تحریکِ لبیک:  مِلی اضطراب کا عکس یا سیاسی بصیرت کا فقدان؟
از: محمد افتخار الحسن

سنہ2016 ء کی بات ہے، جب تحریکِ لبیک پاکستان (TLP) اپنے بانی علیہ الرحمہ  کی مسحور کن قیادت میں پوری آب و تاب سے منظرِ عام پر جلوہ گر تھی، تو اہلِ فکر و نظر نے اسی وقت یہ خدشہ ظاہر کر دیا تھا کہ اس کا انجام کہیں ماضی کی نفاذِ شریعت کی حامل تحاریک، بالخصوص “تحریک نفاذِ شریعت محمدی” اور اس کے بانی صوفی محمد کی حکمتِ عملی کا اعادہ نہ ہو۔ اس تعمیری انتباہ پر ہم نے اس وقت لعن طعن اور دشنام طرازی کا سامنا کیا، گویا یہ پیش گوئی ہماری ذاتی خواہش تھی۔۔۔ نہیں یہ ہماری مخلصانہ تنبیہ تھی، جسے سیاسی بصیرت کی کسوٹی پر پرکھا گیا تھا۔ گزرے آٹھ سے دس برسوں میں اس تحریک کی “کارکردگی” کا مختصر جائزہ آج اس سچائی پر مہر تصدیق ثبت کر رہا ہے۔

گزشتہ دو عام انتخابات میں اس جماعت نے ملک گیر سطح پر غیر معمولی تعداد میں ووٹ سمیٹے ہیں، جو اس کی عوامی حمایت و طاقت کی بہترین عکاسی ہے۔ جب چاہیں، یہ جماعت ایک جنبش میں ملک بند کر سکتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس تمام تر طاقت اور عوامی حمایت کا حاصل کیا ہے؟
گزشتہ سندھ اسمبلی میں محض ایک  حادثاتی نشست وہ بھی ان کے بے دھیانی کی وجہ سے آپ کو مل گئی تھی۔  اس واحد رکن کا پانچ سالہ دور محض “رٹی رٹائی تقریر” اور سنگا پاڑنے میں گزری اور وہ  جذباتی نعروں کی گونج تک محدود رہے۔ ملکی معاملات، قانون سازی یا ریاستی نظم میں کسی بھی قسم کی ٹھوس اور قابلِ ذکر شمولیت عنقا رہی۔ موجودہ اسمبلیوں میں تحریک کی عدم موجودگی، انتخابات کی شفافیت کے دعوؤں کے باوجود، تحریک کی سیاسی بے اثری کا واضح ثبوت ہے۔

تحریک کی حالیہ ریلیوں اور بالخصوص خارجی امور سے مسلسل عدم واقفیت کے واقعات عقل و فہم سے ماورا ہیں۔ خصوصاً، جب فلسطینی اور حماس قیادت نے مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل کے حل کا راستہ ہموار کر لیا تھا، تو یہ بے وقت کی کود پھاند اور احتجاج کس “سیاسی حکمت” کے تحت تھا؟  عالمی سفارتی آداب اور ریاستوں کا داخلی قانون کسی بھی احتجاجی گروہ کو اپنے ملک میں موجود غیر ملکی سفارت خانوں تک رسائی کی اجازت نہیں دیتا۔ ایک کمزور اور خانہ جنگی  میں مبتلا  ریاست، صومالیہ، بھی بین الاقوامی معاہدات کے تحت سفارت خانوں کی حفاظت یقینی  بناتی ہے۔ ایسے میں ایک بڑی، مؤثر اور “علاقائی طاقت” کا حامل ملک پاکستان کیونکر اس قانون سے انحراف کرتا؟ اسلامی تعلیمات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ سفارت کاروں اور ان کے مستقرّات کو ہر حال میں تحفظ دیا جائے؛ یہ بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ہے۔

