اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَـكَ صَدۡرَكَۙ سورۃ نمبر 94 الشرح آیت نمبر 1
sulemansubhani نے Tuesday، 4 November 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَـكَ صَدۡرَكَۙ ۞
ترجمہ:
(اے رسول مکرم ! ) کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں کیا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے رسول مکرم ! ) کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں کیا۔ اور آپ سے (پرمشقت چیزوں کا) بوجھ اتار دیا۔ جس نے آپ کیپشت کو گراں بار کردیا تھا۔ اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر بلند کردیا۔ (الانشراح : ٤-١)
شرح صدر کا معنی
اس سے پہلے صورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو غائب کے صیغہ کے ساتھ تعبیر فرمایا تھا، کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا، پھر آپ کو ٹھکانا دیا اور اس سورت میں متکلم کے صیغہ کے ساتھ آپ سے خطاب فرمایا ہے : کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں کیا۔
اس آیت میں ” نشرح “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر ” شرح “ ہے ” شرح “ کا معنی ہے : نرم کرنا، وسیع کرنا اور کھولنا یعنی کیا ہم نے آپ کا سینہ وسیع نہیں کردیا، یا کیا ہم نے اسلام کے لئے آپ کا سینہ نرم کردیا۔
کفار کے طعن وتشنیع اور ان کی دل آزار باتوں سے آپ کو رنج ہوتا تھا اور آپ کا سینہ تنگ ہوتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کا سینہ کھول دیا اور وسیع کردیا۔
حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت کی :
فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام (الانعام : ١٢٥) پس اللہ جس کو ہدیات دینے کا ارادہ کرتا ہے، اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، جس سینہ میں نور داخل ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سینہ کو فراخ کردیتا ہے، آپ سے پوچھا گیا، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سینہ کے فراغ ہونے کی کوئی علامت بھی ہے ؟ آپ نے فرمایا : پھر انسان دھوکے کے گھر سے نکل کر دائمی راحت کے گھر میں آجاتا ہے اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری کرتا ہے۔ (المستدرک ج ٤ ص ٣١١ طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ٧٨٦٣، کنزالعمال ج ١ ص ٧٦ حافظ ذہبی نے کہا : اس کی سند کا ایک راوی عدی بن افضل ساقط ہے)
شرح صدر کے متعلق احادیث اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بچپن میں نبوت عطا کیا جانا
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شرح صدر کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :
عتبہ بن عبدالسلمی نے بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : یا رسول اللہ ! آپ کی نبوت کی پہلی نشانی کیا تھی ؟ آپ نے فرمایا : میں بنو سعد بن بکر کے ہاں اپنی دایہ کے پاس تھا، میں اور ان کا بیٹا بکریاں چرانے گئے ہم نے اپنے ساتھ ناشتہ نہیں لیا تھا، میں نے کہا : اے بھائی ! جائو ہماری ماں کے پاس سے ناشتہ لے آئو، میرا بھائی چلاگ یا اور میں بکریوں کے پاس رہا، پھر گدھ کی طرح دو سفید پرندے آئے، ایک نے دور سے سے کہا : کیا یہ وہی ہے اس نے کہا : ہاں، پھر وہ دونوں میری طرف جھپٹے، ان دونوں مجھے پکڑ کر زمین پر پیٹھ کے بل گرا دیا، پھر انہوں نے میرا سینہ چاک کیا اور میرا دل نکالا اور اس سے دو سیاہ لوتھڑے نکالے پھر ایک نے دوسرے سے کہا : برف کا پانی لائو، پھر انہوں نے اس پانی سے میرے پیٹ کو دھویا، پھر کہا، ٹھنڈا پانی الئو، پھر کہا : چھری لائو، پھر ٹھنڈا پانی میرے دل پر چھڑکا، پھر کہا : اس دل کو سیو اور اس پر نبوت کی مہر لگا دو ، پھر ایک نے دوسرے سے کہا، ان کو ایک پلڑے میں رکھو اور ان کی امت کو دوسرے پلڑے میں رکھو، پھر میں اپنے اوپر ہزاروں آدمیوں کو دیکھ رہا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ ان میں سے بعض مجھ پر گرپڑیں گے، پھر ان میں سے کسی نے کہا، اگر ان کا امت کے ساتھ وزن کیا گیا تو ان کا پلاڑا بھاری ہوگا، پھر میں اپنی رضاعی ماں کے پاس گیا اور ان کو اس واقعہ کی خبر دی، ان کو یہ خطرہ ہوا کہ کہیں مجھ پر کوئی افتادہ آجائے گی، انہوں نے کہا، میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں، وہ اپنے اونٹ پر سوار ہوئیں اور مجھے اپنے پیچھے پالان پر بٹھایا، حتیٰ کہ ہم میری والدہ (رضی اللہ عنہا) تک پہنچا گئے، میری رضاعی ماں نے کہا : کیا میں نے اپنی امانت ادا کردی اور اپنے ذمہ کو پورا کردیا ؟ اور وہ واقعہ بیان کیا جو مجھے پیش آیا تھا، میری والدہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوئیں اور فرمایا : میں نے دیکھا تھا کہ مجھ سے ایک نور نکلا تھا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے تھے۔ (مسند احمد ج ٤ ص 184-185 طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث :1181، المستدرک ج ٢ ص 616-617 تاریخ دمشق ج ١ ص 376، الوفاء لابن الجوزی ص 108، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ٧ مجمع الزوائد رقم الحدیئ ١٣٨٤١١، حافظ الہیثمی نے کہا : امام احمد کی سند حسن ہے، البدایہ والنہایہ ج ٢ ص ٢٣٣، دارالفکر، بیروت ١٤١٨ ھ)
اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بچپن میں شق صدر کیا گیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شق صدر کے اس واقعہ کو اپنی نبوت کی نشانی قرار دیا اور اس واقعہ سے اپنی نبوت کا پہچانا اور اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ آپ کو بچپن میں نبوت عطا کردی گئی تھی اور اس میں نبوت کا ثبوت ہے اور نبوت کے احکام اس وقت جاری ہوئے جب آپ کی عمر کے چالیس سال پورے ہوگئے اور آپ کو اعلان نبوت کا حکم دیا گیا، اس کی زیادہ وضاحت اس حدیث میں ہے :
