فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡۙ – سورۃ نمبر 94 الشرح آیت نمبر 7
sulemansubhani نے Tuesday، 4 November 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡۙ ۞
ترجمہ:
پس جب آپ (تبلیغ سے) فارغ ہوں تو عبادت پر کمر بستہ ہوں
الانشراح : ء میں فرمایا : پس جب آپ (تبلیغ سے) فارغ ہوں تو عبادت پر کمربستہ ہوں۔
تبلیغ کے بعد اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کوشش کرنا
قتادہ، ضحاک اور مقاتل نے کہا، جب آپ فرض نماز سے فارغ ہوں تو پھر کوشش کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے رغبت کے ساتھ دعا کریں، آپ اللہ تعالیٰ سے رغبت کے ساتھ سوال کریں تو وہ آپ کو عاط فرمائے گا۔
شعبی نے کہ کا : جب آپ نماز میں تشہد پڑھنے سے فارغ ہوں تو پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی دنیا اور آخرت کی بہتری کے لئے دعا کریں۔
علی بن طلحہ نے کہا : اپنی فراغت کے اوقات کو اللہ تعالیٰ کی نفلی عبادات کے ساتھ خاص کرلیں۔
ایک قول یہ ہے کہ جب آپ ایک عبادت سے فارغ ہوں تو اس کے متصل دوسری عبادت شروع کردیں، حتیٰ کہ آپ کا کوئی وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت سے خالی نہ گزرے۔
ہمارے نزدیک مختاریہ ہے کہ جب آپ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور کار تبلیغ سے فارغ ہوں تو پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت پر کمربستہ ہوں۔
اسی طرح ہمارے خطباء اور واعظین جو ہر روز رات گئے تک جلسوں میں عوام سے خطاب کرتے ہیں، ان پر بھی لازم ہے کہ وہ تبلیغی خطابات سے فارغ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کوشش کریں، لیکن ہمارے زمانہ میں کم علماء ایسے ہیں عام طور پر مقررین اور واظمین تبلیغی اجتماعات اور خطابات سے فارغ ہو کر آدھی رات کے بعد گھر لوٹتے ہیں پھر سو جاتے ہیں اور فجر کی نماز نکل جاتی ہے اور باقی فرض نمازوں میں بھی تساہل کرتے ہیں، میں نے ایسے علماء کو دیکھا ہے جو دینی مدارس کی پر شکوہ عمارت بناتے ہیں اور نماز نہیں پڑھتے، اللہ تعالیٰ ہمارے واعظین، مقررین اور مہتمین کو عبادت کی طرف راغب کرے اور ہماری اور ان کی مغفرت فرمائے، آمین قرآن مجید میں ہے :
کبرمقتاً عنداللہ ان تقولوا مالا تفعلون۔ (الصف ٣) اللہ کے نزدیک یہ بہت موجب غضب ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہیں کرتے۔
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شب معراج میں نے ایسے مردوں کو دیکھا، جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے کہا : اے جبریل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ آپ کی امت کے وہ خطباء ہیں، جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے، حالانکہ وہ قرآن کی تلاوت کرتے تھے، کیا وہ عقل نہیں رکھتے تھے۔ (مسند احمد ج ٣ ص 240 طبعقدیم، مسند احمد ج ٢١ ص ١٥٨ رقم الحدیث : ١٣٥١٥ مسند عبد بن حمید رقم الحدیث : ١٢٢٢ شعیب الارنووط نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے، حاشیہ مسند احمد رقم الحدیث : ١٣٥١٥)
حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا، پھر اس کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا، اس کی انتڑیاں آگ میں نکل ائٓیں گی اور وہ اس طرح چکر لگا رہا ہوگا جیسے گدھا چکی کے گرد چکر لگاتا ہے، پھر دوزخی اس کے گرد جمع ہو کر کہیں گے : اے فلاں شخص تم کو کیا ہوا ؟ کیا تم ہم کو نیکی کا حکم نہیں دیتے تھے اور برائی سے نہیں روکتے تھے ؟ وہ کہے گا : میں تم کو نیکی کا حکم دیتا تھا اور خود نہیں کرتا تھا، اور میں تم کو برے کاموں سے روکتا تھا اور خود برے کام کرتا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3267 صحیح مسلم رقم الحدیث :2989 (سنن ترمذی رقم الحدیث :4862 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :3982)
اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دے اور ہمیں ایسے انجام سے محفوظ رکھے اور ہمیں حسن خاتمہ عطا فرمائے۔ (آمین)
القرآن – سورۃ نمبر 94 الشرح آیت نمبر 7