أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰٮهَا ۞

ترجمہ:

اور آسمان کی قسم ! اور جس نے اس کو بنایا

الشمس : ٥ میں فرمایا : اور آسمان کی قسم ! اور جس نے اس کو بنایا۔

” وما بناھا “ میں ” ما “ سے مراد ” من “ ہونے کی توجیہ

زجاج نے کہا : اس آیت میں لفظ ” ما “ الذی “ کے معنی میں ہے، ہرچند کہ ” ما “ کی وضع غیرذوی العقول کے لیے ہے لیکن کبھی اس کا مجاز اً استعمال ذوی العقول کے لیے بھی ہوتا ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں ” ما “ ، ” من “ کے معنی میں ہے اور دونوں تاویلوں کے اعتبار سے یہ قسم اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے، پہلی تاویل کے اعتبار سے معنی اس طرح ہے، سورج، چاند، دن، رات اور آسمان بنانے والے کی قسم ! اور دوسری تاویل کے اعتبار سے معنی اس طرح ہے : اور آسمان کی قسم اور جس نے اس کو بنایا۔ ( تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٤٦٥ )

اس آیت میں لفظ ” ما “ ” من “ کے معنی میں ہے، اس کی دوسری مثال اس آیت میں ہے :

وَلَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ (النسائ : ٢٢) اور تم ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نے نکاح کیا ہے۔

رہا یہ سوال کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لفظ ” ما “ کو کیوں استعمال فرمایا اور لفظ ” من “ کو کیوں استعمال نہیں فرمایا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اللہ عزوجل لفظ ” من “ استعمال فرماتا تو اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات مراد ہوتی یعنی آسمان کی قسم اور جس ذات نے آسمان کو بنایا اور لفظ ” ما “ سے اللہ تعالیٰ کی صفت کی طرف اشارہ ہے، یعنی آسمان کی قسم ! اور اس عظیم چیز کی قسم جو اس آسمان کو بنانے پر قادر ہے۔