امام ابونعیم الاصبہانی متوفی ٤٣٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابی بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا اور وہ سوال پر بہت حریص تھے، وہ آپ سے ان چیزوں کے متعلق سوال کرتے تھے، جن کے متعلق دوسرے سوال نہیں کرتے تھے، انہوں نے کہا، یا رسول اللہ ! آپ کی نبوت کی ابتداء کیسے ہوئی ؟ آپ نے فرمایا : جب تم نے یہ سوال کیا ہے تو سنو ! میں دس سال کی عمر میں صحرا میں جا رہا تھا، میں نے اپنے اوپر آدمیوں کی بات سنی، ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا کیا یہ وہی ہے ؟ دور سے نے کہا، ہاں ! ان دونوں نے مجھے پکڑ کر گرا دیا، پھر پیٹ شق کیا، حضرت جبریل سونے کے طشت میں پانی لا رہے تھے اور حضرت میکائیل میرے پیٹ کو دھو رہے تھے، پھر ان میں سے ایک نے دور سے سے کہا : ان کا سینہ چیرو اور جب میرا سینہ چیرا گیا تو مجھے کوئی درد نہیں ہوا (ایک روایت میں ہے :” بلادم ولا وجع “ نہ میرا خون نکلا اور نہ مجھے درد ہوا۔ مجمع الوائد رقم الحدیث : ١٣٨٤٣) پھر کہا : ان کا دل چیرو، پھر میرا دل چیرا گیا پھر کہا : اس میں سے کینہ اور حسد نکال دو ، پھر جمے ہوئے خون کے مشابہ کوئی چیز نکال کر پھینک دی گئی، پھر کہا : ان کے دل میں شفقت اور رحمت داخل کردو، پھر چاندی کی مثل کوئی چیز داخل کی، ان کے پاس کوئی شفوف تھا، اس کو چھڑکا، پھر میرے انگوٹھے کو نرمی سے دبا کر کہا، اب آپ جائیں، پھر میرے دل میں چھوٹوں کے لئے بہت رحمت اور بڑوں کے لئے دل میں بہت نرمی تھی۔ (دلائل النبوۃ رقم الحدیث : ١٦٦، مجمع الزوائد رقم الحدیث : ١٣٥٤٣، حافظ الہیثمی نے کہا ہے : اس حدیث کو عبداللہ بن احمد نے ” زوانئد المسند ‘ میں روایت کیا ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں، امام ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہے : (مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٣ ہ) الوفا باحوال المصطفیٰ لابن الجوزی رقم الحدیث : ١٢٩۔ ص ١١٢-١١١، دارالکتب العربیہ، بیروت، ١٤٠٨ ھ الدرالمنثور ج ٨ ص ٥٠٣ دار احیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ روح المعانی جز ٣٠ ص 299-300 دارالفکر، بیروت ١٤١٧ ھ)
تنبیہ : امام ابو نعیم اور امام ابن الجوزی نے شق صدر کے وقت آپ کی عمر دس سال لکھی ہے اور حافظ الہیثمی اور حافظ سیوطی نے اس وقت آپ کی عمر بیس سال لکھی ہے اور علامہ آلوسی نے دونوں روایتیں لکھی ہیں اور اس سے شق صدر کے تعدد پر استدلال کیا ہے۔
ان دونوں صحیح حدیثوں میں اس امر کی تصریح کی گئی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس عالم عناصر میں بچپن میں نبوت دی گئی اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ آپ کو اپنے نبی ہونے کا کیسے یقین ہوا تو آپ نے شق صدر کے اس مذکور الصدر واقعہ سے اپنی نبوت پر استدلال فرمایا : سو آپ کو بچپن میں نبوت عطا کردی گئی تھی، البتہ چالیس سال کی عمر میں آپ کو اعلان نبوت کا حکم دیا گیا۔
امام ابو نعیم کی روایت کردہ حدیث میں یہ تصریح ہے کہ جب بچپن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شق صدر کیا گیا تو آپ نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کو دیکھا اور جو شخص نبی نہ ہو اور وہ حضرت جبریل کو دیکھنے وہ آخر عمر میں نابینا ہوجاتا ہے، حدیث میں ہے :
حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عباس (رض) نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا، وہ آپ کے پیچھے سو گئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک مرد تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مڑ کر دیکھا اور فرمایا : اے میرے پیارے ! تم کب آئے ؟ انہوں نے کہا، ایک ساعت ہوئی، آپ نے پوچھا : کیا تم نے میرے پاس کسی شخص کو دیکھا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! میں نے ایک مرد کو دیکھا، آپ نے فرمایا : وہ جبریل (علیہ الصلوۃ والسلام) تھے۔
ولم یرہ خلق الاعمی الا ان یکون نبیا ولکن ان یجعل ذلک فی اخر عمرک۔ اور جبریل کو مخلوق میں سے جو بھی دیکھے گا وہ نابینا ہوجائے گا، سو اس کے کہ وہ نبی ہو، لیکن تم کو آخر عمر میں نابینا کیا جائے گا۔
پھر آپ نے حضرت ابن عباس کے لئے دعا کی : اے اللہ ! اس کو تاویل کا علم عطا کر اور اس کو دین کی سمجھ عطا فرما اور اس کو اہل ایمان سے رکھ۔ (المستدرک ج ٣ ص ٣٥٦ طبع قدیم، المستدرک ج ٦ رقم الحدیث : ٦٢٨٧ المتکبۃ العصریہ، ١٤٢٠ ھ)
حاکم نے کہا : یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اس کو روایت نہیں کیا۔
علامہ ابن حجر مکی متوفی ٩٧٤ ھ نے اس حدیث سے اس پر استدلال کیا ہے کہ جو شخص نبی نہ ہو اور وہ اس وقت حضرت جبریل کو دیکھنے میں منفرد ہو، وہ آخر عمر میں نابینا ہوجاتا ہے۔ (الفتاویٰ الحدیثیہ ص ٩١ داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٩ ھ)
اگر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بچپن میں نبی نہ ہوتے تو حضرت جبریل کو دیکھنے کی وجہ سے اپنے ارشاد کے مطابق آخر عمر میں نابینا ہوجاتے اور جب کہ ایسا نہیں ہوا تو معلوم ہوا جس وقت بچپن میں آپ نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کو یدکھا تھا تو اس وقت آپ نبی تھے، نیز آپ کا سینہ چیرا گیا، تو نہ آپ کو درد ہوا نہ آپ کا خون نکلا، اور آپ کے دل کو چیرا گیا اور آپ یہ تمام امور ملاحظہ فرما رہے تھے جب کہ عام بشر اور انسان کے لئے یہ امور متصور نہیں ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شق صدر سے اپنی نبوت پر استدلال فرمانا اور بچپن میں حضرت جبریل کو دیکھنے کے باوجود آپ کا نابینا نہ ہونا، اس امر پر واضح دلیل ہیں کہ اس وقت آپ نبی تھے۔
