پانی پر چلنے والے بابے

محدث جلیل امام طبرانی متوفی 360ھ لکھتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علاء الحضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین کی جانب بھیجا تو میں بھی ان کے ہمراہ ہولیا ، میں نے ان میں تین عادتیں دیکھیں ، میں نہیں جانتا کہ ان میں کون سی عادت زیادہ تعجب خیز ہے ۔

1- ہم دریا کے کنارے پر پہنچے تو انہوں نے کہا : اللہ کا نام لو اور بے خطر دریا میں کود پڑو ، ہم نے بسم الله الرحمن الرحیم پڑھی اور دریا میں کود گئے ، ہم پورا دریا عبور کر گئے ، ہمارے اونٹوں کے تلووؤں کے سوا کوئی چیز گیلی نہیں ہوئی تھی۔

2- جب ہم واپس ہوئے تو ہم ان کے ہمراہ ایک چٹیل میدان میں تھے ہمارے پاس پانی نہیں تھا ، ہم نے پانی نہ ہونے کی اُن سے شکایت کی ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی پھر اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا مانگی ، اچانک ڈھال کی مانند بادل کا ایک ٹکڑا آیا ، پھر اس نے موسلا دھار بارش برسائی ، ہم نے خوب پیٹ بھر کر پانی پیا ، جانوروں کو بھی پلایا۔

3- وہ وہیں انتقال کر گئے ۔ ہم نے ریت میں ان کو دفن کر دیا ، ہم وہاں سے روانہ ہو گئے ، ابھی زیادہ دور نہیں گئے تھے ، ہم نے سوچا ایسا نہ ہو کہ کوئی درندہ ان کو کھا جائے ، یہ سوچ کر ہم واپس پلٹے لیکن ان کا جسم مبارک ہمیں نہیں ملا۔

(معجم صغیر للطبرانی رقم 400)

اس روایت سے حضرت علاء حضرمی کی تین کرامات ظاہر ہوئیں ۔
پانی پر چلنا بلکہ اپنے جانوروں سمیت چلنا ۔
آپ کی دعا سے آسمان سے پانی کا برسنا ۔
آپ کے جسمِ مبارک کا بعد از وصال غائب ہوجانا ۔

مرزا انجینئر اور اُس کے پیروکار اولیاء اللہ کی پانی پر چلنے والی کرامات کا مذاق اڑاتے ہیں بلکہ ان شیطانوں نے تو اس پر خاکے اور میمز وغیرہ بنا رکھی ہیں ۔

تو ایسوں کو بتائیں کہ تم تو صرف بابوں کے پانی پر چلنے کے باتیں کرتے ہو ، یہاں ہمارے باباجی حضرت علاء حضرمی رضی اللہ عنہ و دیگر صحابہ کرام نے اپنے جانوروں کو پانی پر چلا دیا ۔۔۔۔۔۔

✍🏻ارسلان احمد اصمعی قادری
7/9/25ء