أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا يُغۡنِىۡ عَنۡهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ ۞

ترجمہ:

اور جب وہ ہلاکت کے گڑھے میں گرے گا تو اس کا مال اس کے کسی کام نہ آئے گا

اللیل : ١١ میں فرمایا : اور جب وہ ہلاکت کے گڑھے میں گرے گا تو اس کا مال اس کے کسی کام نہ آئے گا۔

” تردی “ کا معنی اور اس کا مصداق

اس آیت میں ’ تسردی “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : پہاڑ سے نیچے گرا، یا گڑھے میں گرا اور خود کو ہلاکت کے لیے پیش کیا۔

ہم نے ذکر کیا ہے کہ ” تردی “ کا معنی ہے : پہاڑ سے گرنا، اس کی تایید اس آیت سے ہوتی ہے۔

وَالْمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیْحَۃُ (المائدہ : ٣) اور جو جانور اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو اور جو کسی کے سینگھ مارنے سے مرا ہو۔

اور اللیل : ١١ میں مراد یہ ہے کہ اس کو تدفین کے وقت قبر میں گرا دیا گیا ہو یا اس کو جہنم کے گڑھے میں جھونک دیا گیا ہو، گویا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب ہم نے کافر کے لیے ” العسری “ کو مہیا کردیا اور وہ دوزخ ہے تو پھر وہ مال اس کے کسی کام نہ آئے گا، جس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے وہ بخل کرتا تھا اور اس مال کو اپنے وارث کے لیے چھوڑتا تھا اور اپنی آخرت کے لیے اس کو نہیں رکھتا تھا، قرآن مجید میں ہے :

وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنٰـکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّتَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰـکُمْ وَرَآئَ ظُہُوْرِکُمْ ج (الانعام : ٩٤)

اور تم ہمارے پاس تنہا تنہا آئے ہو، جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا اس کو تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ انسان اجر آخرت کے لیے جو نیک اعمال آئے بھیجتا ہے وہی اس کو نفع دیتے ہیں مثلاً وہ ایمان لا کر اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اللہ نے اس کے مال میں مسکینوں اور سائلوں کے جو حقوق رکھے ہیں ان کے وہ حقوق ادا کرے، نہ کہ وہ اپنے مال کو بچا بچا کر رکھے اور اپنے ورثاء کے لیے چھوڑ جائے۔

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی فضیلت میں سورة اللیل کا نزول

امام ابو منصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ لکھتے ہیں :

یہ سورت حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی فضیلت میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے حضرت بلال (رض) کو امیہ بن خلف اور ابی بن خلف سے ایک چادر اور دس اوقیہ سونے کے عوض خریدا، پھر ان کو اللہ کی راہ میں آزاد کردیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل کیں :

اور رات کی قسم جب وہ ( دن کو) چھپالے۔ اور دن کی ( قسم) جب وہ روشن ہو۔ اور اس ذات کی ( قسم) جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا۔ بیشک تمہاری کوشش ضرور مختلف ہے۔ ( اللیل : ٤۔ ١) یعنی امیہ بن خلف اور حضرت ابوبکر کی کوشش ضرور مختلف ہے، امیہ اور ابی ایمان لانے والوں کو عذاب دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور حضرت ابوبکر ایمان والوں کو عذاب سے نجات دلانے کی کوشش کررہے ہیں، پھر فرمایا : پس جس نے ( اللہ کی راہ میں) دیا اور اللہ سے ڈر کر گناہوں سے بچتا رہا۔ اور نیک باتوں کی تصدیق کرتا رہا۔ پس عنقریب ہم اس کو آسانی ( جنت) مہیا کریں گے۔ یعنی حضرت ابوبکر کو جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کیا اور حضرت بلال (رض) کو امیہ بن خلف سے مہنگی قیمت پر خرید کر آزاد کیا، ان کو ہم جنت عطاء فرمائیں گے، پھر فرمایا : اور جس نے بخل کیا اور اللہ سے بےپرواہ رہا۔ اور نیک باتوں کی تکذیب کی۔ پس عنقریب ہم اس کو دشواری ( دوزخ) مہیا کریں گے۔ یعنی امیہ بن خلف اور ابی بن خلف کو دوزخ میں جھونک دینگے، یہ تفسیر حضرت ابن مسعود (رض) سے منقول ہے۔ ( تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٢٧١، مؤسسۃ الرسالۃ، ناشرون، ١٤٢٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 11