بعض انبیاء (علیہم السلام) کو بچپن میں نبوت کا عطا فرمایا جانا
عام طور پر مشہور یہ ہے کہ نبوت چالیس سال کی عمر میں عطا کی جاتی ہے، اس لئے کہا جاتا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی چالیس سال سے پہلے بنی نہ تھے، لیکن یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے، بعض انبیاء (علیہم السلام) کو بچپن میں نبوت دی گئی ہے، جیسے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو دو یا تین سال کی عمر میں نبوت دی گئی۔
قرآن مجید میں :
یبحی خذا الکتب بقوۃ واتینہ الحکم صیتاً ۔ (مریم : ١٢) اے یحییٰ ! کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لیجیے اور ہم نے ان کو بچپن میں نبوت عطا فرما دی۔
امام ابومنصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی حنفی المتوفی ٣٣٣ ھ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ نبوت کسی استحقاق کی بناء پر ملتی ہے، اس آیت میں ان کا رد ہے کیونکہ حضرت یحییٰ کو بچپن میں بغیر کسی استحقاق کے نبوت عطا کی گئی، اس سے معلوم ہوا کہ ان کو نبوت عطا فرمانا محض اللہ تعالیٰ کا انعام اور افضال تھا، ان کا استحقاق نہ تھا۔ (تاویلا اہل السنتہ ج ٣ ص 260 مئوسستہ الرسالتہ ناشرون، ١٤٢٥ ھ)
امام الحسین بن معسود الفراء البغوی المتوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان فرماتے ہیں : اس آیت میں حکم سے مراد نبوت ہے اور جب ان کو نبوت دی گئی تو ان کی عمر تین سال تھی۔ (معالم التنزیل ج ٣ ص 227، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٠ٌ)
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ فرما تھے ہیں :
اس آیت میں حکم کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں : (١) حکمت یعنی تورات کی فہم اور دین کی فقہ (ہ) عقل (و) اس سے مراد نبوت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بچپن میں ان کی عقل کو پختہ کردیا اور ان کی طرف وحی کی اور حضرت یحییٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کو بچپن میں اعلان نبوت کا حکم دیا تھا اور حضرت موسیٰ اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چالیس سال کی عمر میں اعلاننبوت کا حکم دیا تھا اور اس آیت میں حکم کو نبوت پر محمول کرنے کی دو دلیلیں ہیں :
(١) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کی صفات شریفہ بیان فرمائی ہیں اور یہ معلوم ہے کہ انسان کی سب سے اشرف صفت نبوت ہے اور مقام مدح میں نبوت کی صفت کو ذکر کرا دوسری صاف کی بہ نسبت زیادہ لائق ہے، لہٰذا اس آیت میں حکم کو نبوت پر محمول کرنا واجب ہے۔
(٢) حکم سے مراد وہ حکم ہے جس کو غیر پر نافذ کیا جاسکے اور ایسا حکم صرف نبی دیتا ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ بچپن میں نبوت کا ملنا کیسے معقول ہوسکتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معترض معجزہ کا قائل ہے یا نہیں۔
اگر وہ معجزہ کا قائل نہیں ہے تو اثبات نبوت کا دروازہ بند ہوجائے گا اور اگر وہ معجزہ کا قائل ہے تو بچہ میں عقل اور نبوت کا ہونا شق القمر اور سمندر کو چیرنے سے زیادہ مستعد نہیں ہے۔ (تفسیر کبیرج ٧ ص 516-517 داراحیاء التراث العربی، بیروت 1415 ھ)
علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :
اکثر مفسرین کا قول یہ ہے کہ حکم سے مراد نبوت ہے، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو سات یا دو یا تین سال کی عمر میں نبوت دی گئی اور اکثر انبیاء (علیہم السلام) کو چالیس سال سے پہلے نبی نہیں بنایا گیا۔ (روح المعانی جز ١٦ ص 105 دارالفکر، بیروت ١٤١٥ ھ)
نیز یہی سید محمود آلوسی لکھتے ہیں :
جب بعض انبیاء (علیہم السلام) کو بچپن میں دو یا تین سال کی عمر میں نبوت دی گئی ہے تو ہمارے نبی سیدنا محمد نض
زیادہ لائق ہیں کہ آپ کو ب ھی بچپن میں اس نوع کی نبوت دی جائے اور جس کو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقام کا علم ہے اور اس کی تصدیق ہے کہ آپ اللہ کے وہ حبیب ہیں، جو اس وقت بھی نبی تھے جب حضرت آدم (علیہ السلام) پانی اور مٹی میں تھے تو وہ اس کو مستبعد نہیں قرار دے گا۔ (روح المعانی جز ٢٥ ص ٩٢ دارالفکر بیروت ١٤١٧ ھ)
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدائشی نبی تھے اور آپ نے چالیس سال تک تبلیغ نہیں کی تو آپ کا گناہگار ہونا لازم آئے گا، اس لئے آپ پیدائش کے بعد چالیس سال تک نبی نہ تھے بلکہ ولی تھے، اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے چالیس سال تک تبلیغ اس لئے نہیں کی کہ اس وقت تک آپ کو تبلیغ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، آپ کو تبلیغ کرنے کا سب سے پہلا حکم ان آیات میں دیا گیا ہے۔
یایھا المدثر۔ قم فانذر۔ (المدثر : ٣-١) اے کپڑا لپیٹنے والے۔ اٹھیں اور لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔
علامہ سید محمود الٓسوی متوفی 1270 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
