أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى وَاتَّقٰىۙ‏ ۞

ترجمہ:

پس جس نے ( اللہ کی راہ میں) دیا اور اللہ سے ڈر کر گناہوں سے بچتا رہا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس جس نے ( اللہ کی راہ میں دیا) اور اللہ سے ڈر کر گناہوں سے بچتا رہا۔ اور نیک باتوں کی تصدیق کرتا رہا۔ پس ہم عنقریب اس کو آسانی مہیا کریں گے۔ اور جس نے بخل کیا اور اللہ سے بےپرواہ رہا۔ اور نیک باتوں کی تکذیب کی۔ پس عنقریب ہم اس کو دشواری مہیاکریں گے۔ اور جب وہ ہلاکت کے گڑھے میں گرے گا تو اس کا مال اس کے کسی کام نہ آئے گا۔ ( اللیل : ١١۔ ٥)

اللیل : ١٠۔ ٥ کا خلاصہ

ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جس نے اللہ کے احکام پر عمل کیا اور اس کی نافرمانی اور ناشکری کرنے سے ڈر کر اس سے بچتارہا، جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لایا اور شرک اور نا شکری کرنے سے بچتا رہا۔ اور اس نے اللہ تعالیٰ کے وعد اور وعید یعنی ثواب اور عذاب کی خبر کی تصدیق کی۔ تو ہم اس کے لیے احکام شرعیہ پر عمل کرنا آسان کردیں گے اور اسلام کی حقانیت کے لیے اس کا سینہ کھول دیں گے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان نہیں لایا اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ثواب کی خبر سے بےپرواہ رہا۔ اور اللہ تعالیٰ کے وعد اور وعید کی تکذیب کی۔ تو ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی مخالفت کو اس شخص کے لیے آسان کردیں گے۔ حدیث میں ہے :

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک جنازہ میں تھے، آپ ایک تنکے سے زمین کریدنے لگے، پھر فرمایا : تم میں سے ہر شخص کا جنت میں یا دوزخ میں ٹھکانہ لکھ دیا گیا ہے، صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم اس لکھے ہوئے پر اعتماد نہ کرلیں اور عمل کو چھوڑ دیں ؟ آپ نے فرمایا : عمل کرتے رہو، ہر شخص کے لیے اسی عمل کو آسان کردیا گیا ہے جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے، سو جو شخص اہل سعادت سے ہے، اس کے لیے اہل سعادت کے اعمال آسان کردیئے جائیں گے اور جو شخص اہل شقاوت سے ہے، اس کے لیے اہل شقاوت کے اعمال آسان کردیئے جائیں گے، پھر آپ نے ان آیات کی تلاوت کی :” فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی۔ وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی۔ “ (اللیل : ٧۔ ٥)

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٤٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٤٧، سنن ابو دئود رقم الحدیث : ٤٦٩٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٣٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٨، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٦٧٨)

اللہ کی راہ میں دینے کے محامل

اللیل : ٥ میں فرمایا ہے : پس جس نے ( اللہ کی راہ میں) دیا اور اللہ سے ڈر کر گناہوں سے بچتا رہا۔

اللہ کی راہ میں دینے سے مراد یہ ہے کہ اس نے نیکی کے تمام راستوں میں اپنا مال خرچ کیا، مقروض لوگوں کا قرض ادا کیا، غلاموں کو آزاد کیا، جیسے حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے بہت گراں قیمت پر حضرت بلال (رض) کو امیہ بن خلف سے خرید کر آزاد کیا، اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اس نے مال کے حقوق بھی ادا کیے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت او عبادت کر کے اپنی جان کے حقوق بھی ادا کیے اور فرمایا : وہ اللہ سے ڈر کر گناہوں سے بچتا رہا، یعنی ہر قسم کے صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا رہا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 5