أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰٮهَا ۞

ترجمہ:

اور نفس کی قسم ! اور جس نے اس کو درست بنایا

الشمس : ٧ میں فرمایا : اور نفس کی قسم ! اور جس نے اس کو درست بنایا۔

نفس انسان کی قسم سے مراد انسان کامل سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قسم ہے

اس سے پہلے مفرد چیزوں کی قسم کھائی تھی، جیسے سورج، چاند، آسمان اور زمین اور اب اس چیز کی قسم کھائی جو عناصر اربعہ سے مرکب ہے اور وہ نفس انسان ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نفس سے مراد انسان کا جسم ہوا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نفس سے مراد نفس ناطفہ یاقوت مدبر و ہوا، اگر اس سے مراد انسان کا جسم ہے تو اس کو درست بنانے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعضاء کو معتدل اور متوسط بنایا اور ہر عضو کو اس کی مناسب جگہ رکھا، مثلاً دماغ جو پورے جسم کا حاکم ہے، اس کو سر میں رکھا، جو جسم میں سب سے اوپر ہے اور دل جس پر حیات کا مدار ہوتا ہے اس کو جسم کے وسط اور سینہ میں رکھا، اور بول و براز کو مثانہ اور بڑی عزت میں رکھا جو پیٹ کے نچلے حصہ میں ہے اور یہ بہت حکیمانہ تدبر ہے۔

اس آیت میں نفس کو نکرہ ذکر کیا ہے، اس کے دو محمل ہیں یا تو اس سے نفس کامل مراد ہے یا عام نفس مراد ہے، اگر نفس کامل مراد ہے تو وہ نفس قدسیہ نبویہ ہے، کیونکہ ہر کثرت کسی وحدت کے تابع ہوتی ہے اور وہ فرد واحد ان کثیر کا رئیس ہوتا ہے اور عناصر مرکبہ کے تحت کئی انوار میں اور اقسام ہیں اور ان کا رئیس حیوان ہے اور حیوان کا تحت کئی انواع ہیں اور ان کا رئیس انسان ہے اور انسان کے بہت افراد ہیں اور ان کا رئیس نبی ہے اور نبی کے ایک لاکھ چوبیس ہزار افراد ہیں اور ان کے رئیس نبی الانبیاء سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے مفردات اور عناصر کی قسم کھانے کے بعد مقصود کائنات اور خلاصہ موجودات، فخر آدم و بنی آدم سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قسم کھائی ہے۔

نفس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ اس سے عام نفس مراد ہو اور اس سے مراد نفس انسان ہے، کیونکہ تمام نفوس میں انسان ہی اشرف المخلوقات ہے اور نفس انسان کے عموم کی مرادہونے پر یہ آیت قرینہ ہے :

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ اَحْضَرَتْ ۔ (التکویر : ١٤) اس دن ہر شخص جان لے گا جو کچھ لے کر آیا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 91 الشمس آیت نمبر 7