9