كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰٮهَآ سورۃ نمبر 91 الشمس آیت نمبر 11
sulemansubhani نے Thursday، 7 August 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰٮهَآ ۞
ترجمہ:
قوم ثمود نے اپنی سرکشی کے سبب ( اپنے رسول کو) جھٹلایا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قوم ثمود نے اپنی سرکشی کے سبب ( اپنے رسول کو) جھٹلایا۔ جب ( اس قوم کا) سب سے بدبخت اٹھا۔ سو اللہ کے رسول نے ان سے کہا : اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی حفاظت کرو۔ انہوں نے اپنے رسول کو جھٹلایا اور اس ( اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں، تو ان کے رب نے ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو ہلاک کر کے ان کی بستی کو ہم وار کو دیا۔ اور ان سے انتقام لینے سے اسے کوئی خوف نہیں ہے۔ ( الشمس : ١٥۔ ١١)
قوم ثمود کی سرکشی اور اس کا عذاب
اس آیت میں ” طغویٰ “ کا لفظ ہے ” طغوی “ کا معنی ہے : معصیت میں حد سے تجاوز کرنا، یعنی انہوں نے اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے رسول کی سرکشی کی، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا :’ ’ طغویٰ “ سے مراد ہے : ان کا عذاب یعنی ان کو جس عذاب سے ڈرایا گیا تھا، انہوں نے اس عذاب کی تکذیب کی، درج ذیل آیتوں میں عذاب پر طغیان کا اطلاق فرمایا ہے۔
کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَعَادٌم بِالْقَارِعَۃِ ۔ فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُھْلِکُوْا بِالطَّاغِیَۃِ ۔ (الحاقہ : ٤۔ ٥)
ثمود اور عاد نے اس کھڑ کھڑانے والی کو جھٹلایا تھا۔ رہے ثمود تو وہ بہت خوف ناک آواز ( طاغیہ) سے ہلاک کردیئے گئے۔