امام احمد، امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی اور محدثین کی ایک جماعت نے حضرت ابوسلمہ سے روایت کیا ہے کہ قرآن مجید کی سب سیپ ہلی سورت ” یایھا المدثر “ ہے (الی قولہ) اور اس حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت ’ داقراء باسم ربک الذی خلق “ سے پہلے نازل ہئی ہے اور حضرت عائشہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ’ داقراء باسم ربک الذی خلق “ پہلے نازل ہوئی ہے اور اکثر امت کا یہی مختار ہے۔ (روح المعانی جز 29 ص 199)
ہر چند کہ امام احمد اور امام ابونعیم کی روایت کردہ احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بچپن میں نبوت عطا کی گی تھی لیکن ملا علی قاری کی ایک عبارت اس کے خلاف ہے۔
ملا علی قاری کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اعلان نبوت سے پہلے ولی قرار دینا
قال السید نقلا عن الازھار اختلف العلماء فی ان نبینا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبل النبوۃ ھل کان متعبدا بشرع قیل کان علی شریعۃ ابراہیموقیل موسیٰ و قیل عیسیٰ و الصحیح انہ لم یکن متعبدا بشرح لنسخ الکل بشریعۃ عیسیٰ وشرکۃ کان قد حرف و بدل قال تعالیٰ ماکنت تدری ما الکتاب ولا الایمان ای شرائعہ واحکامہ وفیہ ان عیسیٰ کان مبعوثا لبنی اسرائیل فلایکون ناسخا لاولاد ابراہیم من اسمعیل قال العلماء وکان مئومنا باللہ ولم یعبد صنما قط اجماعاً و کا نت عبادتہ غیر معلومۃ لنا قال ابن برھان ولعل اللہ عزوجل جمعل خفاء ذلک و کتمانہ من جملۃ معجزاتہ قلت فیہ بحث ثم قال و قدیکون قبل بعثۃ النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یظھر شئی یشبہ المعجزات یعنی التی تسمی ارھاصا ویحتمل ان یکون نبیا قبل اربعین غیر مرسل و اما بع دالنبوۃ فلم یکن علی شرح سوی شریعتہ اجماعا والا ظھرانہ کان قبل الاربعین ولیا ثم بعدھا صادر نبیا ثم صار رسولا۔ (مرقاۃ المفاتیح ج ٣ ص 308، ملتان، مرقاۃ المفاتج ج ٣ ص 568، پشاور)
سیدنے الازھار سے نقل کر کے یہ کہا ہے : علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (اعلان) نبوت سے پہلے آیا کسی شریعت کے موافق عبادت کرتے تھے ؟ کہا گیا ہے کہ آپ شریعت ابراہیم پر تھے، ایک قول یہ ہے کہ شریعت موسیٰ پر تھے ایک قول یہ ہے کہ شریعت عیسیٰ پر تھے اور صحیح یہ ہے کہ آپ کسی شریعت کے موافق عبادت نہیں کرتے تھے کیونکہ تمام شرائع حضرت عیسیٰ کی شریعت سے منسوخ ہوچکی تھیں اور حضرت عیسیٰ کی شریعت محرف اور مبدل ہوچکی تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :” ماکنت تدری ما الکتاب ولا الایمان ‘ آپ از خود نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے، یعنی آپ سابقہ شرائع اور احکام کو نہیں جانتے تھے اور اس پر یہ اعتراض ہے کہ حضرت عیسیٰ نبی اسرائیل کی طرف مبعوث تھے، اس لئے وہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی شریعت کے لئے ناسخ نہیں تھے، علماء نے کہا ہے کہ ہمارے نبی اعلان نبوت سے پہلے اللہ پر ایمان رکھتے تھے اور اس پر اجماع ہے کہ آپ نے کسی بت کی عبادت نہیں کی اور ہمیں معلوم نہیں کہ آپ اس وقت کس طرح عبادت کرتے تھے۔ ابن برھان نے کہا، شاید اللہ عزوجل نے اس کو مخفی رکھا ہے اور اس کو چھپانا آپ کے معجزات میں سے ہے، میں کہتا ہوں، : اس میں بحث ہے، پھر سید نے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت (اعلان نبوت) سے پہلے کچھ ایسی چیزیں ظاہر ہوتی تھیں جو معجزات کے مشابہ ہوتی تھیں، جن کو ارھا ص کہا جاتا ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ آپ چالیس سال سے پہلے نبی ہوں (رسول نہ ہوں) اور اس پر اجماع ہے کہ اعلان نبوت کے بعد آپ اپنی شریعت کے علاوہ اور کسی شریعت پر نہ تھے اور زیادہ ظاہر یہ ہے کہ آپ چالیس سال سے پہلے ولی تھے، پھر اس کے بعد نبی ہوئے، پھر اس کے بعد رسول ہوئے۔
ملا علی قاری کی عبارت پر مصنف کا تبصرہ
ملا عل قاری کی مذکور الصدر عبارت میں حسب ذیل امور قابل توجہ ہیں :
(١) ملا علی قاری نے یہ نہیں لکھا کہ آپ لازماً اعلان نبوت سے چالیس سال پہلے ولی تھے بلکہ یہ لکھا ہے کہ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ آپ چالیس سال سے پہلے ولی تھے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ آپ اعلان نبوت سے پہلے بھی نبی تھے البتہ یہ زیادہ ظاہر نہیں ہے۔
(٢) ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ اور یہ بھی احتمال ہے کہ آپ چالیس سال پہلے نبی ہوں، رسول نہ ہوں، اور ملا علی قاری نے کسی دلیل سے اس احتمال کو رد نہیں کیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ ملا علی قاری کے نزدیک یہ بھی جائز ہے کہ اعلان نبوت سے چالیس سال پہلے آپ نبی ہوں۔
(٣) ملا علی قاری نے اس عبارت کے آخر میں لکھا ہے کہ اعلان نبوت کے بع آپ پہلے نبی ہوئے، پھر اس کے بعد رسول ہوئے، ملا علی قاری نیبغیر کسی دلیل کے یہ لکھا ہے کہ پہلے آپ کو نبوت ملی، پھر رسالت ملی، اس لئے ان کا یہ قول مردود ہے علماء امت میں سے کوئی بھی آپ کے حق میں نزول قرآن کے بعدنبوت اور رسالت کے فصل کا قائل نہیں ہے، جب آپ پر قرآن مجید کی پہلی آیت نازلہوئی تو آپ صاحب کتاب ہوگئے اور رسلو وہی ہوتا ہے جو صاحب کتاب ہو، اور ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے، نیز نبی تو آپ پہلے سے تھے، نزول قرآن کے بعد رسول بھی ہوگئے اور جب المدثر، ٢ نازل ہوئی
(٤) ہم متعدد احادیث صحیحہ سے یہ واضح کرچکے ہیں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بچپن میں نبوت عطا کردی گئی تھی اور ملا علی قاری کے قول میں اتنی قوت نہیں ہے کہ وہ ان احادیث صحیحہ کے مزاحم ہو سکے۔
عالم ارواح میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت عطا کیا جانا
