وَاَمَّا مَنۡۢ بَخِلَ وَاسۡتَغۡنٰىۙ – سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 8
sulemansubhani نے Sunday، 2 November 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاَمَّا مَنۡۢ بَخِلَ وَاسۡتَغۡنٰىۙ ۞
ترجمہ:
اور جس نے بخل کیا اور اللہ سے بےپروا رہا
اللیل : ١٠۔ ٨ میں فرمایا : اور جس نے بخل کیا اور اللہ سے بےپرواہ رہا۔ اور نیک باتوں کی تکذیب کی۔ پس عنقریب ہم اس کو دشواری مہیا کریں گے۔
امام رازی کے جبر پر دلائل
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
ہمارے اصحاب نے اس آیت سے جبر کی صحت پر استدلال کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم عنقریب اس کو آسانی مہیا کریں گے۔ (اللیل : ٧) اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مومن کو نیک اعمال کی توفیق کے ساتھ خاص کرلیا ہے اور اس کے لیے اطاعت اور عبادت کو معصیت اور گناہ کے مقابلہ میں راجح کردیا ہے اور فرمایا : پس عنقریب ہم اس کو دشواری مہیا کریں گے۔ ( اللیل : ١٠) یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کو معصیت کی رسوائی کے ساتھ خاص کرلیا ہے اور اس کے نزدیک معصیت اور گناہ کو اطاعت اور عبادت کے مقابلہ میں راجح کردیا ہے اور جب تک رجحان بہ منزلہ وجوب نہ ہو تو کوئی فعل صادر نہیں ہوتا، اس کا معنی یہ ہے کہ مومن کے لیے نیک کام کرنا واجب ہے اور کافر کے لیے گناہ کرنا واجب ہے اور یہی جبر ہے
امام رازی فرماتے ہیں : قفال نے اس دلیل کے حسب ذیل جوابات دیئے ہیں :
(١) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مومن کے لیے نیک کاموں کی آسانی مہیا کرنے اور کافر کے لیے نیک کاموں کی دشواری مہیا کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے، اس سے مجازاً مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن پر اپنا لطف و کرم فرماتا ہے اور وہ لطف اس کو نیک کاموں کی طرف مائل کرتا ہے اور کافر پر اس کے کفر اور تکبیر کی وجہ سے وہ لطف و کرم نہیں فرماتا۔
(٢) مومن کے لیے نیک کاموں کی آسانی کرنے اور کافر کے لئے نیک کاموں کو دشوار کرنے کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف اسناد ہے وہ اسناد مجاز عقلی ہے، جیسے درج ذیل آیت میں بتوں کی طرف گمراہ کرنے کا اسناد مجاز عقلی ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا :
رَبِّ اِنَّہُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ ج (ابراہیم : ٣٦)
اے میرے رب ! ان بتوں نے بہت لوگوں کو گم راہ کردیا ہے۔
(٣) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ واقع میں مؤمنوں کے لیے نیک کام کرنا آسان ہوتا ہے اور کافروں کے لیے مشکل اور دشوار ہوتا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کے لیے نیک کام آسان کرتا ہے اور کافروں کے لیے مشکل بنا دیتا ہے۔
امام رازی ان تینوں جوابوں کا یہ کہہ کر رد فرماتے ہیں کہ ان آیتوں کو مجاز پر محمول کرنا ظاہر کے خلاف ہے، خصوصاً اس لیے کہ ہم نے دلیل عقلی قطعی سے یہ ثابت کردیا کہ جب تک کسی فعل کا صدور واجب نہ ہو وہ صادر نہیں ہوسکتا، پس مومن کا نیکی کو صادر کرنا اس وقت ہوگا، جب یہ صدور واجب ہو اور جب مومن سے نیکیوں کا صدور واجب ہو اور کافر سے ممتنع ہو تو یہی جبر ہے اور ہم نے اس صدور کو واجب اس لیے کہا ہے کہ مثلاً اگر مومن سے نیکیوں کا صدور ممکن ہو تو ممکن میں تو وہ وجود اور عدم برابر ہوتے ہیں تو پھر اس کے وجود کے لیے کسی مرجح کی ضرورت ہوگی، پھر ہم اس مرجح میں کلام کریں گے کہ وہ واجب ہے یا ممکن ہے، پھر یہ تو سلسلہ چلتا رہے گا تو پھر تسلسل لازم آئے گا اور وہ محال ہے یا پھر ماننا پڑے گا کہ وہ مرجح واجب ہے اور واجب اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی مؤمنوں کے لیے نیک اعمال کے صدور کی آسانی کو واجب کرتا ہے اور کافر کے لیے نیک اعمال کی دشواری کو واجب کرتا ہے اور یہی جبر ہے۔
