وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰٓىۙ – سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 3
sulemansubhani نے Saturday، 1 November 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰٓىۙ ۞
ترجمہ:
اور اس ذات کی ( قسم) جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا۔
اللیل : ٣ میں فرمایا : اور اس ذات کی (قسم) جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا ہے۔
نر اور مادہ کو پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی توحید کی نشانی
اس آیت میں تمام مخلوق کی قسم ہے، کیونکہ کوئی مخلوق نر اور مادہ سے خارج نہیں ہے، اور رہے مخنث تو وہ بھی نر کے ساتھ لاحق ہے، یہ اور بات ہے کہ ہمارے دور میں یہ لوگ زنانہ وضع کے ساتھ رہتے ہیں۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور توحید کی یہ نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک مخصوص پانی ( منی) سے پیدا کیا ہے اور ہمیشہ سے انسان اسی طرح پیدا ہو رہے ہیں، اگر یہاں متعدد خدا ہوتے تو ضرور ان کے پیدا کرنے کے طریقہ میں اختلاف ہوتا اور جب صدیوں سے انسان اس طریق واحد سے پیدا ہو رہے ہیں تو معلوم ہوا کہ ان کا پیدا کرنے والا بھی واحد ہے۔
اس کی تحقیق کہ حضرت ابن مسعود ” وما خلق الذکر والانثی “ کے بجائے ” والذکر والانثی “ پڑھا کرتے تھے۔
علاوہ ابو عبد اللہ محمد ابن احمد مالکی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :
قرأت متواترہ میں یہ آیت اسی طرح ہے :” وما خلق الذکر والانثی “ اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ اس آیت کو اس طرح پڑھتے تھے :” والذکر والانثی “ اور اس سے پہلے ” وما خلق “ نہیں پڑھتے تھے، حدیث میں ہے :
علقمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم شام میں گئے تو ہمارے پاس حضرت ابو الدرداء (رض) آئے تو انہوں نے کہا : تم میں سے کوئی ہے جو اس آیت کو حضرت عبد اللہ بن مسعود کی قرأت کے موافق پڑھتا ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! میں ہوں، انہوں نے کہا : تم نے حضرت ابن مسعود سے آیت کو کس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے ؟ میں نے کہا : حضرت عبد اللہ بن مسعود اس طرح پڑھتے تھے :” والیل اذا یغشی۔ والنھار اذا تجلی۔ “ حضرت ابو الداراء نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے، لیکن یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں اس طرح پڑھوں :” وما خلق الذکر والانثی “ اور میں ان کی اتباع نہیں کروں گا۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٤٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٢٤ )
ابو بکر الانباری نے کہا : اس قسم کی ہر حدیث مردود ہے اور اجماع کے خلاف ہے اور امام حمزۃ اور امام عاصم نے حضرت ابن مسعود سے اس آیت کی ایسی قرأت روایت کی ہے جو جماع کے موافق ہے اور جو سنداجماع کے موافق ہو، اس کو قبول کرنا اس سند سے اولیٰ ہے جو اجماع کے مخالف ہو، اور جس نے اس حدیث کو روایت کیا ہے، ہوسکتا ہے وہ بھول گیا ہو یا غافل ہو، اور اگر حضرت ابو الدرداء کی حدیث صحیح ہو اور اس کی سند مقبول اور معروف ہو، تب بھی حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) اس کی مخالف کرتے تھے، لہٰذا اس حدیث پر عمل کرنا چاہیے، جو صحابہ کی کثیر جماعت سے ثابت ہو اور اس کو چھوڑ دینا چاہیے جو کسی ایک صحابی کی روایت ہو کیونکہ ایک شخص کو تو نسیان ہوسکتا ہے لیکن پوری جماعت اور پوری ملت کو نسیان نہیں ہوسکتا۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ٢٠ ص ٧٣۔ ٧٢، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :
یہ قرأت صرف علقمہ اور حضرت ابو الدرداء سے منقول ہے، اور ان کے علاوہ لوگوں نے ’ ’ وما خلق الذکر والانثی “ کی تلاوت کی ہے، اور اسی پر سب کا اتفاق ہے، حالانکہ حضرت ابو الدرداء تک سند بہت قوی ہے، اور ہوسکتا ہے کہ ” والذکروالانثی “ کی تلاوت منسوخ ہوچکی ہو، اور یہ نسخ حضرت ابو الدرداء اور علقمہ تک نہ پہنچا ہو، تعجب اس پر ہے کہ حفاظ نے اس حدیث کی حضرت ابو الدرداء سے روایت کی لیکن کسی نے بھی اس کے موافق قرأت نہیں کی اور نہ اہل شام نے، اس سے بھی یہ بات قول ہوجاتی ہے کہ ” والذکر والانثی “ کی تلاوت منسوخ ہوچکی ہے۔