عالم ارواح میں آپ کے لئے نبوت کا ثبوت متعدد احادیث سے ہے، ان میں سے ایک حدیث یہ ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے لئے نبوت کب واجب ہوئی فرمایا : جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٠٩، المستدرک ج ٢ ص ٦٠٩ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص 130 مشکوۃ رقم الحدیث : ٥٧٥٨ )
ملا علی بن سلطان محمد القاری المتوفی ١٠١٤ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
یعنی اس حال میں میرے لئے نبوت واجب ہوگئی، جب حضرت آدم (علیہ السلام) کا جسم زمین پر بغیر روح کے رکھا ہوا تھا، اس کا معنی یہ ہے کہ ابھی حضرت آدم (علیہ السلام) کی روح کا تعلق ان کے جسم کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔
اس حدیث کو امام ابن سعد نے ابن ابی الجدعا سے روایت کیا ہے۔ (الطبقات الکبریٰ ج ١ ص 118، دارالکتب العلمیہ، بیروت 1418 ھ) امام ابو نعیم نے ” حلیۃ الاولیائ “ میں میسرۃ الفخر سے روایت کیا ہے۔ (حلیۃ الاولیاء ج ٧ ص ١٢٢، دارالکتاب العربی، ١٤٠٧ ھ) اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر “ میں اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے :
کنت نبیا و آدم بین الروح و الجسد۔ میں اس حال میں نبی تھا، جب حضرت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔
اسی طرح جامع الاصول (ج ٨ ص ٤١٢۔ رقم الحدیث : ٦٣٥٠) میں ہے۔ ابن ربیع نے کہا، اس حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٥٩ طبع قدیم، مسند احمد ج ٣٤ ص ٢٠٢ رقم الحدیث : ٢٠٥٩٦ مئوسستہ الرسالتہ، بیروت) اور امام بخاری نے اس حدیث کو اپنی تاریخ میں روایت کیا ہے۔ (التاریخ الکبیر ج ٧ ص 251، رقم الحدیث :10944 دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٢ ھ) اور امام حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (المستدرک ج ٢ ص 6.9 طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ٤٢٠٩، المکتبتہ العصریہ، ١٤٢٠ ھ حافظ ذہبی نے بھی کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے) اور امام ابونعیم نے ” دلائل النبوۃ “ میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے مرفوعاً روایت کیا ہے :
کنت اول النبین فی الخق و آخرھم فی البعث (دلائل النبوۃ رقم الحدیث : ٣، دارالنفائس) میں تخلیق میں تمام نبیوں سے پہلا ہوں اور بعثت میں سب کے آخر ہوں۔
ملا علی قاری نے یہاں تک اس حدیث کے حوالہ جات ذکر کئے ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیج ج ١٠ ص ٢٨ مکتبہ حقانیہ، پشاور، مرقاۃ المفاتج ج ١١ ص ٥٨ ملتان)
حدیث مذکور کی تخریج مصنف کی طرف سے
ہم نے ملا علی قاری کی عبارت کے ضمن میں اس حدیث کی تخریج کی ہے، اب ہم از خود اس حدیث کی تخریج پیش کر رہے ہیں :
مسند احمد ج ٥ ص 127-128 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :2093، المستدرک ج ٢ ص 600، السنتہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث ٤١٠، الشریعتہ للآجری ص 416-421 مشکل الآثار للطحاوی رقم الحدیث : ٥٩٧٧ الکامل لابن عدی ج ٤ ص 1186 دلائل العبوۃ للبیہقی ج ۃ 184-185 اسد الغابتہ لابن الاثیر ج ٥ ص 258 تہذیب الکمال للمزی ج ١٤ ص 360، الاحادو المشافی رقم الحدیث نے اس حدیث کو امام احمد اور امام طبرانی کی سند سے ذکر کیا ہے اور لکھا ہے، ان دونوں حدیثوں کی سند صحیح ہے، مجمع الزوائد ج ٨ ص 224 الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٦٤٢٤ علامہ سیوطی نے حدیث صحیح کی رمزی کی ہے، المداوی رقم الحدیث : ٢٥٨٣ المعجم الصغیر ج ١ رقم الحدیث : ٣٥
امام محمد بن سعد متوفی ٢٣٠ ھ نے اس حدیث کو حسب ذیل متعدد طرق سے روایت کیا ہے :
حضرت عبداللہ بن شقیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ کب نبی تھے ؟ لوگوں نے کہا : چپ کر، چپ کر، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو چھوڑو، میں نبی تھا اور اس وقت حضرت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔ ابوالجدعا بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کب نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا : جس وقت حضرت آدم روح اور جسد کے درمیان تھے۔
مطرف بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : آپ کب نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا : جب آدم روح اور مٹی کے درمیان تھے۔
عامر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا، آپ کو کب نبی بنایا گیا ؟ آپ نے فرمایا : جب مجھ سے میثاق لیا گیا، اس وقت حضرت آدم روح اور جسد کے درمیان تھے۔ (الطبقات الکبریٰ ج ١ ص 118، دارالکتب العلمیہ، بیروت، 1418 ھ)
اس اعتراض کا جواب کہ عالم ارواح میں آپ کو نبی بنانے سے مراد یہ ہے کہ آپ اس وقت اللہ کے علم میں نبی تھے
بعض علما نے کہا کہ چالیس سال سے پہلے کسی کو بنی نہیں بنایا جاتا، اس لئے ان احادیث کی تاویل یہ ہے کہ آپ اللہ کے علم میں اس وقت نبی تھے، جب ہنوز حضرت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے، یا آپ کو اس وقت نبی بنانا مقدر کردیا گیا تھا، جب حضرت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم یا تقدیر اس وقت کے ساتھ خاص نہیں ہے، جب حضرت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ازل میں تھا، اور تقدیر بھی ازل میں تھی، اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی ہونے کی اللہ تعالیٰ کے علم کے ساتھ کیا تخصیص ہے، تمام انبیاء (علیہم السلام) کا نبی ہونا اللہ تعالیٰ کے علم میں اور اس کی تقدیر میں ہے، دوسرا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کو حقیقت پر محمول کرنے سے کون سا محال لازم آتا ہے، جو اس کو مجاز پر محمول کیا جائے اور چالیس سال کی عمر میں نبی بنانا قاعدہ کلیہ نہیں ہے۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو دو یا تین سال کی عمر میں نبوت عطا کی گئی ھتی، جیسا کہ ہم پہلے واضح کرچکے ہیں تو ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیدا ہوتے ہیں نبی بنادیا جائے تو اس میں کیا استبعاد ہے، جب کہ اس کے وقوع پر احادیث شاہد عادل ہیں۔ ہاں ! اعلان نبوت اور تبلیغ کا حکم چالیس سال کی عمر میں دیا جاتا ہے۔