ہم کئی برسوں سے مسلسل یہ مؤقف پیش کرتے آئے ہیں کہ تحریک کو اپنے اندر “گفتگو” (Dialogue)،”سفارت کاری” (Diplomacy) اور “سیاسی بصیرت” (Political Acumen) کی صلاحیت پروان چڑھانی چاہیے۔ اتنی بڑی عوامی قوت، ایک منتشر، تِتر بِتر اور بکھری ہوئی بھیڑوں کی مانند  بے سود ہے۔ ملکی میڈیا پر کوئی مؤثر ترجمان میسر نہیں، کوئی ٹیم بین الاقوامی تعلقات کے فروغ کے لیے کوشاں نہیں۔ آپ امریکی سفارت خانے پر ہلہ بولنے کے بجائے، ایک سمجھ دار ٹیم تشکیل  دے کر انہیں سفارتی آداب کے ساتھ ملاقات کے لیے بھیجتے۔ اگر وہ آپ کے نکات کو یکسر مسترد کرتے، تب آپ جماعت اسلامی یا ادارۃ المصطفٰی کی طرز پرمنظم  اور”پر امن احتجاج کا راستہ اپناتے۔ مگر کسی بھی حالت میں غیر ملکی سفارت خانوں پر حملے یا ان کے سامنے احتجاج کی اجازت نہ ملکی آئین دیتا ہے اور نہ ہی  اسلامی شریعت۔
امریکہ، آسٹریلیا، یورپ اور برطانیہ کے بڑوں شہروں میں لاکھوں غیر مسلموں نے فلسطین کی حمایت میں جلوس نکالے، کوئی مالی و جانی نقصان نہیں۔ سینیٹر مشتاق احمد کا بیان سب سے بڑی دلیل ہے کہ فلوٹیلا کے شرکاء کی رہائیاں پاکستانی یا کسی اسلامی ملک کے دباؤ پر نہیں، بلکہ یورپی ممالک کے سیاسی کارکنان کے دباؤ اور عوام کے بائیکاٹ کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ آپ ایک ہی بار میں اٹھ کر سیدھا ایک ملک کے سفارت خانے پر ہی کیوں ہلہ بولنا چاہتے ہیں؟

تحریک کی قیادت کا یہ دفاع کہ وہ صرف نعرے لگانے اور واپس آنے کا ارادہ رکھتے تھے، ایک خطرناک تساہل و غلط فہمی ہے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ہجوم میں ایسے خون کے پیاسے انسان نما درندوں کی بڑی تعداد ہے جو جذباتی نعروں کی رو میں بہہ کر” من سب نبیا فاقتلوہ” کے نعرے کی آڑ میں کسی بھی فرد یا املاک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ تلخ حقیقت اب تاریخ کا حصہ اور”ثابت شدہ سچائی” ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ دنوں میں بھی “خون بہانے” اور “کاٹنے وڈنے” کی باتیں نِکے مُنڈے کی زبان سے سب نے سنیں، جس کی مغلظات ملکی اور غیر ملکی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

سرکاری، سفارتی اور عسکری حلقوں نے برسوں قبل ہمیں بتا دیا تھا کہ اس تحریک کو کوئی “خارجی دشمن” تباہ نہیں کرے گا، بلکہ یہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے پیروں پر کلہاڑی مار کر خود کو ہمارے سامنےدفن کرے گی۔  ایک اعلٰی سفارت کار کا قول تو آج بھی کانوں میں گونجتا ہے کہ “بریلوی مکتبِ فکر کے دشمن ان کے یہ دو لڑکے ہی کافی ہیں۔” حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کی محبت کے پیش نظر ہم خاموش رہے، مگر اب وقت نے ثابت کر دیا کہ جیسا کہا گیا تھا، ویسا ہی ہو رہا ہے۔

اگر تحریک لبیک پاکستان کو اس ملک میں ایک بااثر اور تعمیری سیاسی کردار ادا کرنا ہے اور اس نظام کی “اصلاح” کرنی ہے، تو سب سے پہلے اپنے رویوں میں اعتدال اور سنجیدگی لانی ہوگی۔ حقائق کے تناظر میں بات کرنا سیکھیں۔ ملکی معیشت کی اصلاح غوری میزائل کے نعروں سے نہیں، بلکہ عالمی پالیسیوں کے عمیق مطالعہ اور ٹھوس حکمتِ عملی کی تشکیل سے ممکن ہوگی۔ آپ کو میڈیا پر اپنی اچھی  ترجمانی کے لیے ذی فہم و فراست افراد تیار کرنے ہوں گے۔ دیگر سیاسی جماعتوں سے مکالمہ، سفارتی حلقوں تک رسائی، اور سفارتی انداز میں ملاقاتیں وقت کا تقاضا ہیں۔ اس تمام عمل کے دوران، آپ کو اپنے جوشیلے نعرے بازوں اورخون کے پیاسے افراد کو دور رکھنا ہوگا۔

بیرونی ممالک کا دورہ کریں، دیگر حکومتوں سے تعلقات استوار کریں۔ ایک مؤثرمیڈیا پالیسی ترتیب دیں۔ اپنے وسائل کا درست استعمال کریں۔  فروعی مسائل کو چھوڑ کر ملک و ملت کے اجتماعی مفاد کے لیے کام کریں۔ اور سب سے اہم یہ کہ قومی سلامتی کے اداروں، خصوصاً “جی ایچ کیو”کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنائیں۔ بصورتِ دیگر، یہ تحریک قوم کا قیمتی وقت، وسائل اور طاقت یوں ہی ضائع کرتی رہے گی۔

آپ کا مخلص و خیر اندیش
محمد افتخار الحسن
14 اکتوبر 2025

#Tlp #TLPUpdates #IHRIZVI