(فتح الباری ج ٩ ص ٧٢٤، دارالفکر، بیروت، ١٤٢١ ھ)
علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :
علامہ المازری نے کہا ہے کہ اس معاملہ میں اور ایسے دوسرے امور میں یہ اعتقاد رکھنا واجب ہے کہ پہلے یہ قرأت تھی، پھر منسوخ ہوگئی، اور جنہوں نے اس کی مخالفت کی، ان کو اس کے منسوخ ہونے کا علم نہیں ہوسکا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت ابو الدرداء نے ” والذکر والانثی “ کی قرأت اس وقت کی ہو جب ان کے پاس حضرت عثمان (رض) کا مصحف نہیں پہنچا تھا، اور اس پر اجماع ہے کہ اس میں سے ہر منسوخ التلاوت آیت کو حذف کردیا گیا ہے، اور جب حضرت عثمان (رض) کا مصحف ظاہر ہوگیا تو پھر کسی کے متعلق یہ گمان نہیں کیا جائے گا کہ کسی نے اس کی مخالفت کی ہو۔
( عمدۃ القاری ج ١٩ ص ٤٢٦، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)
حضرت ابن مسعود اور دیگر صحابہ کا موجودہ قرآن مجید کے خلاف پڑھنا اور ان کی توجیہات
میں کہتا ہوں کہ علامہ المازری کے اس مؤخر الذکر جواب سے اور بھی کئی اشکال دور ہوجاتے ہیں، مثلاً حضرت ابن مسعود (رض) کی طرف منسوب ہے کہ وہ سورة الفلق اور سورة الناس کے قرآن ہونے کا انکار کرتے تھے، اسی طرح حافظ سیوطی نے متعدد روایات کے حوالوں سے یہ ذکر کیا ہے کہ قرآن مجید میں دو اور سورتیں بھی تھیں، سورة الخلع اور سورة اور ان کو وتر کی تیسری رکعت میں سورة فاتحہ اور دوسری سورت ملانے کے بعد پڑھا جاتا تھا۔
امام محمد بن نصر اور امام طحاوی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) قنوت میں یہ دو سورتیں پڑھتے تھے :” اللھم ایاک نعبد “ اور ” اللھم انا نستعینک “۔
قنوت کے جس حصہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء ہے، اس کو سورة الحمد اور جس حصہ میں کفار کے لیے بد دعا ہے اور اس کو سورة الخلع کہا جاتا تھا۔
امام ابن ابی شیبہ نے عبد الملک بن سوید الکاہلی سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی (رض) قنوت فجر میں ان دو سورتوں کی تلاوت کرتے تھے :” اللھم انا نستعینک ونستغفرک ونثنی ولا نکفرک ونخلع ونترک من یفجرک اللھم ایاک نعبد و لک نصلی ونسجد والیک نسعی ونحفد ونرجور حمتک ونخشی عذابک ان عذابک بالکفار ملحق “۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ ج ٢ ص ١٠٧۔ رقم الحدیث : ٧٠٢٨، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٦ ھ)
اسی طرح متعدد روایات میں حضرت ابن عباس، حضرت ابی بن کعب، حضرت عمر بن الخطاب اور حضرت ابن مسعود (رض) کا وتر میں ان سورتوں کی تلاوت کرنا منقول ہے۔ ( الدر المنثور ج ٨ ص ٦٣٧۔ ٦٣٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)
حالانکہ ہمارے پاس جو قرأت متواترہ سے ثابت قرآن مجید کا نسخہ ہے، اس میں کل ١١٤ سورتیں ہیں اور ان میں سورة الخلع اور سورة الحفد نہیں ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ ان سورتوں کی تلاوت منسوخ ہوچکی ہے اور صحابہ ان کی تلاوت کرتے تھے، ان کو اس کے نسخ کا علم نہیں تھا یا ان کا پڑھنا حضرت عثمان کے مصحف کے معلوم ہونے سے پہلے تھا یا وہ ان سورتوں کو قرآن مجید کی سورت کے لحاظ سے نہیں پڑھتے تھے بلکہ دعا کے اعتبار سے پڑھتے تھے اور رہا حضرت ابن مسعود کا معوذ تین کے قرآن ہونے سے انکار کرنا تو اول تو وہ صحت کے ساتھ ثابت ہیں اور ثانی یہ کہ وہ بھی حضرت عثمان کے مصحف کے معلوم ہونے سے پہلے تھا اور جب وہ مصحف معلوم اور مشہور ہوگیا تو پھر کسی کا اس سے اختلاف نہ رہا۔
یہ تحقیق مجھ پر اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعامات میں سے ہے، معوذ تین کے قرآن ہونے سے انکار کی حضرت ابن مسعود کی طرف نسبت کی پوری تفصیل اور تحقیق انشاء اللہ سورة الفلق کی تفسیر میں آئے گی۔
القرآن – سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 3