علامہ سید محمود الٓوسی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :
ایک جماعت نے تصریح کی ہے کہ اعم اور اغلب یہ ہے کہ اعلان نبوت کا حکم چالیس سال کی عمر میں دیا جاتا ہے، جیسا کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے واقع ہوا۔ (روح المعانی ج ٢٦ ص ٣٠ دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)
مصنف کے جواب کی تائید دیگر اکابر علماء سے
حافظ جلال الدین سیوطی متوفی 911 ھ لکھتے ہیں :
شیخ تقی الدین سبکی نے اپنی کتاب (التعظیم و المنتہ) میں ” لتومنن بہ ولتنصرنہ ‘(ٓل عمران : ٨١) کی تقریر میں لکھا ہے۔
اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان کی بلندی اور آپ کے رتبہ عالیہ کیج و عظمت ہے وہ مخفی نہیں ہے اور اس کے ساتھ آیت میں یہ بات بھی موجود ہے کہ اگر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری ان کے زمانے میں ہوتی تو آپ ان سب کی طرف رسول ہوتے، سو آپ کی نبوت اور رسالت آدم (علیہ السلام) کے زمانے سے لے کر قیامت تک جمیع مخلوق کو عام ہے اور سب انبیاء کرام (علیہم السلام) اور ان کی امتیں آپ کی امت ہیں، لہٰذا آپ کا فرمان ’ دبعثت الی الناس کافۃ “ (مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے) آپ کے زمانہ سے لے کر قیامت تک کے لوگوں کے لئے مخصوص نہیں بلکہ اس سے پہلے لوگوں کو بھی شامل ہے اور اس سے آپ کے اس فرمان کی بھی وضاحت ہوگئی ” کنت نبیا و ادم بین الروح و الجسد “ (میں نبی تھا اور ابھی آدم (علیہ السلام) روح اور جسم کے درمیان تھے) اور جس شخص نے اس حدیث کا یہ مطلب بیان کیا کہ آپ علم الٰہی میں نبی تھے یعنی آپ مستقبل میں نبی ہوں گے، اس کی اس معنی تک رسائی نہیں ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم توجمیع اشیاء کو محیط ہے، پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس وقت نبوت سے موصوف کرنا اس مفہوم کو چاہتا ہے کہ آپ کی نبوت اس وقت میں ثابت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے آپ کے نام اقدس کو عشر پر لکھا ہوا دیکھا ” محمد رسول اللہ “ لہٰذا ضروری ہے کہ اس حدیث کا یہ معنی ہو کہ اس وقت آپ کی نبوت متحقق تھی اور اگر اس سے مراد فقط علم ہو کہ آپ مستقبل میں نبی ہوں گے تو آپ کے اس فرمان کی کوئی خصوصیت نہیں رہے گی کہ ” میں اس وقت نبی تھا جبکہ آدم (علیہ السلام) روح اور جسم کے درمیان تھے “ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تو تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی نبوت کو اس وقت اور اس سے پہلے جانتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس خصوصیت کو ثابت اور متحقق مانا جائے، اسی لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی امت کو اس خصوصیت سے آگاہ فرمایا تاکہ امت کو آپ کے اس مرتبہ کی معرفت حاصل ہو جو آپ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہے، پھر انہیں اس معرفت کے ذریعے خیر حاصل ہو۔
پس اگر تم کہو کہ ہم ارادہ رکھتے ہیں کہ ہم اس اضافی رتبہ کو سمجھیں تو (آیئے ہم بتلاتے ہیں ؎) بیشک نبوت ایک صفت ہے جس کے لئے موصوف کا ہونا ضروری ہے اور موصوف چلایس برس کے بعد ہوگا تو کس طرح آپ کے وجود سے اور آپ کو بھیجنے سے قبل آپ کو نبوت سے متصف کیا جاسکتا ہے پس اگر یہ اتصاف آپ کے لئے صحیح ہے تو آپ کے غیر کے لئے بھی اسی طرح صحیح ہوگا۔ ہم کہتے ہیں : بیشک احادیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روحوں کو جسموں سے پہلے پیدا فرمایا ہے، لہٰذا ” کنت نبیاً “ (میں نبی تھا) کے الفاظ سے آپ نے اپنی رح کی طرف اشارہ فرمایا، یا اپنی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا اور حقائق کو سمجھنے سے ہماری عقلیں قاصر ہیں۔ حقائق کو صرف ان کا خالق جانتا ہے یا وہ نفوس مبارکہ جانتے ہیں، نور الٰہی جن کی مدد کرتا ہے، پھر ان حقائق میں سے کسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے جس وقت چاہا کوئی (وصف) عطا فرما دیا، پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ حقیقت جو تخلیق آدم (علیہ السلام) سے پہلے موجود تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کو وصف نبوت عطا فرمایا اور اسی وقت اس کو فیض عطا فرمایا تو آپ نبی ہوگئے اور باری تعالیٰ نے آپ کے اسم کو عرش پر لکھ دیا اور ملائکہ اور دیگر مخلوق کو اس پر آگاہ کردیا تاکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو آپ کا مرتبہ ہے، وہ اسے پہچان لیں، سو آپ کی حقیقت اسی وقت موجود تھی، اگرچہ آپ کے جسد اطہر کا ظہور بعد میں ہوا، فی الجملہ آپ کی حقیت، اسی وقت سے بارگاہ الٰہیہ سے اوصاف شریفہ سے متصف ہے، صرف آپ کی بعثت اور تبلیغ کو مئوخر رکھا گیا، حتیٰ کہ آپ کا جسم اطہر اس کمال کو پہنچا جس سے (ظاہری) تبلیغ کا حصول ممکن ہو، اسی طرح بار گاہ الٰہی سے پہنچنے والی ہر وہ چیز مئوخر رکھی گئی، جس کا تعلق جسم شریف کے کمال کے ساتھ ہوسکتا تھا، لیکن آپ کی حقیقت معجل ہے، اس میں کوئی تاخر نہیں اور اسیر طح آپ کو نبوت کے حاصل ہونے اور کتاب و حکمت کے عطا ہونے میں بھی کوئی تاخر نہیں ہے، تاخر صرف بعثت فرمانے اور دنیا میں جلوہ گر ہونے میں ہے۔ (الخصائص الکبریٰ ج ۃ ص 8-11، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٠٥ ھ)
