أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰىؕ ۞

ترجمہ:

پس عنقریب ہم اس کو آسانی ( جنت) مہیا کریں گے

اللیل : ٧ میں فرمایا : پس عنقریب ہم اس کو آسانی مہیا کریں گے۔

” یسریٰ “ کے مصداق میں متعدد اقوال

اس آیت میں ” یسریٰ “ کا لفظ ہے، اور اس کا معنی ہے : آسانی اور سہولت اور یہاں ” یسریٰ “ کے مصداق میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) ہم اس کو نیک اعمال کا طریقہ اور اچھے اور عمدہ اور صاف سے متصف ہونا سہولت سے عطا فرمائیں گے۔

(٢) بعض عبادات کو انجام دینے میں بہت مشکل اور دشواری ہوتی ہے لیکن جب انسان کو یہ یقین ہو کہ یہ عبادات اس کو جنت کی طرف سے لے جائیں گی تو اس کے لیے ان مشکل اور کٹھن عبادات کو انجام دینا آسان ہوجاتا ہے۔

(٣) جب انسان کو مال کی ضرورت ہو اور اس کو مال حرام آسانی سے مثلاً رشوت سے مل رہا ہو تو اس کے لیے اس مال حرام سے دامن کش ہونا بہت مشکل ہوتا ہے، اسی طرح جب اس پر شہوت کا غلبہ ہو اور کوئی عورت اس کو حرام کام پر غیب دے رہی ہو تو اس وقت اس حرام کام سے اجتناب کرنا نہایت دشوار ہوتا ہے، اور جب وہ دشمن سے انتقام لینے کے لیے سخت بےچین ہو اور اس کی موت کے گھاٹ اتارنے کا موقع آسانی سے میسر ہو، اس وقت اپنے غیظ و غضب پر قابو رکھنا بہت کٹھن ہوتا ہے، لیکن جس مسلمان کے دل میں خوف خدا اور تقویٰ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ان تمام مشکل کاموں کو آسان فرما دیتا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 7