أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا  ۞

ترجمہ:

اور ان سے انتقام لینے سے اسے کوئی خوف نہیں ہے  ؏

 

الشمس : ١٥ میں فرمایا : اور ان سے انتقام لینے سے اسے کوئی خوف نہیں ہے۔

اس آیت کے دو اور محمل ہیں :

(١) اللہ کے رسول حضرت صالح (علیہ السلام) کو اپنی قوم کے ہلاک ہونے کا کوئی خوف نہیں تھا اور نہ ان کو یہ خطرہ تھا کہ اس قوم پر عذاب آنے سے ان کو کوئی نقصان پہنچے گا، کیونکہ وہ اپنی قوم کو پہلے ہی عذاب سے ڈرا چکے تھے اور عذاب کے وقت اللہ تعالیٰ نے ان کو نجات دے دی تھی۔

(٢) جب قوم کا سب سے بدبخت قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اٹھا اور اس کو اپنے انجام کا کوئی خوف نہیں تھا۔

یہ دونوں معنی بھی تقدیم، تاخیر سے ہوسکتے ہیں لیکن مربوط معنی پہلا ہے کہ اللہ نے قوم ثمود سے انتقام لیا اور اس کو ان سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔

سورۃ الشمس کی تفسیر کی تکمیل

الحمد للہ رب العٰلمین ! آج پندرہ رمضان ١٤٢٦ ھ/٢٠ اکتوبر ٢٠٠٥ ء بہ روز جمعرات بہ وقت سحر سورة الشمس کی تفسیر مکمل ہوگئی، اے میرے رب ! آپ نے اپنے فضل اور احسان سے یہاں تک تفسیر مکمل کرا دی ہے، اپنے کرم سے قرآن مجید کی باقی سورتوں کی تفسیر بھی مکمل کرا دیں، میرے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرما دیں اور دنیا اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھیں۔ میرے والدین کی، میرے اساتذہ کی، میرے احباب، میرے تلامذہ، میرے قارئین اور اس کتاب کے معاونین کی اور میرے مخلص اور محب معاونین کی خصوصاً شیخ نجیب الدین صاحب کی مغفرت فرمائیں اور مجھے ان سب کو دنیا اور آخرت میں سرخ رو رکھیں، عزت کے ساتھ زندہ رکھیں اور عزت کی موت عطاء فرمائیں اور اس کتاب کو قیامت تک فیض آفریں اور مقبول رکھیں۔

امین یا رب العٰلمین و صلی اللہ تعالیٰ علی حبیبہ سیدناو مولانا وملجانا وشفیعنا محمد و علیٰ آلہ و اصحابہ وازواجہ وعترتہ وامتہ اجمعین۔

القرآن – سورۃ نمبر 91 الشمس آیت نمبر 15