شیخ تقی الدین سبکی متوفی 756 ھ کی یہ عبارت درج ذیل کتب میں بھی مذکور ہے :
المواہب اللدنیہ ج ١ ص 31-32 دارالکتب العمیہ، بیروت ١٤١٦ ھ سبل الہدیٰ والرشاد ج ١ 81 دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٤ ھ نسیم الریاض ج ١ ص 241-242 دارالفکر بیروت، طبع قدیم، زرقانی علی المواہب ج ١ ص 72-74 دارالفکر، بیروت، ١٣٩٣ ھ انوار العرفان فی اسماء القرآن ص ٢٠٥-٢٠٣
عالم ارواح میں آپ کو نبوت عطا کرنے کے متعلق اکابر علماء کی تصریحات
عالمہ عبدالوہاب شعرانی حنفی متوفی 973 ھ لکھتے ہیں :
اگر تم یہ سوال کرو کہ کیا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کسی اور کو بھی اس وقت نبوی دی گئی، جب حضرت آدم (علیہ السلام) پانی اور مٹی میں تھے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ہم تک یہ حدیث نہیں پہنچی کہ کسی اور کو اس وقت نبوت عطا کی گئی، دیگر انبیاء (علیہم السلام) اپنے ایام رسالت محسوسہ میں نبی بنائے گئے۔
اگر تم یہ سوال کرو کہ آپ نے یہ کیوں فرمایا : میں اس وقت نبی تھا جب حضرت آدم پانی اور مٹی میں تھے، آپ نے یہ کیوں نہیں فرمایا : میں اس وقت انسان تھا یا موجود تھا ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے خصوصیت سے نبوت کا ذکر کر کے اس طرف اشارہ فرمایا کہ آپ کو تمام انبیاء (علیہم السلام) سے پہلے نبوت دی گئی، کیونکہ نبوت اسی وقت متحقق ہوتی ہے، جب اللہ تعالیٰ کی طر سے مقدر کی ہوئی شریعت کی معرفت ہوجائے۔ (الیواقیت والجواہر ص ٣٣٨ داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٨ ھ)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا متوفی 1340 ھ لکھتے ہیں :
علامہ شمس الدین ابن الجوزی اپنے رسالہ میلاد میں ناقل ہیں کہ حضور سید المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جناب مولیٰ المسلمین علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے فرمایا :
اے ابو الحسن ! بیشک (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رب العلمین کے رسول ہیں اور پیغمبروں کے خاتم اور روشن رو اور روشن دست و پاوالوں کے پیوشا تمام انبیاء ومرسلین کے سردار نبی ہوئے، جب کہ آدم آب و گل میں تھے۔ (تجلی الیقین ص ٨ حامد اینڈ کمپنی، لاہور، ١٤٠١ ھ)
اشرف العلماء علامہ محمد اشرف سیالوی لکھتے ہیں :
محبوب کریم (علیہ السلام) خارج میں بالفعل نبی تھے اور انبیاء (علیہم السلام) اس دیس میں آپ سے استفادہ فرماتے تھے، انبیاء (علیہم السلام) کی نبوت خارج میں موجود و متحقق نہیں تھی، صرف علم الٰہی میں نبی تھے، جب کہ آپ بالفعل اور خارج میں نبی تھے اور انبیاء و رسل اور ملاکئہ کے مربی اور فیض رساں تھے، جیسے کہ ” کنت اول النبین فی الخلق و آخرھم فی البعث “ اور ’ دقالوا متی رجہت لک النبوۃ قال و آدم بین الروح والجسد “ سے ظاہر ہے۔ (ہدایۃ المتذبذب الحیران ص 301-302، جامعہ غوثیہ مہریہ منیر السلام، سرگودھا)
سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بچپن میں نبوت عطا کرنے کی ایک اور دلیل
سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عالم ارواح میں نبی تھے اور انبیاء (علیہم السلام) کو تبلیغ بھی فرما رہے تھے، صاحب الازھار اور ملا علی قاری وغیرھم کے نزدیک آپ اس عالم عناصر اور جہان بشریت میں نبی نہیں تھے، سوال یہ ہے کہ اس عالم میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے نبوت کیوں سلب فرما لی، جب کہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ اگر اس کی نعمت پر شکر ادا کیا جائے تو وہ اس نعمت میں اضافہ فرماتا ہے :
(لائن شکرتم لازیدنکم (ابراہیم : ٧) اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم کو ضرور زیادہ دوں گا۔
اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارواح میں نعمت نبوت کا شکر ادا کر رہے تیھ، کیونکہ آپ ارواح انبیاء کو تبلیغ فرما رہے تھے اور نعمت کا شکر یہی ہے کہ جس مقصد کے لئے نعمت دی ہے اس کو پورا کیا جائے، سو جب آپ عالم ارواح میں نعمت نبوت کے شکر گزار تھے تو اس عالم بشریت میں آپ نبوت کے اور زیادہ مستحق تھے، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بچپن میں نبوت عطا کئے جانے کے دلائل طنی ہیں، قطعی نہیں ہیں، اس طرح اس کے انکار کے دلائل بھی ظنی ہیں اور کسی جانب قطعیت نہیں ہے، جن علماء نے اپنی تحقیق کی بناء پر بچپن میں آپ کو نبوت عطا کئے جانے کا انکار کیا ہے، ان پر کسی قسم کی بدعقیدگی کا حکم لاگو نہیں ہوگا، تاہم ہمارے ندیک ” مسند احمد “ اور ” دلائل النبوۃ “ کی احادیث کا بناء پر آپ کو بچپن میں نبوت عطا کردی گئی تھی اور آپ کا بچپن میں حضرت جبریل (علیہ السلام) کو دیکھنا بھی آپ کے نبی ہونے کو مستلزم ہے اور قرآن مجید میں ہے :
وللاخرۃ خیر لک من اولیٰ ۔ (الضحیٰ : ٤) آپ کی ہر بعد والی ساعت، پہلی ساعت سے افضل ہے۔
اس آیت کا عموم بھی عالم ارواح کے بعد عالم بشریت میں آپ کی افضل نبوت کا متقاضی ہے اور جبحضرت یحییٰ کو دو یا تین سال کی عمر میں نبوت عطا کی گئی تو آپ جو رحمتہ اللعلمین اور ختام النبین ہیں، قائد المرسلین اور محبوب رب العلمین ہیں، وہ کیوں کر اس نعمت سے محروم ہوں گے !
