أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰىۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور نیک باتوں کی تصدیق کرتا رہا

اللیل : ٦ میں فرمایا : اور نیک باتوں کی تصدیق کرتا رہا۔

” حسنی “ کے متعدد مصداق

اس آیت میں ” حسنیٰ “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : حسن اور خوبی، اچھائی، عمدگی، نیکی اور سچائی۔

اس آیت میں نیک باتوں کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) ” حسنیٰ “ سے مراد ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ کی تصدیق ہے یعنی جس شخص نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور توحید اور رسالت کی تصدیق کی کیونکہ کفر کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور گناہوں سے بچنے کا آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔

(٢) ” حسنیٰ “ سے مراد بدنی عبادات اور مالی عبادات کے فرائض ہیں یعنی جس شخص نے بدنی اور مالی عبادات کے فرائض کو ادا کیا اور احکام شرعیہ کی تصدیق کی۔

(٣) ” حسنیٰ “ سے مراد یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو مال کا عوض اور بدل عطاء فرماتا ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے :

وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَہُوَ یُخْلِفُہٗ ج (سبا : ٣٩)

اور تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو، اللہ اس کا پورا بدل عطاء فرمائے گا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر روز جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان میں سے ایک دعا کرتا ہے : اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس مال کا بدل عطا فرما اور دوسرا دعا کرتا ہے : اے اللہ ! بخیل کے مال کو ضائع کر دے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٤٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠١٠، السنن الکبریٰ رقم الحدیث : ٩٧٨)

اس کی تایید اس آیت میں ہے :

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ ِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍط وَ اللہ ُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآئُ ط (البقرہ : ٢٦١ )

جو لوگ اپنے اموال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی طرح ہے جس نے سات خوشے اگائے اور ہر خوشے میں سو دانے ہوں اور اللہ جسے چاہتا ہے بڑھا چڑھا کردیتا ہے۔

اور جب کہ اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے والے کو اس کے خرچ کیے ہوئے مال سے زیادہ بدل عطاء فرمایا تو پھر وہ ” حسنیٰ “ ہے۔

(٤) ” حسنیٰ “ سے مراد ثواب ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد جنت ہے، ایک قول یہ ہے کہ ” حسنیٰ “ ایسا لفظ ہے جو ہر اچھی خصلت کی گنجائش رکھتا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 6