پھر ہمارے اصحاب نے اس آیت کے ظاہر کو اس لیے مؤکد قرار دیا ہے کہ حدیث میں ہے :
حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو ہر شخص کا ٹھکانہ معلوم ہے کہ اس کا ٹھکانہ جنت میں ہے یا دوزخ میں، ہم نے کہا : کیا ہم اس پر اعتماد نہ کرلیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ! تم عمل کرتے رہو، ہر شخص کو اسی عمل کی توفیق دی جائے گی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٤٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٤٨، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٦٩٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٣٦)
امام رازی فرماتے ہیں : قفال نے اس حدیث کا یہ جواب دیا ہے کہ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ۔ (الذاریات : ٥٦ )
اور میں نے جن اور انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔
امام رازی قفال کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں : یہ جواب ضعیف ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کے جواب میں فرمایا : تم عمل کرتے رہو، یعنی ہر ایک کو اسی کام کی توفیق دی جائے گی جو اللہ کے علم میں ہے۔
(تفسیر کبیر ج ١١ ص ١٨٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
مصنف کی طرف سے امام رازی کے دلائل کے جوابات
قفال نے اللیل : ٧ میں آسانی مہیا کرنے کو اور اللیل : ١٠ میں دشواری مہیا کرنے کو مجاز پر محمول کیا اور کہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم مومن پر اپنا لطف و کرم کریں گے تو اس کے لیے نیک کام آسان کردیں گے اور کافر پر اپنا لطف نہیں کریں گے تو اس کے لیے نیک کام مشکل ہوں گے، امام رازی نے اس جواب کو یہ کہہ کر رد کردیا کہ ان آیات کو مجاز پر محمول کرنا ظاہر کے خلاف ہے۔
میں کہتا ہوں کہ امام رازی کا یہ رد کرنا صحیح نہیں ہے کہ کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ جب ظاہر آیت پر کوئی اشکال ہو تو اس کو مجاز پر مجہول کیا جاتا ہے اور یہاں ظاہر معنی پر یہ اشکال ہے کہ اگر مومن کے نیک کام بھی اللہ نے پیدا کیے اور کافر کے برے کام بھی اللہ نے پیدا کیے تو پھر مومن کے نیک کاموں پر تحسین کیوں کی جاتی ہے اور کافر کی برے کاموں پر مذمت کیوں کی جاتی ہے ؟ پھر حساب، میزان، جنت، دوزخ سب باطل ہوجائیں گے اور انبیاء علہیم السلام کو تبلیغ کے لیے بھیجنا بھی عبث قرار پائے گا، اس وجہ سے ان آیات کو مجاز پر محمول کیا جائے گا۔
امام رازی نے فرمایا ہے کہ دلیل عقلی قطعی سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے افعال کا خالق ہے، ہم کہتے ہیں کہ ہمارا اس پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بندوں کے افعال کا خالق ہے لیکن اللہ تعالیٰ بندوں کے ان ہی افعال کو پیدا فرماتا ہے جن کا وہ ارادہ کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کی تحسین اور مذمت کی جاتی ہے اور ان کو جزاء اور سزا دی جاتی ہے۔
امام رازی نے حضرت علی (رض) کی جس حدیث سے استدلال کیا ہے، اس سے جبر ثابت نہیں، اس سے تو صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے خلاف کچھ نہیں ہوتا، ازل میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کو اختیاردے گا تو وہ اپنے اختیار سے نیک کام کریں گے یا گناہ کریں گے اور جو کام وہ اپنے اختیار سے کریں گے، اسی کو اللہ تعالیٰ ان کے لیے آسان کر دے گا، سو اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر شخص کے جتنی یا دوزخی ہونے کا علم ہے، لیکن تم اس کے علم کی وجہ سے عمل کو ترک نہ کرو کیونکہ ازل میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ تم اپنے اختیار سے کیا کرو گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ان ہی کاموں کو آسان فرما چکا ہے۔ واللہ الحمد علیٰ ذالک
القرآن – سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 8