معراج کے موقع پر شق صدر
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوذر (رض) یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس وقت میں مکہ میں تھا تو میرے گھر کی چھت میں شگاف کیا گیا، پھر حضرت جبریل (علیہ السلام) نازل ہوئے، پھر میرے سینہ کو کھولا گیا، پھر اس کو زمزم کے پانی سے دھویا گیا، پھر سونے کا ایک طشت لایا گیا، جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، پھر اس میں جو کچھ تھا، اس کو میرے سینہ میں ڈال دیا گیا، پھر میرے سنیہ کو بند کردیا گیا۔ الحدیث (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٣ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٣١٤)
حضرت انس بن مالک (رض) حضرت مالک بن صعصہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یہ حدیث بیان کی کہ جس وقت میں حطیم میں یا حجر میں لیٹا ہوا تھا، میرے پاس امیک آنے والا آیا، پھر اس نے میرے حلقوم سے میری ناف تک سینہ کو چاک کردیا، پھر میرے دل کو نکالا گیا، پھر سونے کا ایک طشت لایا گیا، جو ایمان سے بھرا ہوا تھا پھر میرے دل کو دھویا گیا، پھر میرے سینہ کو بھر دیا گیا، پھر براق کو لایا گیا۔ الحدیث (صحیح ال بخاری رقم الحدیث : ٣٨٨٧، حیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٤ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٤٦ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٤٨ )
آپ کا شق صدر کتنی بار ہوا ؟
حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی 582 ھ اور حافظ محمود بن احمد عینی متوفی 855 ھ لکھتے ہیں :
علامہ کرمانی نے کہا ہے کہ بعض علما نے معراج کی شب شق صدر کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ شق صدر صرف آپ کے بچپن میں (چار یا پانچ سال کی عمر میں) ہوا ہے، جب آپ بنو سعد میں تھے اور یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ آپ کا شق صدر بعثت (اعلان نبوت) کے وقت بھی ہوا ہے اور معراج کی شب بھی ہوا ہے اور اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ یہ خلاف عادت امور سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تحت ہے اور اس میں معجزہ کا اظہار ہے اور شق صدر کی حکمتیں حسب ذیل ہیں :
(١) بچپن میں آپ کا شق صدر ہوا تاکہ آپ کی نشو و نماکامل ترین احوال میں ہوا اور آپ شیطان سے معصوم رہیں، یہی وجہ ہے کہ صحیح مسلم میں حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ آپ کے سینہ سے جما ہوا خون نکال کر پھینک دیا اور کہا : یہ آپ میں شیطان کا حصہ تھا۔
(٢) بعثت کے وقت آپ کا شق صدر ہوا تاکہ آپ کے قلب میں وہ چیز ڈالی جائے، جس سے آپ کا قلب قوی ہوجائے اور وحی کو قبول کر کسے۔
(٣) معراج کے موقع پر آپ کا شق صدر کیا گیا تاکہ آپ کے قلب میں اللہ تعالیٰ سے مناجات کی صلاحیت حاصل ہو۔ (عمدۃ القاری ج ١٧ ص 30-31 فتح الباری ج ٧ ص 604-605)
مصنف کے نزدیک تین مرتبہ شق صدر کی حکمت یہ ہے : پہلی بار شق صدر کیا گیا تاکہ آپ کے دل میں نبوت کے عمل الیقین کی استعداد رکھی جائے اور دوسری بار شق صدر کیا گیا تاکہ آپ کے دل میں نبوت کے عین الیقین کی استعداد رکھی جائے اور تیسری بار شق صدر کیا گیا تاکہ آپ کے دل میں نبوت پر حق الیقین کی استعداد رکھی جائے۔
آپ کے قلب کو سونے کے طشت میں رکھنے، اس کو زمزم سے دھونے اور اس میں ایمان … اور حکمت رکھنے کی تشریح
حافظ بدر الدین عینی اور حافظ شہاب الدین عسقلانی لکھتے ہیں :
آپ کے قلب کو سونے کے طشت میں رکھا گیا حالانکہ مردوں کے لئے سونے کا استعمال ممنوع ہے، اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :
(١) آپ کا قلب قلوب میں سے افضل ہے، اس لئے اس کو رکھنے کے لئے سب سے افضل دھات کا برتن منتخب کیا گیا (٢) سونے کی آگ نہیں کھاتی جس طرح آپ کے جسم کو آگ نہیں جلا سکتی (و) سونے کو مٹی نہیں کھا سکتی، جس طرح آپ کے جسم کو مٹی نہیں کھا سکتی (٤) سونے کو زنگ نہیں لگتا (٥) سونے میں تمام جواہر کی بہ نسبت زیادہ ثقل ہے جیسے وحی میں ثقل ہوتا ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ سونے کا استعمال مردوں کے لئے حرام ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ تحریم سے پہلے کا واقعہ ہے دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ تحریم دنیا کے احوال کے ساتھ مخصوص ہے اور معراج کے غالب احوال کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے کیونکہ اس کے اکثر احوال کا تعلق غیب سے ہے۔ اس حدیث میں مذکور ہے کہ اس طشت میں ایمان اور حکمت تھے، اس پر اعترضا ہے کہ ایمان اور حکمت از قبیل معانی ہیں، وہ طشت میں کیسے ہوسکتے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ ایمان اور حکمت کے معانی کو جسم کی شکل دے دی گئی تھی، جس طرح اعمال کا وزن کیا جائے گا۔
نیز اس حدیث میں آپ کے قلب کو پانی سے دھونے کا ذکر ہے، اس پانی سیم راد زمزم کا پانی ہے اور اس سے مقصود زمزم کو آپ کے قلب کی برکت پہنچانا ہے۔ ایمان سے مراد ایمان کی قوت ہے اور حکمت سے مراد معانی قرآن کی فہم ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١٧ ص ٣١ فتح الباری ج ٧ ص ٦٠٥)
شق صدر پر اعتراضات اور ان کے جوابات
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :
معتزلہ نے شق صدر کی احادیث پر اعتراضات کئے ہیں، وہ اعترضاتا اور ان کے جوابات حسب ذیل ہیں :
(١) شق صدر کی روایات کا تعلق آپ کے بچپن سے ہے، اور وہ معجزات ہیں، اس وقت تک آپ نے اعلان نبوت نہیں فرمایا تھا تو اعلان نبوت سے پہلے معجزات کیسے صادر ہوئے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اعلان نبوت سے پہلے نبی سے جو خلاف عادت امور ظاہر ہوں، ان کو ارہاص کہتے ہیں اور یہ بہ کثرت انبیاء سے ثابت ہیں۔
(٢) قلب کو دھونے سے لازم آتا ہے کہ اس میں گناہ ہوں یا میل ہو، نیز دھویا جسم کو جاتا ہے اور گناہ اور میل از قبیلی معانی ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دھونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ کے گناہ ہوں، بلکہ زمزم کے پانی کو برکت پہنچانے کے لئے آپ کے قلب اطہر کو دھویا گیا۔
(٣) آپ کے قلب سے جو جما ہوا خون نکالا گیا، اس کے متعلق حدیث میں ہے : یہ آپ کے قلب میں شیطان کا حصہ ہے، یہ آپ کی شان کے لائق نہیں ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس جمے ہوئے خون سے مراد وہ چیز ہے جو ہر انسان کے قلب میں ہوتی ہے، اسی کی وجہ سے انسان گناہوں کی طرف مئال ہوتا ہے اور عبادات کو ترک کرتا ہے، اور جب آپ کے قلب سے اس چیز کو زائل کردیا تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ ہمیشہ اطاعت اور عبادت کرتے رہیں گے اور گناہوں سے مجتنب رہیں گے اور اس سے آپ کے قلب میں فرشتوں کے لئے یہ علامت ہوجائے گی کہ آپ گناہوں سے معصوم ہیں اور اللہ تعالیٰ مالک ہے، وہ اپنی مخلوق پر جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اور جو چاہتا ہے وہ حکم دیتا ہے۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 205-206 داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)
اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظیم فضیلت ہے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے شرح صدر کے لئے دعا کی تھی :
رب اشرح لی صدر ی۔ (طہ : ٢٥) اے میرے رب ! میرے لئے میرا سینہ کھول دے۔ اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے طلب دعا کے فرمایا :
الم نشرح لک صدرک۔ (الانشراح : ١) کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو نعمتیں دوسرے نبیوں کو مانگنے سے ملتی تھیں، آپ کو وہ نعہمتیں بن مانگے عطا کی جاتی تھیں۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 94 الشرح آیت نمبر 1