جب طاہر القادری میرے کلاس فیلو تھے
مولانا طاہر القادری کے امام ابو حنیفہؒ کے دروان شاگردی مشہور کالم نگار عطا الحق قاسمی نے انکشاف فرمایا ہے کہ انہی دنوں(عالم رویاء میں) وہ بھی اور مولانا طاہر اشرفی بھی امام صاحبؒ کے شاگرد تھے وہ یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ:

جب طاہر القادری میرے کلاس فیلو تھے!
آج انکشاف کررہا ہوں اور قادری صاحب کو شاید یاد ہوکہ امام ابوحنیفہ سے حصول تعلیم کے دوران میں ان کا کلاس فیلو تھا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ امام ابوحنیفہ اکثر بھری کلاس میں قادری صاحب کو مرغا بناکر ان کی کمر پر علامہ طاہر اشرفی کو لاد دیا کرتے تھے جس پر ان کی چیخیں نکل جاتی تھیں، دراصل یہ جھوٹ بہت بولتے تھے اور کئی دفعہ بلاوجہ بھی بولتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے امام صاحب سے کہا کہ آپ کو علم ہے میں امام حسین کی معیت میں یزیدی لشکر کے خلاف لڑا تھا اور شہادت کا درجہ پایا تھا۔ اس بار قادری صاحب کی یہ بات سن کر امام ابو حنیفہ غصے میں نہیں آئے بلکہ انہوں نے مسکراکر کہا ” شہادت کا درجہ پانے کے بعد پھر تم زندہ کیسے ہوئے جس کا ترت جواب قادری صاحب نے یہ دیا ” آخر حضرت عیسی علیہ السلام بھی تو قیامت کے قریب دوبارہ تشریف لائیں گئے اس پر امام نے ایک بار پھر قادری صاحب کو مرغا بنے کو کہا اور علامہ طاہر اشرفی کو ان کی کمر پر بٹھا دیا۔